ملتان:ہیلتھ آفس سے سرکاری گاڑی چوری،  پولیس ملزموں کو ریلیف دینے کیلئے متحرک

ملتان:ہیلتھ آفس سے سرکاری گاڑی چوری،  پولیس ملزموں کو ریلیف دینے کیلئے متحرک

  

ملتان (وقائع نگار) محکمہ صحت ملتان میں سرکاری ریکارڈ و ڈالا چوری ہونے کا معاملہ اہم رخ اختیار کرگیا ہے ایس ایچ او کوتوالی سرکاری مقدمہ میں ملوث ملزمان کو تفتیش کے اندر رعایت دینے کیلئے ٹیکنیکل راستہ تلاش کرنے (بقیہ نمبر35صفحہ6پر)

میں مصروف ہوگیا۔جبکہ پندرہ روز سے زائد کا عرصہ گزرنے کے باوجود چوری کے  مقدمہ میں سرکاری ڈالا کی برآمدگی نا ہونے سے پولیس کی کارکردگی پر کئی سوالات نے جنم لے لیا ہے۔معلوم ہوا ہے جولائی کے ماہ میں اتوار کے روز محکمہ صحت کے سابق سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر منور عباس نے دفتر کے تالے توڑ کر دفتری اہم سرکاری ریکارڈ اور ڈالا چوری کرلیا۔مقامی پولیس کے لیت و لعل کے بعد  اعلی صوبائی افسران  صحت کی مداخلت پر فوری مقدمہ درج ہوا۔پولیس کی طرف سے  ڈاکٹر منور عباس و دیگر ملزمان کے خلاف بروقت قانونی کاروائی نہ ہونے کا ملزمان نے بھرپور فایدہ اٹھایا۔اور انہوں نے عبوری ضمانت کروالی۔پہلی عدالتی پیشی سے ایک روز قبل ڈاکٹر منور عباس مذکورہ  مقدمہ کے تفتیشی سے تھانے جاکر ملے۔اور اپنی تمام روداد سنائی۔اور کہا کہ آپ کے آفسر نے اپکو کہا ہے  کہ میرا مقدمہ کو خارج کردیں۔اپ نے ابھی تک مقدمہ خارج کیوں نہیں کیا۔ذرائع  نے یہاں اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ ایس ایچ او کوتوالی سب انسپکٹر علی رضا جان بوجھ کر ڈاکٹر منور عباس کو تفتیش میں فائدہ دینے کیلئے کوشش کررہا ہے۔اسی وجہ سے فزیکل طور پر سرکاری ریکارڈ و ڈالے کی برآمدگی کیلئے ملزمان کے مسکن پر جاکر چھاپہ تک  نہیں مارا۔کیونکہ وہ تفتیش کو کمزور کرنا چاہتے ہیں۔جبکہ دوسری طرف محکمہ صحت ملتان کے سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر ارشد ملک نے مذکورہ مقدمہ کی تفتیش میں پیش رفت کے بارے میں تمام تر صورت حال سے صوبائی صحت حکام کو آگاہ کردیا ہے۔

متحرک

مزید :

ملتان صفحہ آخر -