یوم آزادی منانے کے تفاضے!

یوم آزادی منانے کے تفاضے!
یوم آزادی منانے کے تفاضے!

  

قیام پاکستان کے وقت برصغیر طوفانی بارشوں کی لپیٹ میں تھا۔دریاؤں میں شدید طغیانی تھی،بہت سے علاقے سیلاب کی زد میں تھے،نالوں نے دریاؤں کی شکل اختیار کر لی تھی اور دریا سمندربن گئے تھے، ایسے میں ہندوستان کے دور دراز علاقوں سے مہاجرین کے قافلے جو پاکستان کی طرف رواں دواں تھے، ان پر ہندوؤں اور سکھوں کے حملوں کے باعث ہر طرف خوف و ہراس  پھیلا ہوا تھا۔ ایسے کربناک لمحات تھے کہ جنہیں احاطہ ئ  تحریر میں لانا ممکن نہیں ہے۔

 آئیے…… صرف ایک لمحے کو تصور کریں ان حالات کا،جب آناً فاناً مسلمانوں کی بستیوں کو اجاڑ دیا گیا، ان کے گھروں کو آگ لگا دی گئی، انہیں گاجر مولی کی طرح کاٹا گیا، مسلمان عورتوں اور لڑکیوں کی عصمت دری کی گئی۔ان کے گاؤں کے گاؤں صفحہء ہستی سے مٹا دیئے گئے۔ان قافلوں کو بے دردی سے لوٹا گیا جو پاکستان کی طرف رواں دواں تھے۔ مسلمان بچوں اور جوانوں کو بے دریغ قتل کیا گیا، خون کی وہ ہولی کون بھول سکتا ہے جو سکھوں اور ہندوؤں دونوں نے مل کر کھیلی، ان کربناک لمحات کوکیسے بھلایا جا سکتا ہے جب ماؤں کے سامنے ان کے بیٹوں کو،بہنوں کے سامنے ان کے بھائیوں کو،بیویوں کے سامنے ان کے شوہروں کے سینوں کو گولیوں، برچھیوں، تلواروں اور نیزوں کے وار سے چھلنی کر دیا گیا۔وہ سرخ سرخ گرم گرم بہتا ہوا لہو کون بھول سکتا ہے، جس میں نہ جانے کتنی ماؤں کے آنسوؤں کی گرمی شامل تھی، جس میں نہ جانے کتنی بہنوں کے ارمان سلگ رہے تھے، جس میں نہ جانے کتنی سہاگنوں کے سہاگ کی مہندی رچی تھی، آج بھی ان لمحات کا تصور کر کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں، وہ مائیں،وہ بہنیں، وہ بچے، وہ بوڑھے اور جوان جن کے سامنے یہ سب کچھ ہوا، وہ یہ سب کیسے بھول سکتے ہیں۔ان سب صدموں کے باوجود جب مسلمانوں کے لُٹے پٹے یہ قافلے پاکستان کی سرزمین پر پہنچتے تھے تو وہ لوگ سجدے میں گر کر اللہ رب العزت کا شکر بجا لاتے تھے، نئی نسل کو کیا معلوم کہ اس پیارے وطن پاکستان کو حاصل کرنے کے لئے ہمارے آباؤ اجداد نے کس قدر قربانیاں دیں، نئی نسل کو یہ سب کچھ بتانے کی ضرورت ہے۔ہماری ذمہ داری ہے کہ نئی نسل کی تربیت اس انداز میں کریں کہ بڑھتی ہوئی عمر کے ساتھ ساتھ ان میں وطن سے محبت بھی پروان چڑھتی چلی جائے۔

قیامِ پاکستان تک کا سفر آسان نہیں تھا، اس منزل تک پہنچنے کے لئے برصغیر کے مسلمانوں کو جن جاں گداز مراحل سے گزرنا پڑا، اسے لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا، یہ سفر چند دن، چند ماہ یا چند سال میں طے نہیں ہوا، بلکہ اس کے لئے کم و بیش ایک صدی تک برصغیر کے مسلمانوں نے جدوجہد کی، تب کہیں جا کر پاکستان دنیا کے نقشے پر ایک آزاد اور خودمختار اسلامی مملکت کے طور پر معرضِ وجود میں آیا۔14اگست 1947ء کو پاکستان تو بن گیا،لیکن اس نوزائیدہ مملکت کو اپنے قدموں پرکھڑا ہونے کے لئے جن مشکلات سے گزرنا پڑا، اس سے ہم سب بخوبی واقف ہیں۔پاکستان وجود میں آیا تو اسے اس کے حصے کے وسائل سے محروم رکھا گیا اور پھر چند سال بعد ہی اس مملکت خداداد کو ختم کرنے کی سازشیں شروع ہوگئیں۔

