کسی عبادتگاہ کو منہدم کرنا شریعت اسلامی، آئین پاکستان کی صریحا خلاف ورزی ہے 

  کسی عبادتگاہ کو منہدم کرنا شریعت اسلامی، آئین پاکستان کی صریحا خلاف ورزی ...

  

  اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) اسلامی نظریاتی کونسل نے رحیم یار خان کے نواحی علاقہ بھونگ شریف میں واقع ہندو کمیونٹی کے عبادت خانہ (مندر) کو گرانے اور جلانے کے اندوہ ناک سانحہ کی مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ پاکستان میں رہائش پذیر غیر مسلم اقلیتوں کی جان ومال کی طرح ان کے عبادت خانوں کا تحفظ شرعی اور قانونی طور پر ریاست کی ذمہ داری ہے،کسی فرد یا افراد کو انہدام یا گھیراؤ جلاؤ کی اجازت نہیں دی جاسکتی لہذا ان کی کسی مذہبی عبادت گاہ کو منہدم کرنا شریعت اسلامی اور پاکستانی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔پیر کو جاری اعلامیہ کے مطابق چار گست 2021 بروز بدھ کو جنوبی پنجاب کے ضلع رحیم یار خان کے نواحی علاقہ بھونگ شریف میں واقع ہندو کمیونٹی کے عبادت خانہ (مندر) کو گرانے اور جلانے کے اندوہ ناک سانحے اور واقعہ کی پر اسلامی نظریاتی کونسل پرزور مذمت کرتی ہے۔ اعلامیہ میں کہاگیاکہ پاکستان میں رہائش پذیر غیر مسلم اقلیتوں کی جان ومال کی طرح ان کے عبادت خانوں کا تحفظ شرعی اور قانونی طور پر ریاست کی ذمہ داری ہے۔کسی فرد یا افراد کو انہدام یا گھیراؤ جلاؤ کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ لہذا ان کی کسی مذہبی عبادت گاہ کو منہدم کرنا شریعت اسلامی اور پاکستانی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اعلامیہ میں کہاگیاکہ پیغامِ پاکستان جیسی اہم قومی دستاویز کہ جس میں تمام غیر مسلم شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے ساتھ ساتھ عبادت گاہوں کے تحفظ کی بھی ضمانت دی گئی ہے، کی سخت خلاف ورزی کی گئی ہے۔اعلامیہ میں کہاگیاکہ اسلامی نظریاتی کونسل، مسمار شدہ مندر کی از سرِنو تعمیر کے حکومتی فیصلے کی تحسین کرتی ہے۔اعلامیہ کے مطابق چیف جسٹس، سپریم کورٹ آف پاکستان نے بروقت از خود ایکشن لیکر قابل تحسین اقدام کیا ہے،اس سے امید ہے شر پسند عناصر کو کیفر کردار تک پہنچانے میں اہم پیشرفت ہو گی۔

 اسلامی نظریاتی کونسل  

مزید :

صفحہ اول -