چارسدہ، ڈپلومہ ایسوسی ایشن ایٹ انجینئرنگ کی جانب سے انجینئرنگ کونسل کے رویہ کی مذمت 

چارسدہ، ڈپلومہ ایسوسی ایشن ایٹ انجینئرنگ کی جانب سے انجینئرنگ کونسل کے رویہ ...

  

 چارسدہ(بیورورپورٹ) تین سالا ڈپلومہ ایسوسی ایٹ انجینئرنگ کے حامل افراد نے پاکستان انجینئرنگ کونسل کے معتصابہ رویہ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے پورے ملک میں پریکٹیکل انجنئیر کے وجود کو تسلیم کرنے اور انہیں ڈائزائن انجنیئر کے برابر حقوق دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ حکومت آئے روز انجنیئرنگ یونیورسٹیاں قائم کر رہی ہے لیکن اس سے یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل انجنئیریز کی مستقبل کی کوئی فکر نہیں۔ تفصیلات کے مطابق تین سالہ ڈپلومہ آف ایسوسی ایٹ انجنئیرز نے حکومت اور پاکستان انجنئرنگ کونسل کی جانب سے ان کیساتھ معتصبانہ رویہ رکھنے اور ڈائرئن انجنئیر کے مقابلے میں فیلڈ انجنئیرز کو کم اہمیت دینے کے عمل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پورے دنیا میں انجنیئر نگ کے لئے دو طرح کے نظام تعلیم موجو د ہے پہلے نظام میں انٹرمیڈیٹ کے بعد چار سالہ بیچلر آف انجنئیرنگ کے حامل افراد جن کو فیلڈ انجنئیر بھی کہا جا تاہے جبکہ دوسرے نظام میں ایف ایس سی کے بعد چار سالہ ڈپلومہ ہولڈر کے حامل انجنیئرز جنہیں عام فہم میں ڈائرین انجنیئر کہا جا تا ہے لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں ڈایزائن انجنئیر کے خدما ت تسلیم کئے جاتے ہیں لیکن فیلڈ انجنیئر کو پاکستان انجنئرنگ کونسل کی جانب سے نظر انداز کیا جاتا ہے جس کے بعض پاکستان میں بڑے بڑے پراجیکٹ فیلڈ انجنئیر ز کی عدم موجودگی کے باعث ناکام ہو جاتے ہیں یا بعض اوقات کسی بڑے حادثے کا سبب بنتے ہیں کیونکہ ڈائزاین انجنئیر کی جانب سے بہترین انداز میں پراجیکٹ ڈائزین تو کیا جاتا ہے لیکن پھر تعمیر کے وقت فیلڈ انجنئیر کے عدم موجودگی کی وجہ سے زیادہ تر پراجیکٹ غیر معیاری تعمیر ہو جاتے ہیں۔ فیلڈز انجنئیرز کے مطابق یونیورسٹی آف انجنئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور نے 2009میں ملک میں انجنئیرنگ  کے شعبہ کو مزید وسعت دینے کے لئے چار سالہ یگورلر ڈگری بی ایس سی انجنئیرنگ ٹیکنالوجی کا آغاز کیا جس کے باعث ہر سال 3300ٹیکنالوجی انجنئیرز فارغ التحصیل ہوتے ہیں جس کا بنیادی مقصد فیلڈ انجنئیرز پیدا کرنا ہے لیکن اس کے باوجود  پاکستان انجنئیرنگ کونسل نہ تو ان انجنئیرز کو رجسٹرڈ کرواتی ہے اور نہ ہی ان کے نام سے کسی کمپنی کو رجسٹریشن جاری کرتی ہے جس کے باعث ملک بھر کے تمام فیلڈ انجنئیرنگ اعلیٰ تعلیم کے حصول کے باوجود اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہے جس کے باعث نئے نسل میں فیلڈ انجنئیرز بننے کا جذبہ کم ہو چکا ہے۔سال2015میں ڈائزائن اور فیلڈ انجنئیرز کو یکساں نظام کے تحت لانے کے لئے  نیشنل ٹیکنالوجی کونسل بنا دی گئی جس کو ابتداء میں ہائیر ایجوکیشن کونسل کا ذیلی رکھا گیا جبکہ فیصلہ کیا گیا کہ اگلے تین سال میں ہ کونسل آزادانہ حیثیت سے کام کرے گا لیکن چھ سال گزرنے کے باوجود پاکستان انجنئیرنگ کونسل کی ہٹ دھرمی کے باعث نیشنل ٹیکنالوجی کونسل کو آزانہ حیثیت سے محروم ہے۔اس حوالے سے تمام فیلڈانجنیئرز  نے حکومت سے فیلڈ انجنئیرز کو بھی برابر کے حقوق دینے اور پاکستان انجنیرنگ کونسل  سے تین سالا ڈپلومہ ایسوسی ایٹ انجنئیرنگ کے حامل افراد کی ڈیزائن انجنئیر کی طرز پر تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -