ملک بھر میں شدید بارشیں، بلوچستان، سندھ کے ندی نالوں میں طغیانی، متعدد دیہات زیر آب، 15افرد جاں بحق، متعدد زخمی 

    ملک بھر میں شدید بارشیں، بلوچستان، سندھ کے ندی نالوں میں طغیانی، متعدد ...

  

 کراچی، کوئٹہ،لاہور اسلام آباد ( سٹاف رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک، نمائندگان)ملک کے مختلف حصوں میں شدید بارشوں کے باعث سیلابی صورت حال پیدا ہو گئی ہے۔سندھ کے ضلع دادو میں کیر تھر کے پہاڑی سلسلوں میں بارشوں سے ندی نالے بپھر گئے ہیں۔تحصیل جوہی کے علاقے کاچھو کے پہاڑی علاقوں میں ندی نالوں میں طغیانی آگئی جب کہ کئی دیہات متاثر اور متعدد زیر آب آگئے۔ سیلاب میں پھنسے افراد کو بچانے کے لیے پاک فوج اور رینجرز کے دستے جوہی پہنچ گئے ہیں، سیلاب میں پھنسے متعدد افراد کو نکال لیا گیا ہے  جب کہ دیگر کو نکالنے کا کام جاری ہے۔ڈپٹی کمشنر  راجہ شاہ زمان کے مطابق ضلعی انتظامیہ اور پاک فوج کی جانب سے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔انہوں نے بتایا کہ  برساتی ریلے میں پھنسے افراد کو کشتیوں کی مدد سے نکالا جا رہا ہے، ابھی تک پھنسے ہوئے 100 افراد کو ریسکیو کیا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ متاثرین کے لیے سرکاری تعلیمی اداروں کی عمارتوں میں عارضی کیمپ قائم کیے جا رہے ہیں۔دوسری جانب آر ڈی 44 کے مقام پر حفاظتی بند میں پڑنے والے 10 فٹ چوڑے شگاف کو  محکمہ انہار کا عملہ پرْ کرنے میں مصروف ہے۔ بند ٹوٹنے سے 300دیہات زیر آب آگئے آئی ایس پی آر کے مطابق سیلاب سے دادو کے 12 دیہات متاثر ہوئے ہیں، حالیہ بارشوں اور طوفان کے باعث نئی گاج ڈیم کے حفاظتی پشتے کو نقصان پہنچا اور گاج ڈیم کے حفاظتی بند میں شگاف پڑنے سے قریبی علاقے زیر آب ہیں۔بلو چستان میں با رشوں اور سیلا بی ریلوں سے جاں بحق ہو نے والے افراد کی تعداد 8ہو گئی ہے بلکہ سبی کوئٹہ قومی شاہراہ بند ہونے کی وجہ سے سبی کوئٹہ خصوصی ٹرین کاآغاز کیا جا رہا ہے دوسری جا نب محکمہ مو سمیات نے صو بے کے مختلف علاقوں میں مزید با رشوں کی پیشنگوئی کر دی ہے۔ پراونشل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی(پی ڈی ایم اے)نے  بلو چستان کے مختلف اضلا ع میں ہو نے والی با رشوں اور سیلا ب کے نتیجے میں 8افراد کے جاں بحق ہو نے کی تصدیق کر دی ہے بلکہ ان کے جا ری کر دہ تفصیلات کے مطا بق 150گھروں کو بھی نقصان پہنچا ہے. ذرائع کے مطابق گوادر اور کراچی کوسٹل ہائی وے پر ٹریفک کو بحال کردیا گیا ہے سندھ اور بلوچستان کے درمیان درہ بولان میں شاہراہ پر مرمت کا کام جاری ہے۔متاثرہ گیس پا ئپ لا ئن کی مرمت کے لئے بھی کو ششیں جا ری ہے تا کہ مختلف اضلا ع کو گیس کی فراہمی ممکن بنا ئی جا سکے  اگلے چو بیس گھنٹوں کے دوران کوئٹہ، ژوب، سبی، زیارات، لورالائی، پشین، ہرنائی، قلعہ عبداللہ، قلعہ سیف اللہ اور قلات میں تیز ہواں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے جبکہ لسبیلہ، ژوب، بارکھان، خضدار، آوران، تربت،کیچ پنجگور،پسنی، گودارمیں بعض مقامات پر ہلکی بارش ہو سکتی ہیحیدرآباد، تھرپارکر، مٹھی، بدین، نوکوٹ، ٹنڈو محمد خان سمیت سندھ کے مختلف حصوں میں کہیں ہلکی اور کہیں تیز بارشوں کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری  رہا کراچی میں بارش کے دوران کرنٹ لگنے سے مزید تین افراد جاں بحق ہو گئے۔ادھر گلگت بلتستان کے ضلع دیامر کے گاؤں تھور میں موسلا دھار بارش سے ندی نالوں میں طغیانی آگئی ہے۔تھور گاؤں کا لنک روڈ متعدد مقامات پربند ہوگیا جب کہ کوہستان میں لوٹر کے مقام پر لینڈ سلائیڈنگ کے باعث شاہراہ قراقرم اور ناران میں شاہراہ بابو سرگیٹی داس کے مقام پر بند ہوگئی ہے، سڑکوں کی بندش سے مسافر اور سیاح پھنس گئے ہیں۔پنجاب کے شہروں رحیم یار خان، چکوال میں تیز بارش ہوئی جب کہ کوہ سلیمان کے پہاڑی سلسلوں میں بارش کے بعد ندی نالوں میں طغیانی آگئی ہے۔پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی سندھ نے بارشوں سے صوبے میں ہونیوالے نقصانات کی رپورٹ جاری کر دی۔