اقتدار کے پنچھیوں کی معنی خیز اُڑانیں 

 اقتدار کے پنچھیوں کی معنی خیز اُڑانیں 
 اقتدار کے پنچھیوں کی معنی خیز اُڑانیں 

  

اقتدار کی منڈیروں پر بیٹھنے کے عادی پنچھی کبھی اپوزیشن کو اپنا مسکن نہیں بناتے۔ آج ثناء اللہ زہری، جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ اور یونس چنگیزی مسلم لیگ (ن) سے راہیں جدا کر کے پیپلزپارٹی میں شامل ہو گئے۔ ساتھ ہی شکوے شکایات کا انبار بھی لگا دیا۔ نوازشریف کو بے وفائی کے طعنے دیئے، الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کی مثال قائم کی۔ صاف کیوں نہیں کہتے اب مسلم لیگ (ن) کا کوئی چانس نہیں اس لئے پیپلزپارٹی میں شامل ہوئے ہیں، جس کے آئندہ سیاسی سیٹ اَپ میں روشن امکانات ہیں۔ ابھی ایسے کئی پرندے اڑانیں بھر کر پیپلزپارٹی میں شامل ہوں گے، زیادہ تعداد مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والوں کی ہو گی۔ انتخابات کے قریب جا کر تحریک انصاف کی منڈیروں سے بھی فصلی بٹیرے اڑنے کا امکان ہے کیونکہ تحریکِ انصاف جو کارکردگی دکھا رہی ہے اس پر تو آئندہ انتخابات جیتنا آسان کام نہیں۔

لوگ تبدیلی کے ذکر پر ناک بھوں چڑھاتے ہیں اور مہنگائی کا سن کر تو کانوں کو ہاتھ لگاتے ہیں۔ حالات کچھ ایسے بن رہے ہیں کہ پیپلزپارٹی کی لاٹری نکل سکتی ہے۔ مسلم لیگ (ن) اسٹیبلشمنٹ کے متحارب کھڑی ہے اور اس کے اندر بھی اس حوالے سے ایک اختلافی انتشار موجود ہے۔ پیپلزپارٹی نے حکومت مخالف تحریک کو دفنانے کے لئے اپنا کندھا پیش کیا تھا وہ اسٹیبلشمنٹ کی ہمدریاں حاصل کر چکی ہے۔ کوئٹہ کے جلسے میں ثناء اللہ زہری نے تو صاف کہہ دیا ہے ملک کے اگلے وزیر اعظم بلاول بھٹو زرداری ہیں۔ انہوں نے بلوچستان کی حکومت بھی پیپلزپارٹی کے پلڑے میں ڈال دی ہے ظاہر ہے وہ وزیر اعلیٰ بلوچستان بننے کے خواب بھی دیکھ رہے ہوں گے ان کا یہ جملہ بہت معنی خیز ہے، ”امید ہے بلاول بھٹو زرداری ہمارے ساتھ نوازشریف جیسا سلوک نہیں کریں گے“ یعنی وزیراعلیٰ بنائیں گے تو پھر ہٹائیں گے نہیں۔

جب بھی انتخابات قریب آنے لگتے ہیں اقتدار کے مسافر نئی منزلوں کی تلاش میں نکل کھڑے ہوتے ہیں انہیں کہیں سے اشارے بھی ملتے ہیں اور ان کی اقتدار والی حس بھی خاصی بیدار ہوتی ہے، اس لئے وقت سے پہلے واقعات کی رفتار کو بھانپ لیتے ہیں۔ اس وقت سیاست پر نظر ڈالی جائے تو مستقبل کے سیاسی ڈھانچے کے لئے تین آپشن موجود ہیں، پہلا آپشن ہے موجودہ سیٹ اپ کو دوبارہ اقتدار میں لانا، دوسرا ہے مسلم لیگ (ن) سے معاملات طے کر کے اسے اقتدار سونپنا، اور تیسرا ہے پیپلزپارٹی کو ایک بار پھر موقع دینا۔ جہاں تک پہلے آپشن کا تعلق ہے تو اسے کوئی غیر معمولی کرشمہ ہی پروان چڑھا سکتا ہے یا پھر حکومت اپنی باقی ماندہ دو سال کی مدت میں ایسے کام کر جائے جن سے عوام اس کی تین سالہ کارکردگی کو بھول جائیں۔ خاص طور پر مہنگائی اور گورننس کے حوالے سے حالات اگر معجزاتی طور پر بہتر ہو جائیں تو ایسے حالات پیدا ہو سکتے ہیں۔ جن میں تحریکِ انصاف کا دوبارہ جیتنا عجیب نہیں لگے گا۔

مگر موجودہ حالات میں اس کا مزید پانچ سال کے لئے عوام سے مینڈیٹ لینا ایک بھونڈہ مذاق ہی نظر آئے گا، کیونکہ عوام تو اس حکومت کا ایک ایک دن مشکل سے گزار رہے ہیں عوام کو جولائی کے جو بجلی بل موصول ہؤے ہیں، انہوں نے چیخیں نکلوا دی ہیں چھوٹے چھوٹے گھروں کے بل کئی کئی ہزار روپے آئے ہیں اور انہیں ادا کرنے کے لالے پڑ گئے ہیں ایسی حکومت کے بارے میں یہ توقع رکھنا وہ اگلی بار بھی عوام سے ووٹ لے کر حکومت بنائے گی، میری نظر میں تو ایسا ممکن دکھائی نہیں دیتا۔ اسٹیبلشمنٹ بھی ایک حد تک ہی معجزہ دکھا سکتی ہے، زیر کو زبر تو نہیں کر سکتی۔ وزراء نہ جانے کس دنیا میں رہتے ہیں جنہیں زمینی حقائق کی خبر ہی نہیں ان کی ایک ہی رٹ ہے عوام پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کو لوٹ مار کی وجہ سے مسترد کر چکے ہیں حالانکہ یہ بیانیہ بھی اب پٹ چکا ہے خود اس حکومت کے دور میں ایسے ایسے سکینڈلز سامنے آئے ہیں کہ پچھلی تمام لوٹ مار بھول گئی ہے۔ آٹا، چینی، ادویات، رنگ روڈ جیسے دیگر اسکینڈلز نے شفافیت کا پول کھول دیا ہے ان سب پر تحقیقات کا حکم تو ہوا اس کے بعد کیا ہوا، کسی کو کچھ معلوم نہیں۔

