سرمایہ کاری کم ہونے کی وجہ سے انڈسٹری بند ہو رہی، کارپٹ ایسوسی ایشن 

سرمایہ کاری کم ہونے کی وجہ سے انڈسٹری بند ہو رہی، کارپٹ ایسوسی ایشن 

  

 لاہور/کراچی( کامرس ڈیسک )پاکستان کارپٹ مینو فیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ کارپٹ انڈسٹری دیہی علاقوں میں لوگوں کو ان کی دہلیز پر روزگار مہیا کرنے کا بڑاذریعہ ہے اس لئے حکومت اس کی سرپرستی کرے،معیشت کی ترقی کیلئے کاروبار دوست ماحول کو فروغ دینا ہوگا تاکہ معیشت کو سکڑنے سے بچایا جا سکے،حکومت تمام شعبوں کے تحفظات سے آگاہی حاصل کر کے انہیں دور کرے اور خاص طور پر برآمدی شعبوں پر خصوصی توجہ مرکوز کی جائے۔ ان خیالات کا اظہار ایسوسی ایشن کے چیئرمین محمد اسلم طاہر،چیئر پرسن کارپٹ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ پرویز حنیف، وائس چیئرمین شیخ عامر خالد، سینئر مرکزی رہنما عبد اللطیف ملک، سینئر ممبر ریاض احمد، سعید خان، اعجاز الرحمان، محمد اکبر ملک، میجر (ر)اخترنذیر نے اپنے مشترکہ بیان میں کیا۔رہنماؤں نے کہا کہ روزگار نہ ہونے کی وجہ سے لوگ دیہی علاقوں سے شہروں کی طرف نقل مکانی کر رہے ہیں اس لئے حکومت کو شہروں پر بڑھتے ہوئے بوجھ کو روکنے کیلئے دیہاتوں کی سطح پر روزگار کا ذریعہ بننے والی صنعتوں کی حوصلہ افزائی اور ان کی سرپرستی کرنی چاہیے۔ کارپٹ انڈسٹری دیہاتوں میں روزگار کی فراہمی کا بڑا ذریعہ ہے۔ حکومت لائیو سٹاک کے ساتھ کارپٹ انڈسٹری کی سرپرستی کر کے اربنائزیشن کو روک سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ برآمدی انڈسٹری کا معیشت میں اہم کردار ہے اس لئے اسے نظر انداز کرنے کی بجائے اس کی سرپرستی کرنے کی ضرورت ہے۔ مشکلات کی وجہ سے سرمایہ کا ری کا رجحان کم ہونے سے انڈسٹری بند ہو رہی ہے۔

 جس سے بیروزگاری کی شرح میں اضافے کا امکان ہے۔کارپٹ انڈسٹری کا حکومت پر کوئی بوجھ نہیں بلکہ یہ انڈسٹری دیہی علاقوں میں روزگار کا بڑا ذریعہ ہے اس لئے حکومت ہمارے ساتھ تعاون کرے۔

مزید :

کامرس -