قومی اسمبلی، تمام اداروں کو جوابدہ ہونا چاہیے، حکومتی ارکان، اوگرا ترمیمی بل، پاکستان ایئر پورٹس اتھارٹی آرڈیننس پیش

    قومی اسمبلی، تمام اداروں کو جوابدہ ہونا چاہیے، حکومتی ارکان، اوگرا ...

  

  اسلام آباد(نیوزایجنسیاں) قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر اسد قیصر کی سربراہی میں منعقد ہوا اجلاس میں آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی کا ترمیمی بل 2021 وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے جبکہ پاکستان ائیر پورٹس اتھارٹی آرڈیننس 2021 وفاقی وزیر برائے ہوا بازی سرور خان نے پیش کیے اسی دوران رکن اسمبلی شازیہ صوبیہ نے کورم کی نشاندہی کر دی سپیکر نے ارکان کی گنتی کی ہدایت کردی گنتی پر کورم پورا نہ ہونے پرسپیکر نے اجلاس آج منگل صبح گیارہ بجے تک کیلئے ملتوی کردیا گیا۔اجلاس میں وقفہ سوالات میں پارلیمانی سیکریٹری برائے قانون انصاف ملائیکہ بخاری نے بتایاکہ گزشتہ سال سات بار رجسٹرار سپریم کورٹ اور فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کو مراسلے روانہ کیے گئے،رواں برس پانچ بار معلومات حاصل کرنے کیلئے مراسلے بھیجے گئے،ضروری معلومات فراہم کرنے کے لیے درخواست کی گئی،جیسے ہی ماڈل کورٹس کے بارے میں معلومات موصول ہوئی تو قومی اسمبلی کو آگاہ کردیا جائے گا،انہوں نے بتایا کہ اعلیٰ عدلیہ کو معلومات فراہم کرنے کے لیے درخواست کرسکتے ہیں ہدایت نہیں کرسکتے، پیپلز پارٹی کے نوید قمر نے کہا کہ نے عدلیہ،فوج اور پارلیمنٹ آئین کے تحت کام کرتے ہیں،آئین کے تحت پارلیمنٹ کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کے جوابات ملنے چاہیے، اس پر سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ میں اس معاملے پر اٹارنی جنرل سے بات کرونگا، کہ وہ اعلی عدلیہ سے بات کریں،پارلیمانی امور کے وزیر بابر اعوان،نے کہا کہ تمام اداروں کو جوابدہ ہونا چاہیے،سپریم کورٹ کی جانب سے تاحال ماڈل کورٹس پر جواب نہیں دیا گیااٹارنی جنرل کو رجسٹرار سپریم کورٹ سے بات کرنی چاہیے،اٹارنی جنرل کو پارلیمان کے خدشات رجسٹرار سپریم کورٹ تک پہنچانے چاہئیں۔ وفاقی وزیر حماد اظہر نے بتایا کہ بجلی کا کوئی شارٹ فال نہیں بجلی جن علاقوں میں زیادہ چوری ہورہی وہاں لوڈشیڈنگ ہیں ٹرانسمیشن ایشوز کی وجہ سے بھی بعض علاقوں میں مسائل درپیش ہیں،گزشتہ دو سے تین سال میں 4 ہزار میگاواٹ ٹرانسمیشن کیپسٹی کو بڑھا یاگیا،اگلے ایک سال میں تین ہزار ٹرانسمیشن کیپسٹی کو بڑھائیں گے،وفاقی حکومت نے 6پاور پلانٹس کی بندش کا فیصلہ کرلیا بند کئے جانے والے چھ پاور پلانٹس سے 1796میگا واٹ بجلی کی کمی ہوگی لاکھڑا اور کوٹری پاور پلانٹس نیپرا کی طرف سے لائسنس منسوخ کرنے پر غیر فعال ہیں موجودہ حکومت کے دور میں تین ہزار میگا واٹ بجلی کی پیداوار میں اضافہ کیا گیا ہیگیس کی بہت زیادہ سکیمیں اناؤنس کی گئی شاید وہ ووٹ کی خاطر تھا مگر گیس نہ دی گئی، پیپلز پارٹی کے آغاز رفیع اللہ نے کہا کہ جہاں سے حکومتی اراکین اسمبلی منتخب ہوئے صرف وہاں پراجیکٹس شروع ہو رہے ہیں،اس پر حماد اظہر نے کہا کہ سپریم کورٹ فیصلے کے بعد دونوں گیس کمپنیاں نمبروائز گیس کنکشن دے رہی ہیں،ماضی میں جسکا جہاں سیاسی زور چلا وہاں گیس لے گئے،دو شہروں میں گیس ہے درمیان میں نہیں،ہم نے گیس ٹرانسمیشن کو ترتیب کیساتھ کرنا ہے،پرویز اشرف نے کہاکہ تحصیل گوجر خان میں پیٹرولیم ایکسپلوریشن کمپنیاں کام کر رہی ہیں جسکی وجہ سے علاقے کا پانی آلودہ ہو گیا ہے،ہمارے علاقے میں طرح طرح کی بیماریاں پھیل رہی ہیں، ان کمپنیوں نے ان ہزاروں لوگوں کیساتھ کیا کیا؟ان لوگوں کو پینے کا صاف پانی یہ کمپنیاں دیں،اس پر وفاقی وزیر حماد اظہر نے کہا کہ میں اسکا نوٹس لوں گا یہ غلط ہے،اگر انکا ویسٹ ٹریٹ نہیں ہو رہا تو ہم اس کو چیک کریں گے،  اجلاس میں سابق ڈپٹی اسپیکرمرتضیٰ جاوید عباسی نے کہا کہ سپیکر قومی اسمبلی ایوان میں بات نہیں کرنے دیتے،ہمارے ساتھ زیادتی نہ کیا کریں، ہر رکن کی عزت نفس ہے،دو سال سے میرا سوال وزارت توانائی میں زیر التوا ہے،سپیکر کی رولنگ کے باوجود سوال ایوان میں پیش نہیں ہوتا،سپیکر کی رولنگ کی خلاف ورزی پر سٹاف سے جواب طلب کریں۔

قومی اسمبلی

مزید :

صفحہ اول -