وزیر توانائی سندھ کا عمر ایوب  کے دورہ سندھ پر ردعمل

وزیر توانائی سندھ کا عمر ایوب  کے دورہ سندھ پر ردعمل

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر)انٹلیکچول فورم آف پاکستان کے چیئرمین محمد اسلم خان کے زیر صدارت ایک اجلاس کراچی آفس میں منعقد کیا گیا جس میں کروناکے بعد پاکستان اور خاص طورپر کراچی جو منی پاکستان کہلاتا ہے اسکے حالات پر غور کیا گیا، جہاں پورے پاکستان کے لوگ چاہے وہ پنجابی ہوں، مہاجرہوں، پٹھان ہوں، بلوچ یا سندھی ہوں پاکستان کے ہر حصے کے لوگ یہاں رہتے ہیں، اجلاس میں شریک ممبران نے اپنی رائے میں کہا کہ گزشتہ 12 سال سے کراچی کا بری طرح استحصال کیا جا رہا ہے یہاں کے لوگوں کو چاہے وہ پنجابی ہوں مہاجرہوں پٹھان ہوں بلوچ ہوں یا کراچی کا رہنے والا سندھی، ان کو کہیں بھی گورنمنٹ میں ان کو کوئی نوکری دی جارہی اور نہ ہی کراچی   کے لوگوں کو ان کا حق دیا جا رہاہے جس کی وجہ سے تمام لوگوں میں بے چینی پھیل رہی ہے۔کراچی ایک میٹروپولیٹن سٹی ہے جس میں پبلک  ٹرانسپورٹ نہیں، روڈ کھنڈرات کا منظر پیش کر رہے ہیں،پانی کی صورتحال حال بہت خراب ہے سیوریج کا نظام بارش اور پلاسٹک کی تھیلیوں اور ناقص منصوبہ بندی کی وجہ سے تباہ ہو چکاہے، کراچی الیکٹرک کے اپنے وعدے پورے نہ ہونے اور ان کی نا اہلی کی وجہ الیکٹرک کا سسٹم  انتہائی ناقص ہو چکا ہے۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے انٹلیکچوؤل فورم آف پاکستان وفاقی حکومت سے مطا لبہ کر تا ہے کہ 1۔ پورے پاکستان میں ڈویژن کی بنیاد پر انتظامی یونٹ بنائے جائیں اور لوکل گورنمنٹ کو تمام اختیارات دئیے جائیں، 2۔ کوٹہ سسٹم کا خاتمہ کیا جائے اور جب سے کوٹہ سسٹم نافذ ہے اس وقت سے کیا کوٹے کا خیال رکھا گیا ہے اور تمام ڈومیسائل کا فرانزک آڈٹ کرایا جائے۔ 3۔ جب تک انتظامی یونٹ نہیں بنائے جاتے اس وقت تک کراچی کو وفاق کے زیر انتظام کیا جائے۔ 4۔کراچی کو میگاسٹی کا درجہ دے کر میگاسٹی کے اختیارا ت اور فنڈز دیئے جائیں۔5۔ کراچی پولیس میں مقامی افراد بھرتی کیے جائیں۔6۔ این ایف سی ایوارڈ میں سندھ کو جو حصہ دیا جاتا ہے اس میں 5% اس لئے زیادہ دیا جاتاہے کہ سندھ زیادہ ٹیکس وصول کرکے دیتاہے جو 70% سے زیادہ ہے اس لیے یہ 5%کراچی کو دیا جائے  اس طرح 90%کرا چی سندھ کے بجٹ میں اپنا حصہ ڈالتا ہے اس کے بدلے کراچی کو کیا ملتاہے کراچی کو اس کا حق دیا جائے۔ 7۔ مردم شماری دوبارہ کرائی جائے،کیوں کہ مردم شماری میں لاکھوں پٹھان لاکھوں پنجابی لاکھوں سرائیکی لاکھوں سندھی جو اب کراچی میں رہتے اور کراچی کی یوٹیلیٹی استعمال کرتے ہیں لیکن مردم شماری میں ان کا نام ان کے صوبوں میں درج ہے کیونکہ یہ اب کراچی کے مستقل شہری ہیں اس لئے ان کا ووٹ یہاں درج کیا جائے۔

مزید :

صفحہ آخر -