کشمیر،سعودی عرب اور پاکستان

کشمیر،سعودی عرب اور پاکستان
کشمیر،سعودی عرب اور پاکستان

  

پاکستان کے ساتھ سعودی عرب کے شروع دن سے خصوصی تعلقات قائم ہیں۔ پاکستان اور سعودی عرب میں دوستی کا پہلا معاہدہ شاہ ابن سعود کے زمانے میں 1951ء میں ہوا تھا۔ شاہ فیصل کے دور میں ان تعلقات کو بہت فروغ ملا۔ سعودی عرب ان چند ممالک میں ہے، جنہوں نے سرکاری سطح پر مسئلہ کشمیر میں پاکستان کے موقف کی کھل کر تائید کی۔ ستمبر1965ء کی پاک بھارت جنگ میں سعودی عرب نے پاکستان کی بڑے پیمانے پر مدد کی۔شاہ فیصل کے دور حکومت میں سعودی عرب نے 1973ء کے سیلاب میں مالی امداد فراہم کی اور دسمبر 1975ء میں سوات کے زلزلہ زدگان کی تعمیر و ترقی کے لئے بھی ایک کروڑ ڈالر کا عطیہ دیا۔اس کے علاوہ جب بھی پاکستان کو معاشی مسئلہ در پیش ہوا سعودی عرب نے ہمیشہ آگے بڑھ کر سنبھالا دیا۔1971ء میں مشرقی پاکستان کی پاکستان سے علیحدگی پر شاہ فیصل کو بہت رنج ہوا اور انہوں نے پاکستان کی جانب سے تسلیم کرنے کے بعد بھی بنگلہ دیش کو تسلیم نہ کیا۔ پاکستان کے عوام ان کو آج بھی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ہر دور میں پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات مفادات کی کسوٹی کی بجائی روحانی تعلق کی وجہ سے پروان چڑھتے رہے۔ ابھی جب عمران خان صاحب اقتدار میں آئے تو سعودی عرب نے پاکستان کے خراب معاشی حالات کی وجہ سے تین ارب ڈالر کا قرضہ پاکستان کو بغیر سود کے فراہم کیا اور تین ارب ڈالر پاکستان کے اکاؤنٹ میں جمع کرائے۔پاکستان پر جب بھی کڑا وقت آیا سعودی عرب نے ہمیشہ ایک بھائی ہونے کا حق اد اکیا اور پاکستان کو اس مشکل میں سے نکالنے کی بھرپور کوشش کی۔

اب اگر ہم موجودہ حکومت اور سعودی عرب کے تعلقات کو دیکھیں تو عمران خان نے بھی منتخب ہونے کے بعد سب سے پہلا دورہ سعودی عرب کا کیا، جس میں سعودی عرب نے پاکستان کی بھرپور مالی امداد کا یقین دلایا۔ حال ہی میں ایک ٹی وی انٹر ویو میں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے سعودی عرب کو کشمیر کے معاملے میں پاکستان کا کھل کر ساتھ دینے کی اپیل کی اور کہا کہ اگر سعودی عرب ہمارا ساتھ نہیں بھی دیتا تو ہم سعودی عرب کے بغیر ہی یہ مسئلہ حل کرنے کی کوشش کریں گے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ سعودی عرب ہمارا محسن ہے، ہمیں احساس ہے کہ کتنے پاکستانی وہاں ہیں، ہمیں اس چیز کا بھی احساس ہے کہ انہوں نے آڑے وقتوں میں ہمارا ساتھ دیا، اس زمین کی حفاظت کے لیے ہم اپنی جان دینے کو تیار ہیں، لیکن انہیں ہمارے عوام کی خواہش کو ذہن میں رکھنا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم سمجھتے ہیں سعودیہ کی جو اہمیت ہے وہ بہت ہے اور ان کا وزن زیادہ ہے، اگر وہ ہمارے پلڑے میں پڑ جاتا ہے تو او آئی سی کا اجلاس مناسب ہوسکتا ہے۔ایک ارب ڈالر واپسی کے سوال پر شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے سعودیہ کی معیشت پر کافی دباؤ آیا ہے، تیل کی قیمتیں جس طرح گری ہیں یہ ایک تاریخی حقیقت ہے، اس کا اثر ان کی معیشت پر پڑا، انہوں نے ہماری مشکلات کو سمجھا اور ہم نے ان کی مشکلات کو سمجھنا ہے ان کے لئے ہم کل بھی حاضر تھے آج بھی حاضر ہیں۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کے ساتھ کوئی کشیدگی نہیں، تعلقات برملا اور ٹھوس ہیں اور رہیں گے، سعودی عرب اپنا ہے ان سے محبت کا رشتہ ہے ان سے تاریخی تعلقات ہیں۔یہی بات احسن انداز میں اگر سفارتی سطح پر کی جاتی اور یوں برملا ٹی وی پر اس کا اظہار نہ کیا جاتا تو یہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اعتماد کی فضا کو زیادہ بہتر طریقے سے برقرار رہتی۔ اگر ہم موجودہ حکومت کی کشمیر پالیسی کا جائزہ لیں تو یہ بڑھکوں سے شروع ہو کر اب خاموشی تک جا پہنچی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارت نے کشمیریوں کا ناطقہ بند کر رکھا ہے۔کشمیر اس وقت پوری دنیا کی سب سے بڑی اوپن جیل کا درجہ رکھتا ہے۔ ایک سال میں سینکڑوں کشمیریوں کو مقبوضہ وادی میں بھارت کی ظالم فوج نے شہید کر دیا ہے، ہزاروں لوگ زخمی ہو کر ساری عمر کے لئے معذور ہو چکے ہیں۔ ہم اگر ایک سال بعد ایک منٹ کی خاموشی اختیار کریں یا ایک گھنٹہ خاموش کھڑے رہیں اس سے بھارت کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑنے والا۔ بھارت کے لئے تو یہ زیادہ بہتر ہے کہ ایک اہم مسئلہ جو پچھلے ستر سال میں دونوں ممالک کے درمیان بنیادی وجہ تنازع ہے اس پر ہم واویلا کرنے یا شور مچانے کی بجائے خاموشی اختیار کر لیں۔

