شانگلہ کاایک کان کن مزدورمچ بلوچستان میں اغوا کے بعد قتل

  شانگلہ کاایک کان کن مزدورمچ بلوچستان میں اغوا کے بعد قتل

  

 الپوری(ڈسٹرکٹ رپورٹر) شانگلہ کاایک کان کن مزدورمچ بلوچستان میں اغواکرنے کے بعد قتل۔عطاء اللہ کو اتوار کی رات اغوا کیا گیا تھا جسکا تعلق شانگلہ کے دورافتادہ بالائی علاقے برگانشال پیرخانہ سے ہے۔لواحقین اور کان کن تنظیمیں سراپا احتجاج کے پی حکومت سے فل فور بلوچستان حکومت سے رابطہ کرنے اور اپنے محنت کش کی بہمانہ قتل پر تحقیقات کرانے،لواحقین کی مالی معاونت کرنے کا مطالبہ۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ اتوار کو گیارہ بجے بلوچستان کے علاقے مچ کوئلہ کان سے نامعلوم افراد نے شانگلہ سے تعلق رکھنے والے عطاء اللہ ولد رائیس خان کو اغوا کرنے کے بعد بے دردی سے قتل کردیا گیا جسکے خلاف شانگلہ میں سوشل میڈیا پرمختلف حلقوں کی جانب سے شدید غم و غصے کا اظہار۔عطا ء اللہ رزق حلال کیلئے ہزاروں فٹ زمین کے نیچے کام کررہے تھے انکا قتل قابل مزمت اور انسانی المیا ہے۔ایسے واقعات پر کان کن اپنے آپ کو غیرمحفوظ اور ریاست کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔شانگلہ بھرکے سیاسی و سماجی شخصیات اور تنظیموں کا واقعے کی مذمت،قاتلوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ۔پی ٹی آئی کے مطابق شانگلہ کے منتخب رکن صوبائی اسمبلی و صوبائی وزیرمحنت و انسانی حقوق شوکت یوسف زئی کا وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال اور صوبائی وزیر محمد خان لھڑی سے رابطہ واقع پر سخت افسوس۔تحقیقات کا مطالبہ۔بلوچستان حکومت کی مکمل تعاون کی یقین دہانی۔میت شانگلہ پہنچادی گئی نماز جنازہ کے بعد سُپردخاک

مزید :

پشاورصفحہ آخر -