پاک انگلینڈ، پہلا ٹیسٹ، تجربہ جیت گیا!

پاک انگلینڈ، پہلا ٹیسٹ، تجربہ جیت گیا!

  

اولڈ ٹریفورڈ گراؤنڈ(مانچسٹر) میں تجربے نے نوجوانوں کی صلاحیت کو پچھاڑ دیا اور انگلینڈ کرکٹ ٹیم نے پہلے ٹیسٹ میچ میں پاکستان کرکٹ ٹیم کو تین وکٹوں سے شکست دے کر تین میچوں کی سیریز میں ایک صفر کی برتری حاصل کر لی ہے۔ انگلینڈ کی ٹیم کو پاکستان کے نوجوان باصلاحیت باؤلروں کی اچھی باؤلنگ کی وجہ سے شکست کا سامنا تھا، لیکن برطانوی باؤلروں اور بیٹسمینوں کے تجربے نے یہ مشکل منزل وکٹ کیپر بیٹسمین بٹلر اور آل راؤنڈر ووکس کی شاندار پارٹنر شپ کی بدولت حاصل کر لی۔ ووکس84 رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ رہے، البتہ بٹلر75رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان اظہر علی نے ٹاس جیت کر پہلے کھیلنے کا درست فیصلہ کیا اور اوپنر شان مسعود کی ڈیڑھ سنچری کی بدولت 326رنر کا ہدف دینے میں کامیاب رہے۔ انگلینڈ کی ٹیم اپنی پہلی اننگز میں پاکستان کے نوجوان باؤلروں کی نپی تلی اور جاندار باؤلنگ کے عوض 200رنز بنا سکی، تاہم پاکستان کے بلے باز دوسری اننگز میں وکٹ پر نہ ٹھہر سکے،انگریز باؤلروں نے تجربے کی بنیاد پر ان کو169رنز پر ڈھیر کر دیا، اِس کا اندازہ سٹیورٹ براڈ کی طرف سے سنچری میکر شان مسعود کو آؤٹ کرنے سے ہوتا ہے کہ اس اوور میں انہوں نے پہلے چار بال آف سائیڈ کی طرف نکالے اور پانچواں بال اچانک لیگ کی طرف سوئنگ کرایا، شان مسعود نہ تو یہ بال چھوڑ سکے اور نہ اچھی شارٹ کھیل پائے اور وکٹ کیپر بٹلر کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہو گئے۔ پاکستان کرکٹ ٹیم نے 277 رنز کا ہدف دیا، انگلینڈ والے پہلی پانچ وکٹیں 145 رنز پر گنوا بیٹھے، جس کے بعد بٹلر اور   ووکس نے سنبھال لیا، کپتان اظہر باؤلر کی مناسب تبدیلی نہ کرنے سے باؤلر دباؤ کا  شکار  ہو گئے جس کی وجہ سے مزید صرف دو کھلاڑی آؤٹ ہوئے اور انگلینڈ نے ساڑھے تین دن میں میچ جیت لیا جو بات سمجھ سے باہر ہے وہ یہ کہ شاداب خان کو دوسرے سپنر(آل راؤنڈر) کے طور پر کھلایا گیا،لیکن اسے باؤلنگ کا معقول موقع نہ دیا گیا۔ اسی طرح جب بٹلر اور  ووکس جم کر کھیلے، اگر  باؤلر دباؤ میں تھے تو غیر معروف باؤلر(شان مسعود) سے دو تین اوور کرا کے پارٹنر شپ توڑنے کی کوشش کیوں نہ کی گئی۔ بہرحال اس میچ سے سبق حاصل کر کے اگلے میچ کے لئے گھبرا کر تبدیلیاں کرنے کی بجائے بہتر حکمت عملی کا مظاہرہ کرنا ہو گا،ابھی مزید دو ٹیسٹ میچ باقی ہیں۔

مزید :

رائے -اداریہ -