قائداعظمؒ کی وفات کے بعد لیاقت علی خانؒ کا قتل دوسرا بڑا سانحہ تھا۔ اس سے بڑا سانحہ 1971ء  میں ملک کا دولخت ہونا تھا۔ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد  پاکستان کو جن حالات کا سامنا کرنا پڑا، وہ معجزہ ہی تھا کہ باقی ماندہ پاکستان نہ صرف قائم رہا، بلکہ اس نے مختلف شعبوں میں خاطر خواہ ترقی بھی کی۔ لیاقت علی خانؒ کی وفات کے بعد ملک میں جمہوریت کو پنپنے ہی نہ دیا گیا۔ملک میں طویل عرصہ یا تو آمریت قائم رہی یا پھر آمریت زدہ جمہوریت۔ذوالفقار علی بھٹو ہوں یا میاں محمد نوازشریف ان کی سیاست کا آغاز تو آمریتوں میں ہوالیکن انہوں نے اپنے دورِ حکومت میں جمہوریت کو پروان چڑھانے کی  ہر ممکن کوشش کی۔

پاکستان جب قائم ہوا تواس کے پاس وسائل نہ ہونے کے برابر تھے، لیکن آج  پاکستان قدرے خوشحال ملک ہے۔یہ ترقی پاکستان نے ان حالات میں کی ہے،جبکہ ملک کے  بہت سے ادارے کرپشن کا گڑھ بن چکے ہیں۔ ملک کا ہر شخض خواہ وہ کسی بھی عہدے پر براجمان ہے،وہ مکمل نیک نیتی اور ایمانداری سے اپنے فرائض ادا نہیں کررہا۔اس کے باوجود بھی پاکستان آج ایٹمی قوت ہے اور بہت سے شعبوں میں پاکستان نے قابل قدر ترقی بھی کی ہے۔ ملک کو آزاد ہوئے 74 برس مکمل ہوچکے ہیں،قوم75واں یوم آزادی جوش و خروش سے منانے کی تیاریاں کر رہی ہے۔یوم آزادی منانے کا تقاضا ہے کہ ہم اپنی 74برس کی کمیوں کوتاہیوں کا جائزہ لیں کہ کس کس جگہ اور کہاں کہاں کوتاہیاں ہوئی ہیں،کیونکہ اگر کوتاہیاں نہ ہوئی ہوتیں تو آج پاکستان کا شمار بھی ترقی یافتہ ممالک میں ہوتا۔

آج وزیراعظم پاکستان عمران خان ملک کو معاشی استحکام کی جانب گامزن کرنے کے لئے اپنے تئیں کوشاں ہیں۔اس مقصد کے حصول کے لئے کچھ سخت فیصلے بھی کئے جا رہے ہیں، جس کے نتیجے میں ملک میں مہنگائی کا ایک طوفان دکھائی دیتا ہے، ایسے میں قوم کو یہ امید ضرور ہے کہ ملک میں جلد معاشی استحکام ہوگا اور ترقی کا پہیہ پوری رفتار سے چلے گا،اگرچہ بظاہر اس کے کوئی آثار دکھائی نہیں دے رہے۔اس کے لئے ضروری ہے کہ ملک کو قائداعظم محمد علی جناح ؒ کے فرمودات کی روشنی میں چلایا جائے اور ہمیں اپنی پہچان سندھی، بلوچی، پٹھان اور پنجابی کے نہیں،بلکہ بطور پاکستانی کے کرانی چاہئے۔ملک کی تمام سیاسی جماعتیں متحدہوں اور قومی سطح پر ملک کی فلاح و بہبود کے لئے پالیسیاں  مرتب کریں، بالخصوص نوجوانوں میں جذبہ حب الوطنی کو اجاگر کیا جائے۔قوم کا ہر فرد یہ عہد کرے کہ وہ ملک کی ترقی، فلاح و بہبود اور خوشحالی کے لئے اپنے فرائض  ایمانداری اور دیانت داری سے ادا کرے گا اور  ملک  کے وسیع تر مفاد اور استحکام کے لئے اپنے تمام وسائل بروئے کار لائے گا، اگر ایسا ہوگیا تو پھر یقین جانئے کہ وہ وقت جلد آئے گا جب پاکستان کا شمار بھی ترقی یافتہ ممالک میں ہوگا۔

مزید :

رائے -کالم -