ڈی ایچ کیو ہسپتال شیخوپورہ میں کرپشن کی عجب کہانی!

ڈی ایچ کیو ہسپتال شیخوپورہ میں کرپشن کی عجب کہانی!

  

بدقسمتی سے ہمارے ہاں سہولیات صحت کی فراہمی ہمیشہ تعطل کا شکار رہی ہے جسے مقامی محکمانہ افسران حکومتی فنڈنگز اور وسائل کی کمی سے جوڑتے اور حکومت محکمانہ افسران کی غیر موثر کارکردگی کا شاخسانہ قرار دیتی آئی ہے، حالانکہ دونوں طرف سے الزامات میں کسی حد تک حقیقت ہے مگر محکمہ صحت شیخوپورہ میں بڑے پیمانے پر ہونے والی کرپشن بھی کسی صورت پس پشت ڈالی نہیں جاسکتی، محکمہ پر سفارش و رشوت کے تحت نوکریاں دینے، تبادلوں اور تقرریوں پرمٹھی گرنے سے لیکر ٹینڈرز کی الاٹمنٹس تک کوئی پہلو ایسا نہیں جو کرپشن کے الزامات سے اٹا نہ ہو ممکن ہے بعض الزامات مبینہ ہوں مگر یہ ممکن نہیں کہ سبھی الزامات بے بنیاد ہوں، بلکہ اکثریتی الزامات میں نہایت وزن دکھائی دیتا ہے، جس کا ثبوت وہ بعض انکوائریاں ہیں جو خوش قسمتی سے بروقت یا تھوڑی بہت تاخیر وتگ و دو کے بعد مکمل ہوئی ان انکوائریوں کی رپورٹس واضح کرتی ہیں کہ محکمہ صحت میں کرپشن کی شرح کیا ہے حالانکہ ضلعی سطح پر محکمہ صحت کی بڑی تعدا د میں انکوائریاں زیر تکمیل ہیں،بلکہ بعض تو کئی کئی سال سے بدستور عدم تکمیل کا شکار ہیں جن میں ڈی ایچ کیو ہسپتال سمیت مختلف چھوٹی بڑی سرکاری علاج گاہوں سے ادویات کی چوری سے متعلق ہیں در حقیقت ادویات کی چوری ایسا سنگین جرم ہے، جس کا فوری براہِ راست اثر ان غیر مریضوں پر پڑتا ہے جو مہنگے علاج کی سکت نہیں رکھتے ان کا سارا دارو مدار سرکاری علاج گاہوں سے ملنے والی ادویات پر ہوتا ہے اور جب انہیں سرکاری علاج گاہ سے ادویات کی بجائے پرچی تھما دی جاتی ہے تو وہ پرچی پر درج ادویات کی خریدکی سکت سے عاری ہونے کے باعث کسی پرائیویٹ میڈیکل سٹور کا رخ کرنے کی بجائے ہسپتال انتظامیہ کی منت سماجت کرتے ہیں یاعلاج ادھورا چھوڑ کر چپ چاپ گھر سدھار جاتے ہیں ان حالات میں غریب شہری خود کو لاحق مرض کو قسمت کا لکھا گردان پر صبر شکر کر بیٹھتے ہیں اور پھر مرض کی شدت انہیں یا تو عمر بھر کی معذوری لاحق کرتی ہے یا موت جلد انہیں گلے لگا لیتی ہے اس تناظر میں ہونا تو یہ چاہئے کہ ادویات کی چوری کو سنگین ترین جرم سمجھ کر اسکی روک تھام کیلئے کڑے اقدامات اٹھائے جائیں اور اس جرم میں ملوث افسران و ملازمین کو بلاامتیاز ایسی کڑی سزائیں دی جائیں کہ آئندہ کسی کو اس جرم کی جرات نہ ہومگر افسوسناک امر ہے کہ بارہا سامنے آنے والے ادویات کی چوری کے واقعات اور الزامات کو کبھی سنجیدہ نہیں لیا گیا اور ہر بار انکوائری تو آرڈر کی جاتی ہے تاہم نتیجہ اکثر سامنے نہیں آتا یا انکوائری اتنی طویل کردی جاتی ہے کہ نتیجہ بے سود ثابت ہوتا ہے جبکہ محکمہ صحت میں مبینہ طور پر جاری یہ پریکٹس نئی نہیں اور نہ ہی ملی بھگت کے بغیر انکوائریاں یوں لٹکائی جاسکتی ہیں، جس سے اس الزام کو تقویت ملتی ہے کہ سرکاری علاج گاہوں سے آئے روز ادویات کا چوری ہونا ایک دو ملازمین کے بس کی بات نہیں، بلکہ بعض افسران کی آشیر بار کااس میں بڑا عمل دخل ہے جو براہ راست ملوس ہونے کی بجائے درپردہ نہ صرف ادویات کی چوری میں سہولت کار کا کردار ادا کر کے اپنا حصہ بٹورتے ہیں،بلکہ چوری پکڑے جانے کی صورت میں مختلف ہتھکنڈوں کے سہارے مرتکب ملازمین کو تحفظ فراہم کرنے میں بھی کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے،جبکہ چوری کی جانیوالی ادویات کی قیمت کی بات کی جائے تو ذرائع نے ان ادویات کی قیمت لاکھوں روپے بیان کی ہے جس کی ایک تازہ مثال اینٹی کرپشن پولیس شیخوپورہ کی طرف سے ڈی ایچ کیو  ہسپتال کے بجٹ اینڈ اکاؤنٹس آفیسر پرچیز آفیسر اور اکاؤنٹ آفیسر کے خلاف کی جانیوالی حالیہ کارروائی ہے، جن کے خلاف ادویات کی خردبرد اور زائد قیمتوں پر ادویات خریدنے کے حوالے سے مقدمہ درج کیا گیا تاہم تینوں ملزمان اپنے عہدوں سے فارغ ہونے کے باوجود بدستور کام کررہے ہیں اور سنگین مالی بے ضابطگیوں کی نشاندہی اور کرپشن بے نقاب ہونے پر بھی ان کے خلاف محکمانہ طور پر کارروائی کا آغاز نہیں ہوسکاخ حالانکہ اینٹی کرپشن پولیس تو اس معاملے میں سرگرم ہے اور اپنی ذمہ داری انجام دیتی دکھائی دے رہی ہے، مگر اکثریتی مواقعو ں کی طرح اس کیس میں بھی محکمہ صحت شیخوپورہ خاصی حد تک خاموش تماشائی کا کردار ادا کررہا ہے چاہئے یہ تھا کہ ان تینوں افسران کے خلاف فوری محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جاتی مگر ابھی تک اس معاملے کو سنجیدہ نہیں لیا جاسکا، ذرائع کے مطابق بجٹ اینڈ اکاؤنٹس آفیسر محمد نقاش، پرچیز آفیسر حیدر علی شاہ اور پبلک اکاؤنٹس آفیسر شبیر احمد بٹ نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے جنرل آئیٹمز میں شمار ہونے والی اشیاء اور بعض اہم ادویات کو مارکیٹ ریٹ سے دو گنا زائدنرخوں پر خرید کر ان کی فوری ادائیگی بھی کردی اور جب اسٹاک رجسٹر اور سٹاک کو چیک کیا گیا تو معلوم ہوا ہے کہ قیمتی ادویات خریدنے سے پہلے ہی استعمال ہوچکی ہیں اور اس طرح 1کروڑ20لاکھ روپے کی ایل پی میڈیسن میں بھی بڑے پیمانے پرفراڈکیا گیا اور بعض ایسی ادویات بھی خریدی گئیں، جن کی ڈسٹرکٹ ڈرگ اتھارٹی سے اجازت ہی نہ لی گئی تھی، ادویات کی خریداری میں ان گھپلوں کے باعث ڈی ایچ کیو ہسپتال مقروض بھی ہوا، جبکہ کروڑوں روپے کی بے ضابطگیوں کے باوجود تینوں با اثر ملازمین تاحال اپنی سیٹوں پر براجمان ہیں، ماضی پر نظر ڈالی جائے تو ڈی ایچ کیو ہسپتال یا محکمہ صحت شیخوپورہ کے اسٹاکس سے ادویات کی چوری یا خرد برد نئی بات نہیں چند برس قبل تو سی آئی اے صدر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ڈی ایچ کیو ہسپتال سے چوری شدہ ادویات کی بڑی کھیپ اس وقت پکڑی بھی تھی کہ جب سرگودھا روڈ بائی پاس کے قریب بھاری مالیت کی ادویات رات کی تاریکی میں ایک ایمبولنس سے پرائیویٹ گاڑی میں منتقل کی جارہی ہیں، سی آئی اے پولیس موقع پر پہنچی تھی تو مرکزی ملزم میاں خلیل رات گئے اپنے دیگر ساتھیوں ایمبولنس ڈرائیور علی، ڈی ایچ او آفس شیخوپورہ کے سٹور کیپر میڈیسن میاں انوار، رضوان اور افتخار کے ہمراہ سرکاری ایمبولنس کے ذریعے لائی جانے والی 22 کاٹنوں پر مشتمل چوری شدہ سرکاری ادویات اور مختلف ادویات ساز کمپنیوں کے لیبلز کی ایک بڑی مقدار سرگودھا روڈ بائی پاس پر لب سڑک کھڑی ایک پرائیویٹ گاڑی نمبری 3865 