پی ڈی ایم اے سندھ کی جاری کی گئی رپورٹ کے مطابق حالیہ بارشوں کے دوران کراچی جنوبی اور کورنگی میں 3 افراد اور ضلع غربی اور ملیر میں ایک ایک بچے کو بچایا گیا۔پی ڈی ایم اے حکام کے مطابق ضلع خیر پور اور نو شہروفیروز میں بارش کے دوران پیش آنیوالے حادثات میں 2 افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔پی ڈی ایم اے حکام کا اپنی رپورٹ میں مزید کہنا ہے کہ بارش کے دوران کراچی کے ضلع جنوبی میں 2، جامشورو میں 3 اور شہید بینظیر آباد میں ایک شخص زخمی ہوا۔پی ڈی ایم اے حکام کا جاری کی گئی رپورٹ میں یہ بھی کہنا ہے کہ بارشوں سے سکھر میں 132 ایکڑ پر پھیلی فصل کو نقصان پہنچا ہے۔پہاڑی تودہ گرنے سے سندھ اور بلوچستان کا زمینی رابطہ منقطع ہو گیا۔خضدار رتوڈیرو ایم 8 روڈ بھلونک کے مقام پر پہاڑی تودہ گرنے سے سندھ اور بلوچستان کا زمینی رابطہ منقطع ہو گیا۔ جس کی وجہ سے سینکڑوں گاڑیاں سڑک پر پھنس گئیں اور مسافر کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔سیلابی ریلا گیس پائپ لائنیں بہا لے گیا، بلوچستان کے کئی شہروں میں بلوچستان کے ضلع بولان میں بارشوں کے باعث اانے والے سیلاب کے باعث شکار پور سے کوئٹہ آنے والی 2 گیس پائپ لائنیں  پانی میں بہہ گئیں۔ترجمان سوئی سدرن گیس کمپنی کے مطابق ہفتہ کو ضلع بولان کے علاقے بی بی نانی میں سیلابی ریلے سے سوئی گیس کی 24 اور 12 انچ قطر کی 2 پائپ لائنیں بہہ گئیں۔پائپ لائنیں بہہ جانے کی وجہ سے مستونگ، قلات، پشین اور زیارت کو گیس کی سپلائی معطل ہوگئی جب کہ کوئٹہ میں بھی گیس پریشر کم ہو گیا۔ دوسری جانب بلوچستان میں سیلابی صورتحال کے باعث محکمہ صحت نے صوبے کے تمام اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔کراچی میں مون سون کی بارش کے بعد  کے الیکٹرک کا بجلی کی ترسیل کا نظام درہم برہم ہو گیا جس سے کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی گھنٹوں  سے بند ہے۔ بارش کے باعث کے الیکٹرک کے 174 فیڈرز  بند ہیں، مختلف مقامات پر گزشتہ روز پیدا ہونے والی فنی خرابیاں دور نہیں کی جا سکی ہیں،  بجلی کے ٹوٹے ہوئے تاروں کی مرمت نہیں کی جا سکی اور کیبل فالٹ تاحال درست نہیں کیے جا سکے ہیں۔ موسیٰ کالونی، غریب آباد، خواجہ اجمیر نگری، گلشن حدید، ابوالحسن اصفہانی روڈ، سہراب گوٹھ، لانڈھی، پاک کالونی، سرجانی ٹاؤن، احسن آباد، ملیر، لیاقت آباد اور بلدیہ میں بھی بجلی کی فراہمی معطل ہے۔اشدید بارشوں کی وجہ سے ٹرینوں کا شیڈول بھی بری طرح متاثرہو گیا،مختلف ٹرینیں گھنٹوں تاخیر کا شکار رہیں جس کی وجہ سے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑاصوبائی دارالحکومت لاہورکے مختلف علاقوں میں موسلادھار بارش سے حبس کی شدت میں کمی آ گئی تاہم نشیبی علاقے زیرآب آنے سے شہریوں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا،مختلف علاقوں میں کئی کئی فٹ پانی کھڑا ہو گیا،کئی شاہراہوں پر پانی کھڑا ہونے سے گاڑیاں اورموٹر سائیکلیں بند  ہونے کے باعث ٹریفک کا نظام بھی درہم برہم رہا، شدیدبارش سے بجلی کا ترسیلی نظام بھی متاثرہواجسے وقفے وقفے سے بحال کیا جاتا رہا۔۔گڑھی شاہو،لکشمی چوک، کوپر روڈ، ڈیوٹی فری شاپ،پلازہ سینما چوک،ظہور الٰہی روڈ، گھوڑے شاہ، ایک موریہ پل سمیت کئی شاہراہوں پر پانی کھڑا ہونے سے موٹرسائیکلیں اور گاڑیاں بند ہونے سے ٹریفک کا نظام بھی بری طرح متاثر ہوا۔ نوشہرہ ورکاں میں بارش کے باعث مکان کی چھت گرنے سے دو افراد جاں بحق، پانچ زخمی۔ نواحی گاؤں میلو ورکاں کے رہائشی پرویز مسیح کے مکان کی بوسیدہ چھت  بارش کے باعث گر گئی اور ایک ہی خاندان کے سات افراد ملبے تلے دب گئے جس سے دو بہن بھائی دس سالہ راحیل اور چودہ سالہ نرما موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے جبکہ زخمیوں رضیہ بی بی زوجہ پرویز مسیح اس کے پچیس سالہ بیٹے عدیل اور تین بیٹیوں صائمہ ثناء اور نشاء کو ریسکیو 1122 کی ٹیم نے ابتدائی طبی امداد کے بعد تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال منتقل کر دیا جہاں ان کی حالت تسلی بخش بتائی جاتی ہے۔

بارش

مزید :

صفحہ اول -