یوم شہدا ء کیوں منایا جاتا ہے 

یوم شہدا ء کیوں منایا جاتا ہے 
یوم شہدا ء کیوں منایا جاتا ہے 

  

 ہر سال 4اگست کو ملک بھر میں یوم شہدا ء منا نے کا مقصدشہیدوں کو جہاں خراج عقیدت پیش کرنا ہے وہاں ان کے ورثاء سے اظہار یکجہتی بھی ہے اسی لیے ہر سال اس مقررہ تاریخ پر ہماری فورس اور پولیس افسران ان شہیدوں کو سلامی پیش کرتے ہیں،ان کی قبروں پر شمعیں روشن اور پھولوں کی چادریں چڑھاتے ہیں،ان کے درجات میں بلندی کے لیے قران خوانی کی جاتی ہے،یہ دن ورثاء کے ساتھ یکجہتی کے طور پر منایا جاتا ہے۔ دہشتگردی کیخلاف جنگ اور امن کے قیام کی خاطر اگر شہیدوں کا تزکرہ کرتے چلیں تو پتہ چلتا ہے کہ 14فروری 2017کولاہور میں خود کش دھماکے سے 13 افراد شہید ہوگئے تھے جن میں ڈی آئی جی سید احمد مبین زیدی اور ایس ایس پی زاہدنواز گوندل،6 جوان اور3 وارڈن شامل ہیں، خودکش حملہ میں شہید ہونے والے ڈی آئی جی ٹریفک کیپٹن (ر) سید احمد مبین کا آپریٹر اے ایس آئی محمد امین بھی انکے ساتھ شہید ہو گیا، حملے میں 84 افراد زخمی بھی ہوئے، خود کش حملہ دوا ساز کمپنیوں کے احتجاج کے دوران پنجاب اسمبلی کے سامنے ہوا، حملے کے وقت ڈی آئی جی ٹریفک احمد مبین مظاہرین سے مذاکرات کر رہے تھے کہ حملہ آور نے پولیس ٹرک کے پاس خود کو اڑا لیا،دھماکے کے بعد جائے حادثہ پر قیامت کا منظر تھا، ہر طرف آہ و بکا کی آوازیں بلند ہو رہی تھیں اور دور تک انسانی اعضا بکھر گئے۔27مئی 2009 کو آئی ایس آئی کے دفتر پر خودکش حملے میں ستائیس پولیس اہلکارشہیدجبکہ تین سو چھبیس زخمی ہوئے۔ 10جنوری 2008لاہور ہائیکورٹ کے سامنے تاریخی جی پی او چوک پر ہونے والا خودکش دھماکہ چوبیس افراد کی زندگیاں لے گیا، تہتر سے زائد افراد زخمی ہو گئے۔ جاں بحق اور زخمی ہونے والوں میں زیادہ تعداد پولیس اہلکاروں کی تھی.30مارچ 2009 میں دس سفاک درندوں نے مناواں پولیس ٹریننگ سکول پر دھاوا بول دیا، آٹھ گھنٹے سے زیادہ جاری رہنے والی لڑائی میں پندرہ پولیس اہلکار شہید جبکہ ترانوے کیڈٹس اور شہری زخمی ہوئے،ان واقعات سمیت پولیس شہداء سے تاریخ بھری پڑی ہے جن کی یاد میں ہر سال یہ دن منایا جاتا ہے۔ ہر سال پولیس افسران اور فورس کے چاق و چوبند دستے انھیں سلامی پیش کرتے ہیں۔آئی جی پنجاب اور لاہور سربراہ سمیت تمام اضلاع کے آرپی اوز اور ڈی پی اوز شہداء پولیس کی یاد کو تازہ کرتے ہیں اور شہدا کے ورثاء میں تحائف تقسیم کئے جاتے ہیں۔،فوج اور پولیس کی قربانیوں نے ملک سے دہشتگردی کی لعنت کو ختم کیا ہے،پولیس نے جرائم پیشہ افراد کے خلاف ہراول دستہ کے طور پر کام کیا ہے۔ پولیس اہلکاروں نے فرض کی ادائیگی کے دوران بے شمار قربانیاں دی ہیں، کئی دہائیوں سے پولیس اہلکار جانفشانی سے اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں، ملک میں امن کے قیام اور دہشتگردی کے خلاف پولیس فورس کی قربانیاں قابل تحسین ہیں، اس سال آر پی او روالپنڈی عمران احمر اور سی پی احسن یونس کی مدد سے یوم شہداکے موقع پر ایک گانا بھی ریلیز کیا گیا، جس میں پولیس شہدا کی قربانیوں کو اجاگر کرتے ہوئے ا نہیں خراج عقیدت پیش کیا گیا، علاوہ ازیں لاہور پولیس کے سربراہ غلام محمود ڈوگر،ڈی آئی جی آپریشن ساجد کیانی،ڈی آئی جی ٹریفک پنجاب عمران محمود، آر پی او گوجرانوالہ راؤ عبد الکریم، آر پی او شیخوپورہ ڈاکٹر انعام وحید، آرپی او سرگودھا اشفاق احمد خان، آرپی او فیصل آبادراجہ رفعت مختار، آرپی او ملتان سید خرم علی شاہ، آرپی اوبہاول پور زبیر دریشک، آر پی اوڈیرہ غازی خان کیپٹن ریٹائرڈ فیصل رانا اور آرپی او ساہیوال ارسلان ملک اور ان کے دیگر افسران نے اپنے اپنے اضلاع اور ریجن میں تقریبات کا انعقاد کرکے اور شہدا کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا۔ ان کی قبروں پرپھولوں کی چادریں چڑھائیں اور روح کے ایصال ثواب کے لئے فاتح خوانی بھی کی۔ صرف لاہور میں شہدا ء کی تعداد 300سے زائد ہے جبکہ پنجاب میں 1500سے زائد شہدا ء نے را ہ حق پر اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر کے یہ ثابت کیا ہے کہ معاشرے کے ”آج“کے لئے اپنا”کل“بان کرنے والے پولیس کے شہداء معاشرے اور قانون کے مشترکہ محسن ہیں،شہید کے خون کا قطرہ زمین پر گرنے سے قبل ہی رحمت خدا وندی اسے اپنی چادر میں لپیٹ لیتی ہے،شہداء کو یاد رکھنے سے جذبہ حب الوطنی اور فرض شناسی کے جذبات مستحکم ہوتے ہیں یہ پولیس کے شہداء ہی ہیں جنہوں نے عوام کے جان ومال کے تحفظ کے لئے اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے ثابت کیا کہ دھرتی کے سپوت داخلی استحکام کے لئے جانوں کی پرواہ نہیں کرتے۔وہ شہید جن کے بچے یتیم ہوئے وہ بچے ہی بتا سکتے ہیں کہ باپ کی شفقت کے بغیر زندگی گزارنا کتنا مشکل ہے، محب الوطنی کا یہ تقاضا ہے کہ شہدا ء کے ان وارثوں سے ہمیں تعاون اور محبت کرنی چاہیے کیونکہ پوری پاکستانی قوم ان شہدا کے لہو کی مقروض ہے۔

مزید :

رائے -کالم -