نیا فالس فلیگ یا جنگ بندی سے فرار کے بہانے؟

نیا فالس فلیگ یا جنگ بندی سے فرار کے بہانے؟

  

پاکستان نے بھارتی میڈیا میں لگایا جانے والا یہ الزام مسترد کر دیا ہے کہ لائن آف کنٹرول سے نام نہاد دہشت گرد بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ کشمیر میں بھیجے جا رہے ہیں۔ بھارت نے لائن آف کنٹرول پر تہہ در تہہ خاردار تار لگا رکھے ہیں، الیکٹرانک نگرانی کے آلات نصب کر رکھے ہیں 9لاکھ سے زائد فوجی بھی ریاست میں متعین ہیں۔ پاکستان نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا اتنے زیادہ سیکیورٹی انتظامات میں بھی لائن آف کنٹرول قابلِ عبور ہے؟ دفتر خارجہ کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ جعلی فلیگ آپریشن بھارت کی دیرینہ خواہش ہے بھارت ہمیشہ پاکستان کے خلاف جھوٹی مہم جوئی میں مصروف رہتا ہے۔ یہ عزائم یورپی یونین کی ڈس انفولیب کی رپورٹ میں پوری طرح سے بے نقاب ہو گئے تھے۔ بھارت ریاستی دہشت گردی میں ملوث ہے۔ فروری 2007ء میں سمجھوتہ ایکسپریس سانحہ اور جون 2021ء میں لاہور دھماکے میں بھارت کا ہاتھ تھا ریاستی دہشت گردی، دہشت گردوں کی سرپرستی اور مالی وسائل کی فراہمی میں بھارت کے ملوث ہونے کے ثبوت دنیا کو دیئے جاچکے ہیں۔ پاکستان نے خبردار کیا ہے کہ بھارت کنٹرول لائن پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کے بہانے نہ ڈھونڈے۔ خود ساختہ جھوٹ گھڑنے اور حیلے بہانے تراشنے سے باز رہے۔ بھارت کے غیرذمہ دارانہ رویئے کے نتائج خطے میں امن و سلامتی کے لئے اچھے نہیں ہوں گے۔ ترجمان دفترخارجہ زاہد حفیظ چودھری نے کہا کہ دنیا جانتی ہے کہ بھارت پاکستان کے خلاف کینہ و بغض پر مبنی کردارکشی کی مہم چلاتا رہتا ہے۔

کشمیر کی کنٹرول لائن پر جنگ بندی کا معاہدہ تو 2003ء میں ہوا تھا لیکن اس سارے عرصے میں بھارت نے دوہزار سے زیادہ مرتبہ معاہدے کی خلاف ورزیاں کیں جس پر پاکستان مسلسل احتجاج ریکارڈ کراتا رہا بھارت میں جب بھی کوئی نہ کوئی انتخابات ہوئے، خلاف ورزیوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ پاکستان مخالف پروپیگنڈہ مہم بھی تیز تر ہو جاتی،وزیراعظم مودی نے جب پہلی مرتبہ لوک سبھا کے انتخابات جیت کر حکومت بنائی اس وقت سے لے کر دوسری مرتبہ کی انتخابی مہم تک یہ مہم منظم انداز میں جاری تھی وہ کبھی پانی روکنے کی دھمکیاں دیتے اور کبھی سرجیکل سٹرائیک کے فسانے تراشتے، جونہی کوئی ضمنی انتخاب یا ریاستی انتخاب قریب آتا مہم جوئی کی لے اچانک تیز تر کر دی جاتی کیونکہ جناب مودی کو انتخاب جیتنے کا یہ امرت دھارا ہاتھ لگ گیا تھا کہ اپنے لوگوں کو پاکستان کے خوف میں مبتلا کرکے ان سے ووٹ حاصل کرو، انہوں نے ہندو ووٹ کے لئے اقلیتوں کے خلاف بھی اقدامات کئے اور مسلمانوں کو بھارت سے نکالنے کی باتیں بھی کیں۔ ایسی ہی اشتعال انگیزی دہلی میں فسادات کی شکل میں ظاہر ہوئی جس نے 47ء کے خونریز ہنگاموں کی یادیں تازہ کر دیں۔ تاہم سالِ رواں کے فروری کے مہینے میں بھارت نے سیز فائر معاہدے کی پابندی کا دوبارہ عہد کیا الزام تراشیوں کے باوجود کسی نہ کسی طرح جنگ بندی کا سلسلہ جاری ہے لیکن بھارت نے پلوامہ میں جو جعلی فلیگ ڈرامہ رچایا اس کے ایکشن ری پلے کے لئے اس کی طبیعت مچلتی رہتی ہے اور پاکستان کے دفتر خارجہ نے کئی بار اس شبہے کا اظہار کیا ہے کہ بھارت دوبارہ کسی وقت کسی دوسری جگہ ایسا ہی ڈرامہ کرنا چاہتا ہے اب یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ سیز فائر سے بھاگنے کے بہانے ڈھونڈ رہا ہے۔

