حضرت عثمان غنیؓ کے دور میں فتوحات کا دائرہ کار وسیع ہوا،کاشف اقبال

          حضرت عثمان غنیؓ کے دور میں فتوحات کا دائرہ کار وسیع ہوا،کاشف اقبال

  

لاہور (پ ر) حضرت عثمان غنی اللہ رضی اللہ عنہ، خلیفہ سوئم، شرم وحیاکا پیکر، داماد رسول ؐ اورجامع قرآن ہیں۔ آپ کے دور میں پہلااسلامی بیڑاتیارکیاگیااور فتوحات کادائرہ وسیع تر ہوا۔ ہمارے حکمران پاکستان کوریاست مدینہ بناناچاہتے ہیں توحضرت عثمان کی زندگی ان کے لئے مشعل راہ ہے، رسول مقبول ﷺ نے زبان وحی ترجمان سے حضرت عثمان غنی کومتعدد بار جنت کی بشارت دی۔ ضروری ہے کہ آج ہم بھی اپنے اندرحضرت عثمان جیساایمان، سخاوت کاجذبہ اورشرم وحیا پیداکریں۔ان خیالات کااظہارانجمن ناشران قرآن پاک کے صدرکاشف اقبال نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے یوم شہادت کے موقع پر کیا۔انہوں نے کہاکہ حضرت عثمانؓنے قبول اسلام کے وقت بہت زیادہ تکلیفیں برداشت کیں۔ وہ امت محمدیہ کے پہلے صحابی ہیں جنہوں نے اسلام کی خاطراہل وعیال سمیت حبشہ کی طرف ہجرت کی۔

  حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کاایک اعزاز یہ بھی کہ وہ محبوب رسول خداکی دو صاحبزادیوں کے شوہر تھے۔انہوں نے مسجدنبوی کی توسیع کروائی اورمدینہ کاکنواں یہودی سے خریدکرمسلمانوں کے لئے وقف کیا، عہدعثمانی رضی اللہ عنہ میں قرآن مجیدجمع کیاگیا۔ طرابلس، الجزائر، رقہ، مراکش فتح ہوئے۔ آپ کے دورمیں ہی ایران کی فتح تکمیل کوپہنچی۔ افغانستان، خراسان، اورترکستان کاایک حصہ زیرنگین ہوا۔ دوسری طرف آرمینیہ اورآزربائیجان کی فتح کے بعد اسلامی سرحدکوہ قاف تک پھیل گئی۔ حضرت عثمان کے دورمیں تاریخ اسلام کاپہلابحری بیڑہ تیارکیاگیاجس نے قیصرروم کے500جنگی جہازوں پرمشتمل بحری بیڑے کوعبرتناک شکست دی۔حضرت عثمان رضی اللہ عنہ شہید مدینہ ہیں وہ قرآن مجیدپڑھتے ہوئے شہیدکئے گئے۔ ان کی شہادت کی گواہی قرآن مجیدکے اوراق دیں گے۔ ہمارے حکمران پاکستان کوریاست مدینہ بناناچاہتے ہیں تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی زندگی ان کے لئے مشعل راہ ہے۔  

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -