پنجاب کی جیلیں: قید خانے یا عقوبت خانے

پنجاب کی جیلیں: قید خانے یا عقوبت خانے

  

برصغیر میں جیل کا باقاعدہ نظام انگریز نے قائم کیاملک بھر میں اس وقت 98 جیلیں قائم ہیں پنجاب کے36 اضلاع میں 42 جیلیں ہیں ان میں سے23 جیلیں قیام پاکستان سے قبل کی ہیں جبکہ خواتین کیلئے جیل صرف ایک ہی ہے جو ملتان میں قائم ہے جبکہ باقی جیلیں بعد میں تعمیر کی گئیں۔1854میں سب سے پہلے سنٹرل جیل جہلم اور سنٹرل جیل گوجرانوالا کا قیام عمل میں لایا گیا، پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے آبادی کے لحاظ سے ان کی تعداد میں اضافہ ہو تا گیااب 42 پنجاب، 24 سندھ، 21 خیبر پختون خوا اور 11 جیلیں بلوچستان میں ہیں۔ ان جیلوں میں 55 ہزار 634 قیدیوں کو رکھنے کی گنجائش موجود ہے تاہم اس وقت ان جیلوں میں موجود قیدیوں کی تعداد 80 ہزار 145 ہے جو دستیاب گنجائش سے 24 ہزار 511 زائد ہے۔صوبہ پنجاب کی 42 جیلوں میں 32 ہزار 477 قیدیوں کی گنجائش کے برعکس 45 ہزار 423 قیدی رکھے گئے ہیں۔ صوبہ سندھ کی 24 جیلوں میں 10 ہزار 38 کے بجائے 16 ہزار 739 قیدی رکھے گئے ہیں۔ خیبر پختونخوا کی 21 جیلوں میں قیدیوں کی گنجائش تو 8 ہزار 395 ہے تاہم ان میں تقریبا دوگنا یعنی 15 ہزار 969 قیدی ہیں۔بلوچستان پاکستان کا واحد صوبہ ہے جہاں 11 جیلوں میں 2 ہزار 585 قیدیوں کی گنجائش ہے تاہم جیلوں میں صرف 2 ہزار 14 قیدی ہیں۔جیلوں کا بنیادی مقصد تو ان افراد کو قید رکھنا ہوتا ہے جن پر جرائم ثابت ہو چکے ہوں تاہم پاکستان کے ضابطہ فوجداری میں ملزمان کو بھی حوالاتی کے طور پر جیل میں رکھا جاتا ہے اور ان کی بیرکس سزا یافتہ قیدیوں سے الگ رکھی جاتی ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق اس وقت ملک بھر کی جیلوں میں سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد 24 ہزار 280 ہے جن میں 16 ہزار 680 پنجاب کی جیلوں میں قید ہیں۔ سندھ میں 4 ہزار 177، خیبر پختونخوا میں 2 ہزار 700 اور بلوچستان کی جیلوں میں 723 سزا یافتہ قیدی موجود ہیں۔اس کے برعکس ملک بھر کی جیلوں میں انصاف کے منتظر ملزمان کی تعداد دوگنا سے بھی زیادہ ہے۔ پورے ملک کی جیلوں میں قید ملزمان/ حوالاتیوں کی تعداد 51 ہزار 710 ہے۔ پنجاب کی جیلیں ان میں نصف یعنی 25 ہزار 493 ملزمان کی میزبان ہیں جبکہ 12 ہزار 562 ملزمان سندھ، 12 ہزار 504 کے پی اور ایک ہزار 151 ملزمان بلوچستان کی جیلوں میں اپنے مقدمات کے منطقی انجام تک پہنچنے کے منتظر ہیں۔ پنجاب کی جیلوں میں سزائے موت کے منتظر قیدیوں کی تعداد تین ہزار 350 ہے۔ سندھ میں 525، خیبر پختونخوا میں 215 اور بلوچستان کی جیلوں میں سزائے موت کے قیدیوں کی تعداد 61 ہے۔ملک بھر بالخصوص پنجاب میں قیدیوں اور حوالاتیوں کے جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدیوں کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پرکئی شہروں میں نئی جیلیں تعمیر کرکے قیدیوں کو جدید تقاضوں کے مطابق سہولتوں سے بھی نوازا گیا ہے اور جیل ملازمین کو بھی پرکشش مراعات سے نوازا گیا ہے تاکہ نظام میں بہتری لاکر کرپشن کا خاتمہ کیا جاسکے مگر بہتری کے آثار نظر نہیں آرہے اور ملک بھر کی جیلوں میں کرپشن کی شکایت عام پائی جاتی ہے یہ ہی وجہ ہے کہ کسی نہ کسی جیل میں آئے روز ہنگامہ آرائی کی خبریں ملتی رہتی ہیں اسی طرح کا ایک واقعہ چند روز قبل گجرات کی ڈسٹرکٹ جیل میں بھی پیش آیا تھا جہاں قیدیوں نے جیل ملازمین کی جانب سے رشوت طلب کرنے سمیت دیگر الزامات پر شدید احتجاج کیا تھا، جس کے بعد معاملہ ہنگامہ آرائی تک پہنچ گیا، قیدی جیل کی چھت پر چڑھ گئے اور کئی مقامات پر آگ بھی لگادی تھی، واقعے میں کئی قیدی اور پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے،کئی گھنٹے تک جاری رہنے والی ہنگامہ آرائی کی تحقیقات کیلئے صوبائی حکومت کی جانب سے کمیٹی بنائی گئی تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کی روشنی میں سپرنٹنڈنٹ ڈسٹرکٹ جیل گجرات سمیت 11 پولیس افسران و اہلکاروں کیخلاف سنگین الزامات کے تحت مقامی تھانے میں مقدمہ بھی د رج کیا گیا جبکہ جیل میں ہنگامہ آرائی کرنیوالے 4 قیدیوں کیخلاف بھی مقدمہ درج کیا گیا، قیدیوں کی جانب سے جیل عملے کی کرپشن، رشوت نہ دینے پر تشدد، ناروا سلوک، کرونا وائرس کے نام پر ملاقاتوں کی بندش اور کیسز کی سماعت نہ ہونے پر احتجاج کیا گیا،کئی گھنٹے تک جاری رہنے والی ہنگامہ آرائی کے دوران قیدیوں کی جانب سے پتھراؤ جبکہ پولیس کی جانب سے آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی جس کے نتیجے میں 3 قیدی اور 6 پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ واضح رہے رواں سال اپریل میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی اڈیالہ جیل میں قید قیدیوں کی دائر درخواستوں پر تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے حکم صادر فرمایا تھا کہ جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی رکھنا غیر آئینی ہے اور یہ کہ قید کے دوران غیر انسانی سلوک پر قیدی حکومت اور جیل حکام کے خلاف مقدمہ کرسکتے ہیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کی جانب سے جاری کردہ 38 صفحات کے فیصلے میں قیدیوں کے خطرناک حالات، نظامِ انصاف میں جھول اور قیدیوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کی نشاندہی کی گئی۔ساتھ ہی عدالت نے قیدیوں کے لیے اس کا حل بھی پیش کیا کہ کہ وہ معاوضے کا مطالبہ کرسکتے ہیں۔فیصلے میں لکھا گیا کہ ’بگڑتے ہوئے مجرمانہ نظام انصاف کے زیادہ تر شکار وہ ہیں جو معاشرے کے معاشی اور سماجی پسماندہ طبقے سے تعلق رکھتے ہیں، نہ تو ان کے پاس عدالتوں تک رسائی کے ذرائع ہیں نہ حکومت نے ہر شہری کے لیے ’سستا اور فوری انصاف‘ فراہم کرنے کی ذمہ داری پوری کی۔فیصلے میں کہا گیا کہ بظاہر غیر فعال مجرمانہ نظام انصاف کے سب سے زیادہ شکار مقدمے سے پہلے اور مقدمے کے دوران قید کیے گئے وہ افراد ہیں جنہیں بے قصور سمجھا جاتا ہے لیکن متعدد عناصر کی وجہ سے ان کے ساتھ مجرم قیدیوں کی طرح سلوک کیا جاتا ہے۔خیال رہے کہ قیدیوں نے اپنی درخواست میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ انہیں عدالتوں تک رسائی حاصل نہیں اور انہیں اپنی حالات زار کے بارے میں عدالت کو آگاہ کرنے پر جیل انتظامیہ کی جانب سے سزا کا خوف ہوتا ہے۔عدالت کے نوٹس پر قیدیوں کی حالت زار کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیشن بنایا گیا تھا جس نے اپنی ’چونکا دینے والی‘ رپورٹ جمع کروائی تھی۔رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ پاکستان بھر کی جیلوں میں 55 ہزار 634 قیدی رکھنے کی گنجائش ہے جن میں 74 ہزار رکھے گئے ہیں اس میں پنجاب میں 41 میں سے 29 جیلوں میں جبکہ سندھ میں تمام 8 جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود ہیں۔سب سے پریشان کن بات یہ ہے کہ قیدیوں میں سب سے بڑی تعداد ان افراد کی ہے جنہیں ایک فیئر ٹرائل کے بعد عدالت سے سزا ملنے تک ’بے قصور‘ سمجھا جاتا ہے۔رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں قید 73 ہزار 721 افراد میں 60 فیصد سے زیادہ یعنی 44 ہزار 847 قیدیوں کو اب تک کسی عدالت سے سزا نہیں سنائی گئی۔