موجودہ حکومت کو اپنی خارجہ پالیسی کی ناکامی کا اظہار ٹی وی پر کرنے کی بجائے عالمی سطح پر آواز کو بلند کرنے کے لئے خارجہ پالیسی تشکیل دینی چاہئے۔ ایک سال قبل تک تو ہمارے وزیراعظم ایران اور سعودی عرب کی صلح کرانے کی تگ و دو کر رہے تھے اور اب حالت یہ ہے کہ پاکستان کا وزیر خارجہ بہترین دوست کو سرعام دھمکیاں لگا رہا ہے۔ ایک منٹ کی خاموشی سے اچھا ہے کہ پاکستان کشمیریوں کی حالت زار کو اجاگر کرنے کے لئے سفارتی سطح پر دنیا بھر میں اپنے وفود بھیجے، وزرائے خارجہ کی کانفرنس بلائے، وزیراعظم تمام دنیا کے طوفانی دورے کریں اور کشمیریوں پر ہونے والے مظالم سے عالمی دُنیا کو آگاہ کریں۔اس کے علاوہ کلبھوشن کو وکیل کی سہولتیں دینے کی بجائے اس کے سیاہ کارناموں سے دنیا کو آگاہ کریں کہ کیسے وہ ایرانی شہری بن کر پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں مصروف رہا۔ یہی کام اگر کوئی اور حکومت کر رہی ہوتی تو اب تک اسے عمران خان صاحب نے غدارکے لقب سے نواز دینا تھا اس لئے جس طرح پاکستان کی کلبھوشن کے معاملے پر مجبوریاں ہیں اور ہمارے وفاقی وزیر قانون فرو غ نسیم اسمبلی میں کھڑے ہو کر کہتے ہیں کہ کلبھوشن کے معاملے پر پاکستان اسے وکیل کر کے دینے میں مجبور ہے تو جب پاکستان ایک دہشت گرد کے معاملے پر اتنا بے بس ہے۔ماضی میں بھی او آئی سی کے اجلاسوں میں کشمیر کے معاملے پر قرار دادیں پاس ہو چکی ہیں اور سعودیہ نے ہمیشہ پاکستان کے موقف اور کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کی حمایت کی ہے۔ پاکستان کو اب بھی افہام و تفہیم سے معاملات حل کرنے چاہئیں اور اپنے دیرینہ دوستوں سے تعلقات کو مضبوط کرنا چاہئے جو مشکل وقت میں کام آتے ہیں نہ کہ بر سر عام گلے شکوے کر کے تلخیوں کو مزید بڑھانا چاہئے۔ 

مزید :

رائے -کالم -