پولیس کا نظام شفاف بنانے کی ضرورت

  پولیس کا نظام شفاف بنانے کی ضرورت
  پولیس کا نظام شفاف بنانے کی ضرورت

  

   پنجاب پولیس نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے پولیس افسران کو انعام جبکہ فرائض میں غفلت برتنے والوں کو سزائیں دینا کا جو سلسلہ شروع کیا ہے وہ قابل ستائش ہے اس سے کام کرنے والے پولیس افسران و اہلکاروں کی حوصلہ افزائی جبکہ نکھٹو،کام چور،بددیانت اور کرپٹ اہلکاروں کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے،انھیں ہر وقت اپنے پکڑے جانے اور گھیراؤ کا بھی ڈر رہتا ہے جس بھی ادارے میں چیک اینڈ بیلنس کا نظام رائج ہو گا اس کی کارکردگی نمایاں ور سب سے بڑی بات ادارے کا مورال بھی بلند ہوگا،اداروں پرگرفت کمزور ہونے کی صورت میں ایماندار، محنتی،نا اہل اور نکھٹوؤں کے درمیان اچھے برے کی تمیز ختم ہو کر رہ جاتی ہے جانچنے کاپیمانہ کا ر آمد ثابت نہیں ہو گا واضح رہے رواں ہفتے چار اگست کو لاہور پولیس کی اقبال ٹاون سب ڈویژن میں کرائم کی ایک میٹنگ کی گئی، میٹنگ میں سربراہ لاہور پولیس نے چھ ماہ کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا،کرائم میٹنگ میں اقبال ٹاؤن ڈویژن کے تمام آپریشنل،انوسٹی گیشن،سی آئی اے،اے وی ایل ایس،ڈولفن افسران سمیت ڈی آئی جی انویسٹی گیشن، ڈی آئی جی آپریشنز، ایس ایس پی انوسٹی گیشن،ایس ایس پی آپریشنز،اور مقامی ڈویژن کے ایس پیز اور تمام ایس ڈی پی اوز نے شرکت کی۔

میٹنگ کے دوران ناقص کار کردگی پر جہاں کافی افسران کی باز پرس ہوئی وہاں سی آئی اے انچارج اقبال ٹاون محمد علی بٹ کی ناقص کارکردگی پر اظہار برہمی کرتے ہوئے سی سی پی او نے ڈی آئی جی انوسٹی گیشن کو انھیں وہاں سے فوری فارغ کرنے کا بھی حکم دیا دوروز بعد ہی موصوف انسپکٹر محمدعلی بٹ اس سے بھی بہتر جگہ انچارج اے وی ایل ایس صدر تعینات ہوگئے  بتایا گیا ہے کہ انھیں یہ تعیناتی سینئر صوبائی وزیر علیم خان نے لے کر دی ہے انسپکٹر صاحب ان سے اپنے تعلقات کا بر ملہ اظہار بھی کرتے ہیں،ہمارے ہاں طاقت ور نے ہمیشہ نظام کو اپنے تابع کرنے کی کو شش کی ہے جس سے ادارے تباہ ہوئے،اداروں کی جنہیں ذمہ داری سونپی گئی کم ازکم وہی اس کی حرمت کا خیال کر لیں تو اداروں کو تباہی سے بچایا جا سکتا ہے ہماری یہ روایت بن گئی ہے کہ کرپٹ نکمے اور مافیا کے سامنے ہتھیار ڈال دیے جاتے ہیں کسی نے یہ کام بڑوں کو خوش کرنے کے لئے اور کسی نے اپنے اقتدار کو طول دینے کے لئے یہ راستہ اپنایا اب ہمیں اداروں کی سربلندی کے لیے راہ راست پر آ جانا چاہیے،موجودہ سی سی پی او لاہور کو آئی جی پولیس پنجاب کی ہر طرح سے سپورٹ حاصل ہے اور دونوں ڈی آئی جی صاحبان بھی ان کے قدر دان ہیں وزیر اعظم پاکستان اور وزیر اعلی پنجاب کا ویژن بھی یہی ہے کہ اداروں پر آنچ نہ آنے دی جائے میرٹ کو مدنظر رکھیں سی سی پی او لاہور کو چاہیے کہ وہ ایسے کام کر جائیں جس سے تاریخ انھیں ہمیشہ یاد رکھے، نکمے اور نااہل افسروں کی فائل پر تو باقاعدہ نوٹ لکھ دیا جانا چاہیے یا ان کی اے سی آر میں لکھ دیا جانا چاہیے یہ کسی فیلڈ عہدے کے قابل نہیں ہیں سنا ہے بہت سارے افسران کی واحد ”اہلیت“ سفارش پر ان کی مرضی کی پوسٹنگ ہے محمد علی بٹ سینئر صوبائی وزیر کا بغل بچہ ہے اسی طرح بہت سارے کسی نہ کسی کے بغل بچے ہوتے ہیں جو بڑے فخر سے ان کا نام لے کر دعوی کرتے ہیں کہ وہ جہاں چاہیں تعیناتی حاصل کرسکتے ہیں  فرض کر لیں یہ درست ہے تو بجائے اس کے کہ یہ اپنے دعوے کی لاج رکھتے ہوئے یا سفارشی کی عزت کا ہی کچھ خیال کرتے ہوئے کارکردگی بہتر کرلیں مگر ایسا نہیں ہوتا صوبائی وزیر سے گزارش ہے اگر یہ درست ہے کہ وہ ان کی براہ راست سفارش پر تعینات ہوا ہے تو ایسے افسروں کی سفارش کرکے اپنے گناہوں میں مزید اضافہ نہ کریں۔