جہاں تک دوسرے آپشن کی بات ہے۔ مسلم لیگ (ن) اس وقت ایک دوراہے پر کھڑی ہے۔ انٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیئے کی وجہ سے پاکستانی سیاست میں اس کا کردار محدود سا رہ گیا ہے۔ نوازشریف کی یہ خوش فہمی اور غلط حکمتِ عملی تھی کہ ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگا کر وہ ریاستی اداروں کو دباؤ میں لے آئیں گے۔ ہاں یہ اس صورت میں ممکن ہوتا، اگر نوازشریف عدالتوں سے نا اہل اور سزا یافتہ نہ ہوتے۔ اب ان کی باتوں سے صاف لگتا ہے وہ اپنی نا اہلی اور سزا کو بالا بالا ختم کرانے کے لئے کسی غیبی امداد کے منتظر ہیں، وہ یہ سمجھ رہے ہیں جس طرح انہوں نے مشرف دور میں سزائے موت ختم کرا کے قانون کو غیر مؤثر کر دیا تھا۔ اسی طرح وہ اب بھی یہ کام کر سکتے ہیں۔ ”مجھے کیوں نکالا“ کی مہم سے لے کر ”ووٹ کو عزت دو“ کے بیانیئے تک نوازشریف کو کسی نے نہیں بتایا کہ وہ غلط راستے پر چل رہے ہیں۔ انہوں نے مریم نواز کو بھی اپنے راستے پر ڈال دیا اور شہباز شریف کی ایک نہ چلنے دی۔

موجودہ صورتِ حال یہ ہے نوازشریف اگر اپنا بیانیہ چھوڑتے ہیں تو سیاسی طور پر زیرو ہو جاتے ہیں پھر یہ بھی یقینی بات نہیں انہیں اس کے بدلے میں کوئی ریلیف ملے گا بھی یا نہیں۔ نوازشریف کے اس بیانیئے کی موجودگی میں شہباز شریف کوئی بھی مؤثر کردار ادا نہیں کر سکتے یوں مسلم لیگ (ن) ایک ایسی جماعت بن گئی ہے جس کا مستقبل واضح نہیں ایسے حالات میں مسلم لیگ (ن) مستقبل میں اقتدار کے قریب کیسے پھٹک سکتی ہے؟ آصف علی زرداری غالباً اس صورتِ حال کو بھانپ چکے ہیں انہوں نے پی ڈی ایم کی تحریک سے پیپلزپارٹی کی علیحدگی کا فیصلہ سوچ سمجھ کر کیا تھا۔ یہ فیصلہ بھی اس وقت کیا گیا، جب اسٹیبلشمنٹ کو کسی ایسے فیصلے کی اشد ضرورت تھی، کیونکہ پی ڈی ایم کی تحریک خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکی تھی، اگر استعفوں کا آپشن استعمال کر لیا جاتا تو شاید آج کا سیاسی نقشہ کچھ اور ہوتا۔ آسان لفظوں میں یہ کہنا چاہئے آصف علی زرداری نے عین وقت پر حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کو غیبی امداد فراہم کی۔

آخر آصف علی زرداری نے یہ فیصلہ کیوں کیا، جبکہ اُنہیں اس بات کا علم تھا کہ اس فیصلے سے انہیں سیاسی نقصان بھی ہوگا اور ان پر اپوزیشن سے بے وفائی کا الزام بھی لگے گا۔ بے وفائی کے الزام کے ساتھ ساتھ پیپلزپارٹی پر اسٹیبلشمنٹ سے ڈیل کے الزامات بھی لگائے گئے۔ آخر اتنا کچھ آصف علی زرداری نے کیوں برداشت کیا؟ کچھ نہ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری کی گئی۔ آصف علی زرداری نے گویا اسٹیبلشمنٹ کو یہ پیغام دیا پیپلزپارٹی فرمانبردار جماعت ثابت ہو سکتی ہے، بس اسے ایک موقع اور دیا جائے۔ وہ خود بھی یہ کہہ چکے ہیں پیپلزپارٹی نہ صرف مرکز بلکہ پنجاب میں بھی حکومت بنائے گی۔ اب تو بلوچستان میں بھی حکومت بنانے کی باتیں ہو رہی ہیں شنید ہے جلد ہی خیبرپختونخوا سے بھی الیکٹیبلز پیپلزپارٹی میں شامل ہوں گے پھر رخ پنجاب کا کیا جائے گا۔ اقتدار کے پنچھیوں کی اڑانیں بے معنی نہیں، اس کے پیچھے کچھ نا دیدہ ہاتھ بھی ہیں اور کچھ مستقبل کے اشارے بھی۔

مزید :

رائے -کالم -