بیانئے میں اعتدال

بیانئے میں اعتدال
بیانئے میں اعتدال

  

میں پچھلے تین برسوں سے جاری معاملات اور حالات و واقعات کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے ملک اور عوام کے وسیع تر مفاد میں اس کالم کے ذریعے سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف سے مخاطب ہوں۔جیسا کہ آپ جانتے ہیں ' عوام نے تبدیلی کے نعروں پر لبیک کہتے ہوئے 2018 کے انتخابات میں پاکستان تحریکِ انصاف کو ووٹ دے کر اقتدار کے سنگھاسن پر بٹھایا تھا۔ ایمان داری کی بات یہ ہے کہ بہت سے دوسرے لوگوں کی طرح میں نے بھی یقین کر لیا تھا کہ نئی جماعت برسرِ اقتدار آئی ہے تو کچھ کر کے دکھائے گی اور یوں جو کام پچھلی حکومتیں نہیں کر سکیں وہ ممکن ہے یہ نئی حکومت کر جائے' لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ وہ امیدیں پوری نہیں ہو سکی ہیں۔ عمران خان صاحب نے 2014 کے اسلام آباد دھرنے کے دوران کنٹینر پر کھڑے ہو کر جو دعوے اور جو وعدے کئے تھے' وہ اتنے دلچسپ اور دل کش تھے کہ امید نہ باندھنے کی کوئی وجہ نہ تھی۔ سوچا' چلو ملک کی ترقی ہماری ترقی ہے اور ملک آگے بڑھے گا تو لامحالہ عوام کے حالات بھی ٹھیک ہو جائیں گے۔ پاکستان بھر کے عوام کی طرح آپ بھی جانتے ہیں کہ انہوں نے کنٹینر پر کھڑے ہو کر عوام سے کیا وعدے کیے تھے۔ ذرا ایک نظر آپ بھی ڈالئے اور میرے قارئین بھی ڈالیں: (1) اگر اللہ نے موقع دیا تو ملک سے غربت کے خاتمے تک بیرونی دورہ نہیں کروں گا۔

(2) پیسے والوں سے ٹیکس وصول کریں گے، فضول خرچی ختم کریں گے، کرپشن ختم کریں گے اور عدل و انصاف کا نظام ٹھیک کریں گے۔ (3) بڑے بڑے مگر مچھوں کو پکڑوں گا، ایک آدمی نہیں چھوڑوں گا، ان کو جیلوں میں ڈالوں گا۔ (4) ہمارا اصل مقصد 'گو نواز گو' نہیں بلکہ 'گو نظام گو' ہے۔ (5) ملک سے بد عنوانی کا خاتمہ کریں گے، قانون کی بالا دستی قائم کریں گے اور ٹیکس محصولات میں اضافہ کریں گے۔(6) گورنر ہاؤسز کو عجائب گھروں یا لائبریریوں میں تبدیل کر دیا جائے گا' خواتین کے پارک بنائیں گے۔ (7) سادگی اپنائیں گے۔ (8) اقتدار میں آ کر تعلیم پر سب سے زیاد رقم خرچ کی جائے گی اور ملک میں یکساں نظامِ تعلیم ہو گا۔ (9) نیا پاکستان بنائیں گے (10) انتخابات کے حوالے سے سب کیسز ایک مہینے کے اندر حل کریں گے (11) قرضے لے کر مہنگائی کر کے ملک کوئی بھی چلا سکتا ہے، مجھے قرضوں اور مہنگائی سے دور رہ کر ملک چلانا ہے۔ (12)تمام شعبوں کو ترقی دیں گے (13) ملک کو قرضوں سے نجات دلائیں گے (14)ملک اتنا ترقی یافتہ بنائیں گے کہ دوسرے ممالک کے لوگ یہاں آ کر کام تلاش کریں گے۔ یہ وہ ساری باتیں ' وہ سارے وعدے' وہ سارے دعوے نہیں ہیں جو عمران خان صاحب نے کنٹینر پر کھڑے ہو کر کئے' اپنے انٹرویوز میں کئے یا عوامی جلسوں میں کئے۔ یہ ان وعدوں کی محض ایک جھلک ہے۔ مجموعی فہرست لمبی ہے۔

 انتخابات سے پہلے انہوں نے اپنی پارٹی کا جو منشور عوام کے سامنے رکھا اور اس میں عوام کے ساتھ جو وعدے وعید کئے گئے' وہ اس پر مستزاد۔سوال یہ ہے کہ ان میں سے کتنے وعدے پورے ہوئے؟ میرے خیال میں ایک فیصد بھی نہیں۔ مہنگائی آج سے تین سال پہلے کی نسبت کئی گنا بڑھ چکی ہے۔ چینی اور آٹے کی قیمتیں تین سال پہلے کی نسبت دو گنا ہو چکی ہیں اور ان قیمتوں کے گراف کا اوپر اٹھنا ابھی بند نہیں ہوا۔ پہلی حکومتیں عوام کو یوٹیلٹی سٹورز کے ذریعے کچھ ریلیف دیا کرتی تھیں ' لیکن مہنگائی اتنی بڑھ چکی ہے کہ ان سٹورز پر بھی چیزوں کے نرخ عوام کی قوتِ خرید سے باہر ہو چکے ہیں۔ ہاں یاد آیا' عمران خان صاحب نے کہا تھا کہ حکمران پٹرولیم مصنوعات پر بھاری ٹیکس عائد کر کے عوام کو لوٹ رہے ہیں۔

اب ان کا اپنا دور آیا ہے تو پٹرول 120 روپے لٹر تک ہو چکا ہے اور اس کے نرخوں میں ہر پندرھواڑے اضافہ کیا جا رہا ہے۔ بد عنوانی کو بھی نہیں روکا جا سکا ہے۔ گندم' چینی' ایل این جی' رنگ روڈ اور پتا نہیں کس کس شعبے میں کیا کیا سکینڈل سامنے آ رہے ہیں۔ یو ٹرن لینے کا مطلب ہے اپنی بات سے اپنے عہد سے پھر جانا' حالات یہ ہیں کہ سربراہ حکومت یو ٹرن لینے کو بالکل برا نہیں سمجھتے۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ موجودہ حکمرانوں سے حکومتی معاملات سنبھالے نہیں جا رہے ہیں اور معاملات خراب سے خراب تر ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ ڈالر کا ریٹ گزشتہ روز ریکارڈ 162 پر چلا گیا تھا۔ گندم ہم درآمد کرتے ہیں۔ چینی ہم باہر سے منگواتے ہیں ' کپاس کی مقامی ضرورت تک پوری کرنے کے ہم قابل نہیں رہے ہیں کہ ٹیکسٹائل کی صنعت کو خام مال ہی ملتا رہے۔ کپاس بھی ہمیں باہر سے منوانا پڑتی ہے۔ درآمدات کم اور برآمدات بڑھانے کی بات کی گئی تھی۔ یہ ہدف بھی پوار نہیں ہوا۔

حال ہی میں شہباز شریف نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ جتنی سپورٹ عمران خان کو ملی' اس کا تیسواں حصہ بھی کسی اور کو ملا ہوتا تو آج ملک کے حالات مختلف ہوتے۔ معاملات اس حد تک خراب ہو چکے ہیں کہ اس کے بہتر ہونے کا کوئی راستہ' کوئی راہ نظر نہیں آتی۔ ان حالات میں ملک کو ایک زیرک قیادت کی ضرورت ہے۔ مجھے سابق وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف کی جیو نیوز کے پروگرام جرگہ میں کی گئی باتیں بہت پسند آئیں۔ انہوں نے کہا کہ میں ہمیشہ قومی مصالحت چاہتا ہوں ' ہم فرشتے نہیں ' نواز شریف سے بھی ماضی میں غلطیاں ہوئی ہوں گی' وہ انسان ہیں ' آدمی جذبات میں آ کر باتیں کر جاتا ہے۔ اور جو سب سے بڑی بات انہوں نے کہی یہ ہے کہ آگے بڑھیں اور عوام کے دکھوں کا مداوا کریں۔ دراصل یہی بات میں بھی میاں نواز شریف سے کہنا چاہتا ہوں کہ کوئی درمیانی راستہ نکالیں ”کچھ اپنی بات منوائیں“ کچھ گنجائش دوسروں کے لئے چھوڑ دیں تاکہ ملک کو ایک ایسی قیادت میسر آ سکے جو حکومت کرنا جانتی ہو اور حالات کا رخ بدلنے کی صلاحیت کی بھی حامل ہو۔ یہ بات ایک طرف رکھ دیں کہ آپ کا بیانیہ درست ہے یا غلط' لیکن اس وقت نقصان ملک اور عوام کا ہو رہا ہے کہ ان کی سمت ٹھیک کرنے والا ہی کوئی نہیں ہے' اپنے بیانیے میں کچھ نرمی لائیں اور واپس آ کر معاملات کو ٹھیک کرنے کی کوشش کریں۔ اعتدال میں ہی بہتری ہے۔

مزید :

رائے -کالم -