سانحہ بیروت، لبنان میں احتجاجی مظاہرے، جھڑپیں ایک اہلکار ہلاک، وزیر خارجہ، اطلاعات مستعفی 

  سانحہ بیروت، لبنان میں احتجاجی مظاہرے، جھڑپیں ایک اہلکار ہلاک، وزیر ...

  

 بیروت(این این آئی)لبنان میں گذشتہ ہفتے بندرگاہ پر پیش آنے والے ایک خونی سانحے کے بعد بڑی تعداد میں شہریوں نے حکومت کے استعفے کیلئے مظاہرے شروع ہوگئے۔عرب  ٹی  وی  کے مطابق سانحہ بیروت کے بعددارالحکومت میں سکیورٹی کی تعداد میں غیرمعمولی اضافہ کیا گیا ہے۔ بیروت اور دوسرے شہروں میں صدر میشل عون اور وزیراعظم حسان دیاب کے استعفے کے لیے سیکڑوں افراد نے سڑکوں پر نکل کر احتجاج کیا۔دارالحکومت کے وسط میں قائم پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر سیکڑوں افراد نے وزیراعظم حسان دیاب اور صدر میشل عون کے استعفے کے حق میں مظاہرے کیے۔ مظاہرین نے بیروت بندرگاہ پرہونے والے خوفناک اور خونی دھماکوں کی عالمی سطح پر تحقیقات کرانے کا بھی مطالبہ کیا۔دارالحکومت میں کئی مقامات پرپولیس اور مظاہرین کے درمیان ہاتھا پائی اور تصادم ہوا۔ پرتشدد مظاہروں میں ایک سیکیورٹی اہلکار ہلاک جبکہ پولیس اہلکاروں سمیت 238 مظاہرین زخمی ہوئے۔ دوسری طرف امریکہ نے لبنان میں ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کو اپنے حقوق کے لیے پرامن احتجاج کا حق حاصل ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ان مظاہروں پر بیروت میں قائم امریکی سفارت خانے کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیاکہ امریکا پرامن احتجاج کی حمایت کرتا ہے۔ بیان میں تمام فریقین سے پرتشدد راستے اختیار نہ کرنے اور احتجاج کو پرامن رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔دوسری طرف لبنان کی وزیر اطلاعات منال عبدالصمد نے اپنے عہدے سے استعفی دے دیا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق اپنے ایک بیان میں منال عبدالصمد کا کہنا تھا کہ استعفی سے قبل میں وزیر اعظم کو اپنے فیصلے سے آگاہ کر دیا تھا۔اقتصادی اور سیاسی محاذوں پر دلدل میں دہنستی لبنانی حکومت کے وزیر خارجہ ناصیف حتی نے بھی وزیر اعظم حسن دیاب کو اپنا استعفی پیش کر دیا۔ انھوں نے کابینہ کو خیر باد کہنے کی کوئی وجہ اپنے استعفی میں بیان نہیں کی۔

لبنان

مزید :

صفحہ اول -