دنیاکا سب سے خوش قسمت انسان جو 2 ایٹمی دھماکوں میں بھی زندہ بچ گیا

دنیاکا سب سے خوش قسمت انسان جو 2 ایٹمی دھماکوں میں بھی زندہ بچ گیا
دنیاکا سب سے خوش قسمت انسان جو 2 ایٹمی دھماکوں میں بھی زندہ بچ گیا

  

ٹوکیو(مانیٹرنگ ڈیسک)امریکہ نے 75سال قبل 6اور 9اگست کو جاپان کے شہروں ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرائے، جس سے یہ دونوں شہر نیست و نابود ہو کر لاشوں سے اٹ گئے اور انسانیت شرمسار ایک طرف کھڑی رہ گئی۔ ہیروشیما میں 1لاکھ 66ہزار اور ناگاساکی میں 80ہزار لوگ ان دھماکوں میں لقمہ اجل بن گئے تاہم ایک قسمت کادھنی ایسا تھا جو ان دونوں دھماکوں سے زندہ بچ نکلا۔ انڈیا ٹائمز کے مطابق اس آدمی کا نام تسوتومو یاماگوشی تھا۔

6اگست کے روز تسوتومو ہیروشیما میں تھا جب شہر پر ایٹم بم گرایا گیا اور تین دن بعد 9اگست کو یہ ناگاساکی پہنچ چکا تھاجہاں دوسرا ایٹمی حملہ کیا گیا اور خوش قسمتی سے یہ دونوں دھماکوں میں زندہ بچ گیا۔ تسوتومو ایک میرین انجینئر تھاجو متسوبشی ہیوی انڈسٹریز کے ساتھ کام کرتا تھا۔ وہ کمپنی کی ناگاساکی شاخ میں کام کرتا تھا اور 6اگست کو کمپنی ہی کے کام سے ہیروشیما گیا ہوا تھا۔ دھماکے کے بعد وہ وہاں سے نکل کر واپس ناگاساکی آ گیا۔ 9اگست کو ہی وہ ناگاساکی پہنچا تھا اور اسی روز وہاں بھی ایٹم بم گرا دیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق پہلے ایٹمی حملے میں تسوتومو معمولی زخمی ہوا تھا۔ دوسرے حملے میں اسے زخم تو نہیں آئے تھے لیکن مرہم پٹی نہ ہونے کی وجہ سے اسے انتہائی تیز بخار ہو گیا اور وہ ایک ہفتے تک مسلسل قے کرتا رہا۔ جنگ کے خاتمے کے بعد اس نے اپنی بیوی کے ساتھ نئی زندگی شروع کی۔ اس کی بیوی بھی ناگاساکی کی رہائشی تھی اور بم حملے میں زندہ بچ گئی تھی۔ تسوتومو کا انتقال 2010ءمیں 93سال کی عمر میں ہوا۔ اس کی دو بیٹیاں تھیں۔ اس نے باقی عمر صحت مندی کے ساتھ گزاری۔

مزید :

بین الاقوامی -