ملک مبشر قتل میں ملوث ملزم کی دو بہنیں،بہنوئی بھی گرفتار

ملک مبشر قتل میں ملوث ملزم کی دو بہنیں،بہنوئی بھی گرفتار

  

لاہور (رپورٹ  :  یونس باٹھ )نامزد صوبائی وزیر ملک اسد کھوکھر کے بھائی کا قتل کرنیوالے ملزم ناظم کی دونوں بہنیں،برادر نسبتی شوکت اور عمران کو پولیس نے حراست میں لے لیا ہے جبکہ والدہ گھر سے فرار ہے،پولیس نے ملزم کے گھر سے ایک رائفل سیکڑوں گولیاں اور میگزین بھی برآمد کر لیں۔ ملزم ناظم پر ہی چچا منشا کے قتل کا الزام تھا اور ناظم اپنے ایک بھا نجے ندیم کے ہمراہ چچا کے مقدمے میں ہی 8 سال تک جیل رہا، جیل کے دوران ملزم کی والدہ بیٹے کو رہا کروانے کی غرض سے مقتول کے گھر پانچ سال تک برتن دھوتی رہی،جبکہ مقتو ل نے ملزم کے مقتول بھائی اسلم کے بیوی بچوں کے نام  50 لاکھ کا ایک مکان خرید کر دے رکھا ہے،ملزم ناظم کے مطابق مقتول نے ہی اسے منشا قتل میں جیل بھجوایا اور اس سے قبل اس کے بھائی اسلم کو قتل کروایا،وقوعہ کے روز اس نے کسی سے مشورہ نہیں کیا اور ویٹر کا بھیس بدل کر ولیمے کی تقریب میں پہنچا تھا۔پولیس ذرائع کے مطابق اسد کھوکھر کے بھائی ملک مبشر کو قتل کرنیوالے ملزم ناظم کا خاندان پانچ بہن بھائیوں پر مشتمل ہے ملزم ناظم کا والد انور 25 سال قبل فوت ہوا جبکہ ملزم کا سب سے بڑا بھائی اسلم قتل ہوچکا ہے جس کا مقدمہ گٹھا برادری کے خلیل اور حیدری وغیرہ کیخلاف درج ہوا جبکہ ملزم ناظم کا چچا منشا اس مقدمے میں بطور گواہ موجود ہے جسے بعد ازاں گواہی سے منحرف ہونے پر دن دیہاڑے چوہنگ اڈے پر فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیاجبکہ مقدمہ ملزم ناظم اور اس کے بہنوئی کے بھانجے ندیم کیخلاف درج ہوا، اس مقدمے میں اسے سزائے موت جبکہ ندیم کو عمر قید ہو گئی دونوں جیل میں رہنے کے بعد ہائیکورٹ سے بری کردیئے گئے اس دوران جب ملزم ناظم جیل میں تھا تو اس کی والدہ بشریٰ مقتول مبشر کے گھر میں کام کاج کرنے آتی تھی کیونکہ مقتول نے اسے ناظم کو رہا کروانے کا وعدہ کر رکھا تھا۔پانچ سال تک جب وہ کام کاج کرتی رہی اور بیٹے کو رہا بھی نہ کروایا گیاتو ملزم ناظم کے مطابق اس نے اپنی والدہ کو مقتول مبشر کے گھر جا نے سے منع کردیا۔ملزم ناظم کا بھائی اسلم جو قتل کر دیا گیا ملزم کے بہنوئی کے مطابق مقتول ملک مبشر نے اس کی بیوی مصباح اور تین بچوں کو 50لاکھ روپے اپنی جیب سے دیکر اسے شاہ پور میں گھر لے کر دے رکھا ہے۔ملزم کے تیسرے بھائی کا نام اعظم وہ تین بچوں کا باپ اور فیکٹری میں کام کرتا ہے جبکہ ملزم کی دو بہنیں ہیں دونوں کی شادی شاہ پورمیں ہوئی ہے ایک بہنوئی کا نام شوکت وہ گارمنٹس کی فیکٹری میں کام کرتا ہے جبکہ دوسرے بہنوئی کا نام عمران اور وہ دودھ کا کاروبار کرتا ہے۔ پولیس کے مطابق ملزم نے انکشاف کیا کہ وقوعہ کے روز وہ ویٹر کا لباس پہن کر ولیمے کی تقریب میں پہنچا تھا جب وہ ملک مبشر کے سامنے آیا تو اس نے ایک دم سے کہا آپ کدھر، اس دوران میں نے پستول نکال کر فائرنگ کر دی  ایک ہی گولی چلائی جو ملک مبشر کے دماغ سے پار ہو کر ان کے رشتے دار عمر کو جا لگی، دوسری گولی چلنے سے قبل ہی پستول میں پھنس گئی اس طرح مقتول کے باقی دونوں بھائی معجزانہ طور پر محفوظ رہے اور مجھے وزیر اعلی کے سکیورٹی اہلکاروں نے حراست میں لے لیا۔ مقتول کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی میں نے جیل میں ہی کر لی تھی اور جیل سے باہر آ کر میں مسلسل اس کوشش میں تھا قتل کیسے کیا جائے کیونکہ میرے نزدیک ہمارے خاندان کی تباہی کا باعث مقتول ہی بنا،ملزم مہروں میں تکلیف کی وجہ سے گھٹنوں کے بل کھڑا نہیں ہو سکتا،پولیس کو ملزم کیخلاف قتل کے علاوہ مزید کو ئی ریکارڈ نہیں مل سکا۔ قبل ازیں ملک مبشر کھوکھر کے قتل میں گرفتار ملزمان کے نئے انکشافات، مرکزی ملزم نے قتل کرنے کا ارادہ جیل میں کیا، مخالف گروپ کے لوگوں نے اکسایا، مبشر کھوکھر نے ملزم ناظم کو شادی کی تقریب میں دیکھ لیا تھا اور اسے سلام بھی کیا۔سی آئی اے پولیس کے مطابق مرکزی ملزم ناظم نے جیل میں ہی مبشر کھوکھر کو قتل کرنے کا ارادہ کیا۔ جیل میں مخالف گروپ کے لوگوں نے ناظم کو مبشر کھوکھر کے خلاف اکسانے میں اہم کردار ادا کیا۔ دوران قید جیل میں مخالف گروپ کے لوگوں نے ناظم کی ذہن سازی کی۔ پولیس ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ دنوں گروپوں نے ایک دوسرے پر متعدد مقدمات درج کروا رکھے ہیں۔ قتل کے روز شادی کی تقریب میں وزیر اعلیٰ پنجاب کی موجودگی اور بدمزگی سے بچنے کے لیے مبشر کھوکھر نے ملزم کو کچھ نہ کہا  جیسے ہی وزیر اعلیٰ واپس جانے کے لیے نکلے تو ملزم نے باہر جاکرمبشر کھوکھر کو قتل کر دیا۔

مبشرکھوکھر قتل

مزید :

صفحہ آخر -