اس سے ان کی حکومت اور حکمرانی بھی مزید بدنام ہوتی ہے۔ بہرحال ایک انتہائی اہل اور سنجیدہ شخصیت کے حامل سی سی پی او لاہور جناب ذوالفقار حمیدنے آتے ہی فیلڈ کے لیے کچھ اچھے پولیس افسروں کو تلاش کرنا شروع کیاہے، بلکہ چند اچھی تعیناتیاں اور تبدیلیاں، انہوں نے کی بھی ہیں۔ذوالفقار حمیدلاہور پولیس کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں اور ان کے پاس ڈی آئی جی آپریشن اشفاق احمد خان،ڈی آئی جی انوسٹی گیشن شہزادہ سلطان، ایس ایس پی آپریشن فیصل شہزاد اور ایس ایس انوسٹی گیشن زیشان اصغر کی صورت میں بہترین ٹیم موجود ہے جو پولیس ویلفیئر اور شہدا کی فیملیز کا خیال رکھنے کے حوالے سے جتنی شہرت رکھتے ہیں اس سے کہیں زیادہ مشہور کرائم فائٹر پولیس آفیسر کے طور پر بھی  جانے جاتے ہیں۔ آئی جی پولیس پنجاب فورس کے بہترین اور مایہ ناز کمانڈر ہیں جبکہ ذوالفقار حمید کوبھی کرائم کنٹرول کرنے میں ملکہ حاصل ہے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ ان کے ڈی آئی جی انوسٹی گیشن دور میں یہ لا ہور کے ہر تھانے سے واقف ہوتے تھے اور لاہور بھر کی نگرانی خود کرتے تھے۔ انہیں علم ہوتا تھا کہ شہر کے کس تھانے میں ملزمان کی گرفتاری اورکرائم کے حوالے سے کیا صورت حال ہے اور کہاں کہاں کتنی کامیابی حاصل ہو رہی ہے،کسی فورس کو لیڈ کرنے کے لئے صرف ایمانداری ہی کافی نہیں بلکہ لیڈر شپ کی صلاحیتوں کا ہونا بھی بہت ضروری ہے ذوالفقار حمیدمیں یہ دونوں خوبیاں موجود ہیں  ان کی ایمانداری کی گواہی تو سبھی دیتے ہیں لیکن جس طرح وہ ایماندار افسران کی ٹیم تشکیل دیکر کرائم کنٹرول کرنے کی صلاحیتیں منوا چکے ہیں وہ اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں ڈی آئی جی آپریشن اشفاق احمد خان کی ٹیم نے عید سے قبل کاہنہ میں 15لاکھ ڈکیتی کے ملزموں جبکہ گزشتہ روز مصطفٰی آباد کے علاقہ میں قتل کے ملزمان کو فوری گرفتار کر کے بہترین کمانڈر ہونے کا ثبوت فراہم کیا ہے سی سی پی او کی ٹیم میں ان کی شمولیت سے بھی لاہور میں جرائم کی شرح میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔  

مزید :

رائے -کالم -