ایل زیڈ بی میں منتقل کررہا تھا، پولیس چھاپہ کے وقت مذکورہ ملزمان میں سے چار توپولیس کے ہتھے چڑھ گئے، مگرڈرائیور علی ایمبولنس سمیت فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا تاہم پولیس نے چارملزمان کو گرفتار اور برآمدشدہ ادویات کو تحویل میں لے کر تھانہ منتقل کیاجہاں ان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا،پولیس کے مطابق مذکورہ ادویات ڈی ایچ کیو ہسپتال سے چوری کرکے لوہاری مارکیٹ لاہور میں واقع ایک میڈیکل سٹور پر منتقل کی جانی تھیں جبکہ لوڈنگ کے وقت کروڑو ں روپے کی ان ادویات پر لگے حکومت پنجاب کے مارک اپ کو اتار کر انکی جگہ پرائیویٹ کمپنیوں کے سٹیکرزچسپاں کرکے انہیں فروخت کیا جانا تھا، ملزم خلیل کے اعتراف کے مطابق وہ سرکاری عملہ سے اس سے قبل بھی ادویات اونے پونے داموں خرید کر مارکیٹ میں مہنگے داموں فروخت کرنے کی صورت میں لاکھوں روپے منافع کما چکا ہے، جبکہ ڈی ایچ او آفس کے اسوقت کے سٹور کیپر میاں انوارالحق نے کا موقف تھا کہ پکڑی جانے والی ادویات کی چوری میں وہ قطعی شریک نہیں،بلکہ یہ ادویات ڈی ایچ کیو ہسپتال کی ملکیت ہیں اور وہی اس کے ذمہ دار ہیں،انچارج سی آئی اے پولیس نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ مذکورہ ملزمان نے رنگے ہاتھوں پکڑے جانے پر پولیس پارٹی کو لالچ دیکر خریدنے کی بھی کوشش، لیکن پولیس پارٹی نے اپنے فرائض کو بااحسن انجام دیتے ہوئے ملزمان کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی کی دوسری طر ف جب معاملہ ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت کے حوالے ہوا تو انکوائری جلد مکمل کرکے درپردہ افسران کو بے نقاب کرنے کا دعویٰ تو کیا گیا،مگر بعدازاں اس کاروائی کا کیا بنا کوئی علم نہیں کیونکہ بار بار میڈیا کے سوال اٹھانے پر طفل تسلیاں دی گئیں مگر انکوائری رپورٹ سامنے لائی نہیں گئی اسی طرح ماضی قریب کا ایک اور خرد برد کا کیس انکوائری کی نذر ہوکر منظر نامے سے اوجھل ہوگیا کہ جس کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ محکمہ صحت شیخوپورہ میں کروڑوں روپے کی ویکسین اور ادویات کی خرد بردکی گئی ہے جس کی رپورٹ بھی سیکرٹری صحت کو ارسال کردی گئی جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ ڈسٹرکٹ ویکسی نیشن سپرنٹنڈنٹ علی رضا گیلانی اور دیگر افسران نے بچوں کودی جانے والی ویکسین اور ادویات جن کی مالیت ساڑھے تین کروڑ سے زائد ہے خورد برد کرلی ہیں اس طرح یہ رپورٹ بھی ان لاتعداد رپورٹس کا حصہ بن چکی کہ جو ایک عرصہ سے زیر مشاہدہ و زیر تفتیش ہیں البتہ یہ بات واضح ہے کہ آئے روز سرکاری علاج گاہوں سے بڑی مقدار میں ادویات کا چوری ہونا یا خرد برد کے واقعات فقطماتحت عملے کے بس کا روگ نہیں ذرائع کے مطابق سرکاری ادویات کی خرد برد اور خرید وفروخت میں بعض بڑے افسران کے نام بھی شامل ہو سکتے ہیں جو خود کو بچانے کے لئے ہمیشہ چھوٹے کو ملازمین کو قربانی کا بکرا بنانے کی کوشش کرتے ہیں اور بعد ازاں انہیں بھی مکھن میں سے بال کی طرح انکوائریز میں سے نکال لے جاتے ہیں۔

٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -