کرونا فنڈز میں مبینہ گھپلے، نشتر ہسپتال انتظامیہ سے تما م ریکارڈ طلب

  کرونا فنڈز میں مبینہ گھپلے، نشتر ہسپتال انتظامیہ سے تما م ریکارڈ طلب

  

 ملتان (وقائع نگار) نشتر ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے  کورونا  وائرس کے دنوں میں حکومت کی طرف سے ملنے والے  کروڑوں روپے کے امدادی فنڈز کو بے دردی سے استعمال کرنے کا معاملہ سامنے آ گیا۔ اینٹی کرپشن ملتان کے انکوائری افسر نے آج (سوموار) کو نشتر ہسپتال سے متعلقہ سرکاری ریکارڈ طلب کرلیا ہے۔اس کے علاؤہ  نشتر ہسپتال انتظامیہ کو کہا گیا ہے(بقیہ نمبر44صفحہ6پر)

 کہ وہ  اینٹی کرپشن ملتان  میں جاری انکوائری میں مطلوبہ دیگر ریکارڈ کی فراہمی کیلئے ایک علیحدہ سا فوکل پرسن نامزد کریں۔جو ضرورت کے مطابق انکوائری میں ریکارڈ فراہم کرے گا۔واضح رہے نشتر ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر شاہد بخاری نے کچھ عرصہ قبل من پسند ٹھیکدار کو کروڑوں روپے کی غیر قانونی ایڈوانس رقم دی۔جو پیپرا رولز کے برعکس ہے۔اسی طرح زائد قمیتوں پر کروڑوں  روپے کی ادویات سمیت دیگر کورونا کے دنوں میں استعمال ہونے والی ضروری اشیاء  کو خرید کیا۔مزید یہ کہ نشتر ہسپتال کے ڈائریکٹر فنانس غضنفر عباس نے پرچیز کیمٹی و دیگر خریداری پر اعتراض اٹھایا۔اور ایک تحریر اعلی حکام کو لکھ دی ہے۔ذرائع کے مطابق نشتر ہسپتال کے ایک اے ایم ایس جو گریڈ 17 میں ایڈھاک پر بھرتی ہوئے ہیں۔دیگر ساتھی ملازمین کو کہتے پھر رہے کہ میرے انکل اینٹی کرپشن میں ڈپٹی ڈائریکٹر ہے۔جن کے ذریعے جو مرضی کروایا جاسکتا ہے۔لیکن دوسری جانب اینٹی کرپشن نے نشتر ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر شاہد بخاری سمیت دیگر  افراد کے خلاف سورس رپورٹ پر مبنی انکوائری میں ثبوت حاصل کرلئے ہیں۔جن کی روشنی میں سخت کاروائی عمل لائے جائے گی۔ائندہ چند دنوں میں اہم انکشافات مزید متوقع ہیں۔

طلب

مزید :

ملتان صفحہ آخر -