کاچھو کا علاقہ ڈوب گیا، عوا م کو بچانے فوج کے علاوہ کوئی نہیں آیا؛پ حلیم عادل شیخ 

          کاچھو کا علاقہ ڈوب گیا، عوا م کو بچانے فوج کے علاوہ کوئی نہیں آیا؛پ ...

  

  کراچی (اسٹاف رپورٹر)پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی نائب صدر و سندھ اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر حلیم عادل شیخ ضلع دادو کے علاقے جوہی پہنچ گئے جہاں کاچھو میں انہوں نے نئین گاج کے پانی سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا متاثرہ خاندانوں سے ملاقات  کی  اور صورتحال کا جائزہ لیا۔ انہوں نے کاچھو میں ایف بی بند کا بھی دورہ کیا۔ ان کے ہمراہ پی ٹی آئی کے رہنما سردار حاکم علی نوحانی، رجب شاہانی، سردار عاشق زنؤر، مرتضیٰ شاہ جیلانی، امین اللہ موسیٰ خیل، علی میرجت، محمد علی شاہ، غلام حیدر سیال بھی شریک تھے۔ حلیم عادل شیخ کراچی سے دادو پہنچے تھے۔ اس موقع پر انہوں نے میڈیا سے بات چیت کرت ہوئے کہا کہ بلوچستان سے آنے والا پانی نئین گاج سے منچھر جھیل جاتا ہے،کئی مقامات پر نئین گاج میں شگاف کی وجہ  سے محتلف گاؤں زیر آب آگئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نااہل سندھ حکمرانوں نے پتہ بھی نہیں لگایا کہ اس بار پانی زیادہ آئیگا اور ایسی سیلابی صورتحال ہوگی۔اس وقت دو سو سے زائد دیہات زیر آب آچکیہیں لیکن ریسکیو کے لئے سندھ حکومت کا کوئی ادارہ نہیں پہنچ ہے۔ حلیم عادل شیخ نے کہا کہ سیلاب کے آنے سیگزشتہ روز علاقہ مکین درختوں پر چڑھ کر  مدد مانگ رہے تھے،میڈیا اور سوشل میڈیا پر دکھایا جارہا  تھا لیکن  انتظامیہ تاحال نہیں پہنچی ہے، عوام بے یارو مددگار ہے،  یہ وزیر اعلی کا اپنا حلقہ ہے لیکن یہاں پر کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے اپنے ووٹر کو بھی بے یارو مددگار چھوڑ دیا ہے۔ ایسے سنگین حالات میں بھی نظر نہیں آرہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سلام پیش کرتے ہیں افواج پاکستان کو جن کی ٹیمیں گزشتہ روز سے پہنچی ہوئی ہیں،فوج کے جوان علاقہ مکینوں کو ریسکیو کر کے محفوظ مقامات پر پہنچا رہی ہیں جبکہ کھانے پینے کی چیزیں بھی فراہم کی جارہی ہیں۔ حلیم عادل شیخ نے سماجی اداروں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ علاقہ میں حالات خراب ہیں سماجی تنظیمیں متاثرین کی مدد کے لئے علاقے میں پہنچیں۔ دوسری جانب  پی ٹی آئی مرکزی رہنما و پارلیمانی لیڈر  نے کہا کہ ایف بی بند کی پچنگ کے پتھروں کو اٹھاکر شگاف بند کرنے کی کوشش کی جارہی، اس سے ایف بند کو  مزید کمزور کیا جارہا ہے تاکہ مزید شگاف پڑیں، پانی سے دو سو سے زائد دیہات پہلے ہی زیر آب آچکے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شگاف پر نہ کئے گئے تو پانی جوہی شہر تک جاسکتا ہے جس سے مزید نقصان کے خدشات ہیں۔ حلیم عادل شیخ نے مزید کہا کہ وزیر اعلی سندھ کو اس وقت پی ایم ڈی اے اور دیگر اداروں سمیت یہاں اپنے حلقے کی عوام کی مدد کو پہنچنا چاہئے تھا۔ لیکن ابھی تک سوئے افواج پاکستان اور ایدھی رضاکاروں کے کوئی نہیں پہنچا ہے۔ سندھ حکومت کے پاس وسائل موجود ہیں لیکن وہ عوام کے فلاح و بہبود کے لئے کام کرنے کو تیار نہیں ہے سندھ میں تاحال کوئی 1122 جیسا کوئی ریسکیو ادارہ نہیں بنایا گیا ہے جس سے ایسے حالات میں عوام کی مدد کی جاسکے۔ 

مزید :

صفحہ آخر -