ایک اور خطرناک عنصر یہ ہے کہ قیدیوں کی ایک بڑی تعداد سنگین بیماریوں مثلاً ایچ آئی وی، ٹی بی، ہیپاٹائٹس اور ذہنی امراض کا شکار ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ پاکستان بھر کی جیلوں میں مناسب طبی سہولیات، ڈاکٹرز اور طبی عملے کا فقدان ہے اور زیادہ تر قیدی بھی اپنے حقوق سے لاعلم ہیں اور ان کے پاس عدالتوں تک رسائی کا کوئی ذریعہ بھی نہیں۔ بنیادی انسانی ضروریات کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا کہ ٹوائلٹس میں صفائی کی کمی اور تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے قیدیوں کو گھنٹوں اپنی باری کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا تھا کہ جیل ہسپتال میں عملے کی کمی اور مناسب آلات کا فقدان ہے اور بااثر افراد نظام کا استحصال کرتے ہوئے ضرورت کے بغیر ہسپتال میں داخل ہوجاتے ہیں اور جنہیں فوری توجہ کی ضرورت ہوتی ہے وہ جیل حکام کی بے حسی کا نشانہ بنتے ہیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ قیدیوں کے داخلے، قید اور رہائی تک کے سلوک کے ہر پہلو کے حوالے سے مختلف بنیادی قانون سازی کے ساتھ ساتھ قواعد و ضوابط کے تحت جیلیں قائم کی گئیں۔عدالت نے یہ بھی کہا کہ قیدیوں کے بارے میں ایسے درجنوں قوانین موجود ہیں جن کے مطابق جیل حکام اور متعلقہ حکومتیں قیدیوں کی رہائی کے لیے مختلف اقدامات کرسکتی ہیں اس میں ان کی سزا معطل کرنے اور آزاد کرنا بھی شامل ہے۔وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار نے جس دن سے اقتدار سنبھالا، عام شہریوں کی زندگیاں بہتر بنانے، اور عوام کو میسر سہولیات میں بہتری لانے کیلئے انہوں نے جہاں ہسپتالوں، اور سرکاری دفاتر کے دورے کئے وہاں جیلوں کے خصوصی دورے بھی کئے- قیدیوں کے مسائل دریافت کئے اور جیل ہسپتالوں میں بہتری کے لئے احکامات جاری کئے- اس سلسلے میں سب سے اہم مسئلہ جیل خانہ جات کی مینجمنٹ تھا، قبل ازیں آئی جی جیل خانہ جات کے نیچے 5 ریجنز تھے جن میں لاہور، راولپنڈی، فیصل آباد، ساہیوال اور ایک ریجن ملتان جو جنوبی پنجاب کیلئے کافی نہ تھا- تاہم انھوں نے تین نئے ریجن ڈیرہ غازی خاں،بہاول پور اور سرگودھا کے قیام کے آرڈر سے انھیں بھی ایک ڈی آئی جی رینک کے جیل آفیسر کی زیر نگرانی دے دیا - اس احسن اقدام کے باوجود جیلوں میں قید عام قیدیوں کے مسائل حل کرنے میں تیزی لانے کی بجائے ان کے مسائل جوں کے توں ہیں۔آئی جی جیل خانہ جات مرزا شاہد سلیم بیگ نے بتایا ہے کہ انھیں سانحہ گجرات پر بڑا افسوس ہے اس سے حکومت اور ادارے کی بدنامی ہوئی ہے تاہم ان کی ٹیم جیلوں میں بہتری کے لیے وزیر اعظم اور وزیر اعلی کے ویژن کے مطا بق دن رات کو شاں ہے۔ جیل انتظامیہ کے خلاف کو ئی بھی شکایت موصول ہو نے پر وہ فوری طور پر ایکشن لیتے ہوئے کارروائی عمل میں لاتے ہیں انھیں وزیر اعظم سٹیزن پورٹل پر 1594 شکایات موصول ہوئیں، 1482 شکایات حل ہو گئیں اور 112 شکایات پر کارروائی جاری ہے جبکہ اس کے علاو ہ نظم و ضبط پر بھی سینکروں افسران و ماتحت اہلکاروں کے خلاف کا رروائی عمل میں لائی گئی ہے سانحہ گجرات کے بعد انھوں نے پنجاب بھر کی متعدد جیلوں کے خو د وزٹ کر کے وہاں پائی جانیوالی خرابیوں کا فوری خاتمہ کیا ہے اور اپنے تمام ڈی آئی جی صاحبان کو بھی جیلوں پر اچانک چھاپے مارنے کی ہدایت کی ہے قید یوں اور حوالاتیوں کی جائز شکایات کے خاتمے کے لیے ڈی آئی جی اور سپر نٹنڈ نٹ صاحبان کو اپنے دفاتر کے دروازے سارے دن کھلے رکھنے دیانت داری اور محب الوطنی سے کام کرنے کی ہدایت کی گئی ہے اور وہ خود بھی کیمروں کی مدد سے سارا دن ان پر کڑی نظر رکھ رہے ہیں۔ قید یو ں اور حوالاتیوں کی شکایات کے خاتمے کے لیے ان کے دفتر میں بھی کسی کو روک تھام نہیں ہے۔

٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -