کوہاٹ ڈیم میں تمام تر سہولیات موجود ، بجلی پیدا کرنے کے اقدامات کیے جائیں، قائمہ کمیٹی کی واپڈا کو سفارش 

 کوہاٹ ڈیم میں تمام تر سہولیات موجود ، بجلی پیدا کرنے کے اقدامات کیے جائیں، ...
 کوہاٹ ڈیم میں تمام تر سہولیات موجود ، بجلی پیدا کرنے کے اقدامات کیے جائیں، قائمہ کمیٹی کی واپڈا کو سفارش 

  

اسلام آباد (آئی این پی)سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل نے واپڈا کو سفارش کی ہے کہ کوہاٹ ڈیم میں تمام تر سہولیات موجود ہیں وہاں سے بجلی پیدا کرنے سے متعلق فوری اقدامات کیے جائیں،چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ حیرت کی بات ہے کہ 53سال قبل ڈیم بنا اور اس پر بجلی بنانے سے متعلق کوئی بھی کام نہ کیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق چیئرمین سینٹر شمیم آفریدی کی زیر صدارت آبی وسائل سے متعلق کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں عثمان خان کاکڑ،ثناجمالی اور سید صابر شاہ نے شرکت کی اور واپڈا ،سمال ڈیم حکام وسیکرٹری توانائی بھی شریک ہوئے،اس موقع پر کمیٹی کو بتایا گیا کہ نیلم جہلم ڈیم پر متاثرین نے کالونی لینے سے انکار کرتے ہوئے فی گھر پانچ لاکھ روپے لیے تھے اور وہاں کل متاثرین کی تعداد 28تھی،اس موقع پر کمیٹی کو بتایا گیاکہ آٹھمقام سنہری کے مقام پر بھارتی شیلینگ کی وجہ سے شہری پریشان ہو جاتے ہیں اور وہ بنکرز بنانے کی ڈیمانڈ کرتے ہیں, چئیرمین کمیٹی شمیشم آفریدی نے کہا کہ میں ایک قبائلی ہوں اور میرے اپنے خاندان کی دشمنیاں ہیں بنکرز کی لائف کو بخوبی جانتا ہوں۔

عثمان کاکڑ نے کہا کہ وارسک ڈیم سے متعلق پٹیشنر کو بلانا لازم ہے ،دوسری جانب نیلم جہلم پراجیکٹ پر آزاد کشمیر حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ متاثرین کے 28 گھر تھے چاہتے ہیں کہ 3لاکھ فی گھر سے بڑھا کر پانچ لاکھ دیا جائے متاثرین نے نوکریاں مانگی ہیں۔نیلم جہلم پراجیکٹ میں 7000 ملازمتیں تھیں جن میں 1300 چائینہ اور باقی لوکل تھے،اور لوکل میٹریل کی سپلائی بھی لوکل کمیونٹی کو دی گئی 213 ملازم رکھے گئے 98 آزاد کشمیر کے تھے گریڈ ون سے4 تک نیلم جہلم کے لوکل رکھے جائیں گے،سیکرٹری پاور نے بتایا کہ نان ٹیکنیکل لوگ لوکل ہونگے اور ٹیکنیکل سٹاف میرٹ پر بھرتی کیے جائیں گے،کمیٹی کو بتایا گیا کہ متاثرین کا مطالبہ ہے اس سلائیڈنگ کو روکنے کے لیے دیوار بنا دی جائے۔

سید صابر شاہ نے کہا کہ متاثرین کی بات کو رد نہیں کیا جا سکتا ہے ،چیئرمین نے کہا کہ اگر ایسا ہے تو کمیٹی موقع کا دورہ کرکے فیصلہ کریگی،ڈی جی سمال ڈیم کے پی کے عطاالرحمن نے بتایا کہ کوہاٹ ڈویژن میں بجلی نہیں بنائی جا سکتی ہے, 78ہزار ایکڑ 1967 میں سٹوریج تھی اب وہ بھر چکا ہے,اور ایک سال میں ایک سے ڈیڑھ فٹ مٹی بھر جاتی ہے, صابر شاہ نے کہا کہ ایسا سسٹم نہیں کہ مٹی کو نکالنے کے لیے فیزیبلٹی بنائی ہے یا بس 15 فٹ اوپر چلے جائیں گے,جی ایم واٹر نے بتایا کہ 10 کینال پر بجلی پیدا کرنے کی فزیبلٹی بنا رہے ہیں۔

صابر شاہ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا اپ کو پتہ نہیں،جی ایم نے بتایا کہ5000 میگا واٹ, دیر چترال بالاکوٹ میں قدرتی نالوں پر بجلی بنانے کا کام جاری ہے، کرک, لوار گر گولی بند سمیت 5 ڈیم ہزاروں ایکڑ ززمیں سیراب کرتے ہیں،ڈی جی سمال ڈیم نے بتایا کہ ضمیر گل,خٹک بندہ اور مکھ بندہ ڈیم زیر تعمیر ہیںاور ان سے 7000 ایکڑ زمین سیراب ہو گی، 6 ڈیم ایسے بنائے جو پی ایس ڈی پی کے بنائے گئے ,گندیالی, گاندہ فتح,کندھار نایاب ڈیم بنائے گئے ان سے بھی ہزاروں ایکڑ اراضی سیراب کی جا رہی ہے۔

مزید :

علاقائی -اسلام آباد -