بالاکوٹ پر حملے اور سرجیکل سٹرائیک کے جو ناٹک رچائے گئے ان کی حقیقت سے جلد ہی پردہ اٹھ گیا، بھارت نے اپنا جو جہاز پاکستان پر حملے کے لئے بھیجا وہ تو پاکستانی ہوا بازوں نے گرا لیا اور پائلٹ کو پکڑ لیا  لیکن بالا کوٹ پر حملے کے بعد یہ دعویٰ کیا گیا کہ وہاں دہشت گردوں کے کیمپ تباہ کر دیئے گئے ہیں جس علاقے پر بم پھینکنے کے دعوے کئے گئے اگلے ہی روز وہاں غیر ملکی اخبار نویس پہنچے تو وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ چند درختوں کی شاخیں ٹوٹ کر زمین پر گری ہوئی تھیں البتہ ان 350دہشت گردوں کے اجسام کی باقیات یا خون کا کوئی نام و نشان نہ تھا جو بھارتی دعوے کے مطابق ہلاک کئے گئے تھے کئی دن تک تکرار کے ساتھ اس دعوے کو دہرایا جاتا رہا لیکن بالآخر کئی ماہ بعد بھارتی وزیر خارجہ نے مان ہی لیا کہ بھارتی حملے کے نتیجے میں نہ تو کوئی کیمپ تباہ کیا جا سکا تھا اور نہ ہی کوئی ہلاکت ہوئی تھی۔ اسی طرح کے دعوے سرجیکل سٹرائیک کے سلسلے میں بھی کئے گئے اور آج تک کوئی ثبوت نہیں ملاکہ یہ سٹرائیک کس علاقے میں ہوئی تھی۔ پلوامہ میں دہشت گردی کے بعد بھی فالس فلیگ ڈرامہ رچا گیا۔

 اب ایک مرتبہ پھر بھارتی میڈیا میں شور مچا ہے کہ لائن آف کنٹرول سے دہشت گرد مقبوضہ کشمیر میں داخل کئے جا رہے ہیں جن لوگوں نے اس علاقے کا دورہ کیا ہے وہ جانتے ہیں کہ خاردار تاروں کا جال اس انداز میں بچھا دیا گیا ہے کہ یہاں سے کسی کا گزر ممکن نہیں۔ اس کے باوجود اگر بھارتی دعوے کو درست مان لیا جائے تو پھر اس کی فوجی صلاحیتوں پر سنجیدہ سوالات اٹھیں گے کہ اتنی بھاری نفری اور اتنے زیادہ سیکیورٹی انتظامات کے باوجود بھی اگر ”دراندازی“ نہیں رک رہی تو پھر لاکھوں کی فوج وہاں کیا پاپڑ بیل رہی ہے؟ دراصل کشمیری عوام نے جو تحریک شروع کر رکھی ہے بھارتی فوج اس پر قابو پانے میں ناکام رہی ہے گھروں پر مسلسل چھاپوں اور ہر سڑک اور ہر گلی کے موڑ پر ناکے لگانے کے باوجود جب جلسے جلوس اور مظاہرے نہیں رک سکے تو بھارتی فوج کے پاس اس کے سوا کوئی جواز باقی نہیں بچتا کہ وہ یہ دعویٰ کرے کہ پاکستان لائن آف کنٹرول کے راستے دہشت گرد مقبوضہ کشمیر بھیج رہا ہے۔ بھارت کو چاہیے کہ غیر ملکی صحافیوں کو ریاست کے دورے کی اجازت دے اور انہیں کنٹرول لائن تک بھی جانے دے تاکہ وہ بچشمِ سر دیکھ سکیں کہ کیا تہہ در تہہ خاردار تاروں کی باڑ کے باوجود ایسا ممکن بھی ہے کہ کوئی مبینہ دہشت گرد مقبوضہ کشمیر جا سکے، لیکن وہ غیر ملکیوں کو تو اجازت کیا دے گا جو وفود وہ خود منتخب کرکے مقبوضہ کشمیر بھیجتا ہے انہیں بھی مخصوص علاقوں سے باہر جانے کی اجازت نہیں اور ایسے کئی وفود نے واپس نئی دہلی جا کر یہ رپورٹیں دی ہیں کہ انہیں نقل و حرکت کی آزادی نہ تھی اور نہ انہیں عوام سے مل کر ان سے سوالات کی اجازت دی گئی ایسے میں پاکستان کا یہ خیال درست لگتا ہے کہ یا تو پلوامہ کی طرح کا کوئی نیا سٹیج تیار کیا جا رہا ہے یا پھر کسی نہ کسی بہانے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا سوچا جا رہا ہے کیونکہ کشمیریوں کی تحریک آزادی کے آگے بند باندھنے میں ناکامی کا کوئی نہ کوئی جواز تو تلاش کرنا ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -