یوم آزادی کی اپنی اہمیت مگر ماہ محرم کا تقدس لازمی: اس سال یوم آزادی سادہ اور پروقارانداز میں منائیں گے، شوبز شخصیات 

یوم آزادی کی اپنی اہمیت مگر ماہ محرم کا تقدس لازمی: اس سال یوم آزادی سادہ اور ...

  

لاہور(فلم رپورٹر)پاکستان میں یوم آزادی ہر سال نہایت جوش و خروش سے منایا جاتا ہے کیونکہ کسی بھی قوم اور ملک کی زندگی میں یہ سب سے بڑا دن ہوتا ہے اسی لئے دنیا بھر کے ممالک اپنا یوم آزادی شاندار انداز سے مناتے ہیں۔زندگی کے دیگر شعبوں کی طرح شوبز کے مختلف شعبوں سے وابستہ شخصیات یوم آزادی ہر سال کی طرح شان و شوکت سے نہیں سادہ اور پروقارانداز میں منائیں گی اس بارفنکاروں کی جانب سے منعقد کی جانے والی یوم آزادی کی رنگا رنگ تقریبات 14اگست سے قبل ہی منعقد ہو ئی ہیں کیونکہ پاکستان کا74واں یوم آزادی ماہ محرم میں آرہا ہے۔اس حوالے سے شوبز شخصیات کا کہنا ہے کہ یوم آزادی کی اپنی اہمیت ہے مگر ماہ محرم کا تقدس اپنی جگہ ہے زندگی رہی تو اگلے سال پاکستان کے یوم آزادی کی پلاٹینم جوبلی اس شان و شوکت اور باوقار انداز میں منائیں گے کہ دنیا کو معلوم ہوجائے گا کہ زندہ قومیں اپنی آزادی کے دن کو کیسے مناتی ہیں۔ دنیا بھر کے برعکس اگر پاکستان کا جائزہ لیا جائے تو یہاں شاید پوری دنیا کی نسبت یوم آزادی منفرد انداز سے منایا جاتا ہے کیونکہ پاکستان طویل جدوجہد اور قربانیوں کے بعد وجود میں آیا جس کے لئے ہمارے بزرگوں نے جان مال سمیت اپنا سب کچھ قربان کردیا لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ انہوں نے پاکستان کے بارے میں جو خواب دیکھا تھا اس کی تعبیر آج تک نہیں مل سکی۔قیام پاکستان کے فوری بعد سے لے موجودہ دور حکومت تک سیاستدانوں نے ملک کا جو حال کیا ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ہر دور حکومت میں یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اپنے سب سے زیادہ اس ملک کے وفادار ہیں لیکن عملی طور پر کچھ بھی نہیں ہوتا۔اگر ہم انفرادی طور پر بھی دیکھیں اور اپنے اپنے گریبانوں میں جھانکیں تو ہمیں پتہ چل جائے گا کہ ہم نے اس ملک کے لئے کیا سیاست دانوں کو برا بھلا بھی کہتے ہیں لیکن یہ نہیں سوچتے کہ ہم نے اس ملک کے کیا کیا ہے۔ملک کی بہتری اور ترقی صرف حکمرانوں کی ہی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ ہر فرد کا فرض ہے۔دنیا بھر کی طرح پاکستان بھی دو سالوں سے عالمی وبا کورونا کا شکار ہے۔حکومت اس وبا سے ملک کو پاک کرنے کے لئے بے شمار اقدامات کرچکی ہے اور کر بھی رہی ہے لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کی عوام کی اکثریت اب بھی سنجیدہ نظر نہیں آتی یوم آزادی کی خوشی میں اپنے گھروں،بازاروں کو ضرور سجائیں لیکن کورونا سے چھٹکارہ حاصل کرنے کے لئے حکومت کا ساتھ دیں اور ویکسین ضرور لگوائیں پاکستان میں کئی حکومتیں آئیں اور چلی گئیں لیکن پاکستان کوویسا ملک نہیں بنا سکیں جس کا خواب علامہ اقبال ؒاور قائداعظمؒنے دیکھا تھا۔ ہم پاکستان کی سالگرہ منا رہے ہیں اس موقع پر ہمیں مل کر عہد کرنا چاہیے کہ ہم پاکستان کو جنت نظیر بنانے کیلئے اپنا اپنا کردار ادا کریں گے نہایت افسوس کا مقام ہے  جس نوجوان نے کل ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنا ہے وہ مناسب راہنمائی نہ ہونے کی وجہ سے تباہی کے کنارے پہنچ گیا نوجوانوں کیلئے ”ٹک ٹاک“ اور”پب جی“ ہی سب کچھ ہے آج کا نوجوان بے راہ روی کا شکار ہے   ہر سال کی طرح تمام لوگ یوم آزادی ملک کے نغمے تو گائیں گے لیکن اس کی ترقی میں عملی کردار کے لئے کچھ نہیں کریں گے۔یوم آزادی کس طرح منایا جائے اور ہم سب کی ذمہ داری کیا ہے؟ اس بارے میں شوبز سے وابستہ افراد سے بات چیت کی گئی جنہوں نے اس بارے میں خیالات کا اظہار ا پنے اپنے انداز سے کیا۔ اس بارے میں گفتگو کرتے ہوئے اداکارندیم بیگ  نے کہا کہ ہمیں آزادی کی قدر کرنی چاہیے،مگر صد افسوس کے ہم آج بھی لڑائی جھگڑوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ اداکارہ ماریہ واسطی نے کہا کہ جشن آزادی منا لینا ہی کافی نہیں بلکہ ہمیں اس دن کی روح کو سمجھنا چاہیے اور سوچنا چاہیے کہ آخر الگ ملک حاصل کرنے کی ضرور کیوں پیش آئی؟ اداکارہ صوفیہ مرزا نے کہا کہ جشن آزادی پر ملک میں سبز ہلالی پرچم ہر طرف دکھائی دیتا ہے۔ اس دن کو باقاعدہ ایک ایونٹ کے طور پر منائے جانے سے لوگوں کے جوش و خروش کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے لیکن جس طرح ہم اس ایک دن پر اکٹھے ہوتے ہیں کیا سارا سال اسی طرح متحد نہیں رہ سکتے؟ ۔سینئر اداکار و ڈائریکٹر سہراب افگن نے کہا کہ ہمارا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جن کے بڑوں نے پاکستان بنتے دیکھا  ہمیں اپنے بچوں کو یہ بتانا چاہیے کہ پاکستان بنانے کیلئے ہمارے بڑوں نے کتنی طویل جدوجہد کی یہ انہی کی جدوجہد کا ثمر ہے گلوکار علی ظفر نے کہا کہ  قومی دن پر ہمیں اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے یہ ثابت کرنا چاہیے کہ ہم پاکستانی ہیں کیونکہ دنیا بھر کی نظریں ہم پر ہوتی ہیں اس لئے ہمارا ہر عمل ذمہ داری والا ہونا چاہیئے۔اداکارہ سجل علی نے کہا کہ گر ہم لوگ مخلص ہوکر اپنے ملک کے لئے کام کریں تو یہ ملک دنیا میں سب سے آگے ہوتا لیکن ایسا نہیں ہوسکا کیونکہ ہم لوگ اجتماعی نہیں بلکہ ذاتی مفادات کو ترجیح دیتے ہیں اداکارہ ثنا فخرنے کہا کہ ہمیں اپنے گریبانوں میں جھانکنا چاہیے کہ اس ملک نے ہمیں کیا دیا اور ہم نے اس وطن کے لئے کیا کیا؟گلوکارہ حدیقہ کیانی نے کہا کہ پاکستان ہمارے لئے اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت اور دنیا میں جنت ہے لیکن ہم نے اس کی قدر نہیں کی، اداکارہ سانولی شاہ نے کہا کہ آج کے دن ہمیں مظلوم کشمیریوں کو بھی یاد کرنا چاہیے بطور پاکستانی ہمیں کشمیر کی آزادی کے لئے کوششیں تیز کرنا ہوں گی۔اداکارہ ایشل فیاض،سنبل اقبال،سدرہ نیازی اور قوی خان نے کہا کہ پاکستان کی قدر کریں اور اپنے اپنے شعبے کے ذریعے اس کی خوشحالی اور ترقی میں کردار ادا کریں۔

شوبز شخصیات

مزید :

صفحہ آخر -