افغان لویہ جرگہ نے 400طالبان کی رہائی کی منظوری دیدی، پاکستان کا خیر مقدم، نومبر تک مزید 5ہزار فوجی کم کردینگے: امریکہ 

  افغان لویہ جرگہ نے 400طالبان کی رہائی کی منظوری دیدی، پاکستان کا خیر مقدم، ...

  

 کابل (این این آئی)افغانستان میں لویہ جرگہ نے ملک میں بین الافغان امن مذاکرات کے آغاز کی راہ ہموار کرنے کے لیے ان 400 افغان طالبان قیدیوں کی رہائی کی منظوری دے دی ہے جو سنگین جرائم کے مقدمات میں قید تھے۔۔لویہ جرگے نے آخری دن ایک 25 نکاتی قرارداد کی منظوری دی جس میں امن عمل میں تیزی لانے کے لیے تجاویز بھی دی گئیں، ہائی کونسل برائے نیشنل ریکونسیلی ایشن کے سربراہ عبداللہ عبداللہ نے کہا ہے کہ جرگے کا فیصلہ افغان عوام کے لیے بہت اہم ہے تاہم افغان طالبان بھی یاد رکھیں وہ جنگ مسلط کر کے جیت نہیں سکتے۔ان کو لگتا ہے کہ وہ جنگ کر کے جیت جائیں گے، لیکن یہ ان کی غلط فہمی ہے۔ گذشتہ 40 برسوں میں افغانستان میں ہونے والی جنگیں یہ ثابت کرتی ہیں کہ وہ نہیں جیت سکتے۔ ہم عوام کے مشورے اور تجاویز لینے کے پابند ہیں اور اس جرگے کے فیصلہ کی قدر کرتے ہیں۔ افغانستان اس وقت تاریخ کے انتہائی نازک موڑ پر کھڑا ہے اور یہ فیصلہ افغان عوام کے لیے زندگی یا موت کا فیصلہ ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق اتوار کو لویہ جرگے کا اختتامی سیشن افغانستان میں سرکاری اور نجی ٹی وی چینلز پر براہِ راست نشر کیا گیا۔لویہ جرگے نے آخری دن ایک 25 نکاتی قرارداد کی منظوری دی جس میں امن عمل میں تیزی لانے کے لیے تجاویز بھی دی گئیں۔جرگے کی سیکریٹری عاطفہ طیب نے کہا کہ لویہ جرگہ کے ارکان امن عمل کا خیرمقدم اور اس کی حمایت کرتے ہیں تاکہ ایک پائیدار اور باوقار امن آ سکے جو ملک میں استحکام اور تحفظ لائے گا۔قرارداد کی دوسری شق پڑھتے ہوئے جرگے کی سیکریٹری کا کہنا تھا کہ امن مذاکرات کی راہ میں حائل رکاوٹ دور کرنے، خونریزی روکنے اور عوام کے قومی مفاد کی خاطر جرگہ بقیہ چار سو طالبان قیدیوں کی رہائی کی منظوری دیتا ہے۔تین دن جاری رہنے والے لویہ جرگے میں افغانستان کے 34 صوبوں سے تقریبا 3400 افراد نے شرکت کی۔لویا جرگہ سے اپنے خطاب میں ہائی کونسل برائے نیشنل ریکونسیلی ایشن کے سربراہ عبداللہ عبداللہ نے کہا کہ جرگے کا فیصلہ افغان عوام کے لیے بہت اہم ہے اور افغان طالبان کو تنبیہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ جنگ مسلط کر کے جیت نہیں سکتے۔ان کو لگتا ہے کہ وہ جنگ کر کے جیت جائیں گے، لیکن یہ ان کی غلط فہمی ہے۔ گذشتہ 40 برسوں میں افغانستان میں ہونے والی جنگیں یہ ثابت کرتی ہیں کہ وہ نہیں جیت سکتے۔لویا جرگہ کا انعقاد کرنے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے عبداللہ عبداللہ نے کہاکہ ہم عوام کے مشورے اور تجاویز لینے کے پابند ہیں اور اس جرگے کے فیصلہ کی قدر کرتے ہیں۔ افغانستان اس وقت تاریخ کے انتہائی نازک موڑ پر کھڑا ہے اور یہ فیصلہ افغان عوام کے لیے زندگی یا موت کا فیصلہ ہے۔پاکستان نے لویہ جرگہ کی طرف سے افغان صدر اشرف غنی کو بقیہ طالبان قیدیوں کی رہائی کی سفارش کا خیرمقدم کیا۔ ایمبیسٹڈر محمد صادق نے کہاکہ لویہ جرگہ کی طرف سے صدر اشرف غنی کو 5ہزار کی فہرست سے بقیہ طالبان قیدیوں کو رہا کرنے کی سفارش کی گئی۔ محمد صادق نے کہاکہ لویہ جرگہ کی سفارش کا خیرمقدم کیا ہے،اس سفارش کے نفاذ کے ساتھ ہی انٹرا افغان مذاکرات کی راہ میں رکاوٹوں کو دور کیا جائے گا۔دوسری طرف امریکی وزیر دفاع  مارک ایسپر نے تصدیق کی ہے کہ افغانستان میں امریکی افواج کو نومبر کے اختتام تک کم از کم 5ہزارتک کم کر دیا جائیگا۔ایسپر نے  فاکس نیوز کودیئے گئے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ  ہم نومبر کے آخر تک یہ تعداد 5 ہزار سے کم کرنا چاہتے ہیں۔ ہمیں کانگریس کو بریف کرنا پڑے گا،دیکھتے ہیں کہ کیا صورتحال بنتی ہے ،افغانستان کی وزارت داخلہ کے ترجماننے کہاہے کہ مشرقی افغا نستان کے صوبہ غزنی میں پولیس مرکزپرکار بم دھماکے میں 7افراد ہلاک جبکہ 16کے زخمی ہونے کی تصدیق ہوگئی ہے۔آریان نے اتوار کے روز کہاکہ صوبہ غزنی کے صدرمقام غزنی شہر میں کوٹل راوا کے علاقے میں مسلح باغیوں نے بارودی مواد سے بھری گاڑی کے ذریعے شہری امن وامان کی پولیس کے ایک یونٹ کے قریب دھماکہ کردیاجس میں 7افراد ہلاک جبکہ 16زخمی ہوگئے۔ واقعہ کی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔صوبائی حکومت کے ترجمان واحد اللہ جمعہ زادا نے واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے شِنہوا کو بتایا کہ حملہ آوروں نے کار بم دھماکہ کرنے کے بعد مرکزکے اندر داخل ہونے کی کوشش کی جسے ناکام بنادیاگیا۔

لویہ جرگہ

مزید :

صفحہ اول -