کارکن بلدیاتی انتخابات کیلئے تیاریاں شروع کر دیں: حیدر ہوتی

کارکن بلدیاتی انتخابات کیلئے تیاریاں شروع کر دیں: حیدر ہوتی

  

 پشاور(سٹی رپورٹر)عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر امیر حیدر خان ہوتی نے کارکنوں کو بلدیاتی اور عام انتخابات کی تیاری کرنے کے احکامات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ تنظیمیں ووٹرز فہرستوں کی تیاری شروع کردیں الیکشن اصلاحات کے تحٹ شفاف ہونے چاہئیں غربت، مہنگائی بے روزگاری میں اضافہ ہوچکا ہے مہنگائی کی وجہ وفاق اور مرکز کا بے تحاشا قرضے لینا ہے ایسے وقت میں ہمیں حکومت ملی جب دہشت گردی کی آگ بھڑک چکی تھی افغانستان میں امن ہو گا تو پاکستان میں بھی امن ہو گا ان خیالات کا اظہار امیر حیدر خان ہوتی نے الحاج ملک طارق قلعہ میں پی کے 76 کے کارکنوں کے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر صدارتی امن ایوارڈ یافتہ اور عوامی نیشنل پارٹی مرکزی کونسل کے ممبر الحاج ملک طارق اعوان،مرکزی جنرل سیکرٹری اے این پی میاں افتخارحسین،مرکزی رہنما الحاج غلام احمد بلور، اے این پی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان، عوامی نیشنل پارٹی کی صوبائی ترجمان و رکن صوبائی اسمبلی ثمر بلور، سینیٹر حاجی ہدایت اللہ، سید معصوم شاہ باچہ، ایم پی اے شگفتہ ملک، ایم پی اے صلاح الدین، شکیل خان عمرزئی خان ایم پی اے، ملک عبدالرف اعوان، مرکزی کونسل سید اختر علی شاہ، پی کے 76 وارڈز کے تمام عہدیداران نے کنونشن میں بھرپور شرکت کی۔عابد اللہ یوسفزئی سٹی صدر کے زیر اہتمام پی کے 76 کنونشن اجلاس منعقد ہوا۔ سابق وزیر اعلی خیبرپختونخوا و رکن قومی اسمبلی امیر حیدر خان ہوتی نے ورکروں سے خطاب میں کہا کہ الیکشن کی تیاریاں شروع کر دیں حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہے مہنگائی سے عوام پریشان ہے دہشت گردی عروج پر ہے تسلسل کے ساتھ پولیس پر حملے ہورہے ہیں نیب اپوزیشن کے خلاف حکومت کا اتحادی بن چکا ہے ان کاکہنا تھا ہمیں جب 2013 میں صوبے میں حکومت ملی تو صوبہ دہشتگردی کا شکار تھا اس کے باوجود ہم نے پاک افواج کے ساتھ مل کر صوبے کو امن کا گہوارہ بنانے کے لئے تمام تر کوششیں اور صوبے کو ترقی اور خوشحالی کی طرف گامزن کیا آج ہمارے مخالفین بھی کہتے ہیں کہ 2013 میں جو صوبے میں ریکارڈ ترقیاتی کام ہوئے ہیں اس کی مثال نہیں ملتی لیکن آج پھر صوبے کے حالات خراب ہیں حکومت ہوش کے ناخن لے دہشت گردی واقعات میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے افغانستان سے ان لوگوں کی آمد ہورہی ہے جو دہشت گردی واقعات میں تھے اس خطے کے طاقت وروں سے گزارش کے ایک دوسرے کے خلاف نہ کھڑے ہوں اس سرزمین پر خون بہانے والے یہاں پر بھی خون بہانے والے امن کے دشمن ہیں افغانستان میں جنگ نہیں خانہ جنگی جاری ہے افغانستان میں خانہ جنگی نہ رکی تو ہم متاثر ہونگے اور دہشت گردی اور بد امنی کی لپیٹ میں پورا ملک آ جائے گا افغانستان کا مسئلہ جنگ نہیں سیاسی حل ہے بیٹھ کر مسئلہ حل کرنا ہوگا ان کاکہنا تھاکہ امریکہ نے افغانستان چھوڑنے سے قبل بڑی غلطی کی طالبان سے مذاکرات کا ڈھونگ رچا کر منتخب حکومت سے بات تک نہیں کی یہی وجہ ہے کہ آئے روز پاکستان کے حالات بھی خراب ہورہے ہیں افغانستان میں امن سے پاکستان کا امن جڑا ہوا ہے ان کا کہنا تھا مہ پارلیمانی سیاست صوبائی کی ذمہ داری ہے الیکشن سے قبل امیدواروں کا اعلان کریں گے دو سال قبل امیدواروں کا اعلان نہیں کرسکتے انکامزید مہنا تھا کہ امیدوار جو بھی ہو ووٹ سرخ جھنڈے کو ملنا چاہیے، بلدیاتی انتخابات ہوئے تو امیدواروں کا فیصلہ ضلع اور صوبے کریں گے بلدیاتی انتخابات میں تمام حلقوں اور سیٹوں سے امیدوار لائیں گے۔ پی کے 76 کنونشن سے سابق صوبائی وزیر و مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین، مرکزی رہنما سابق وفاقی وزیر غلام احمد بلور، صوبائی صدر ایمل ولی خان، الحاج ملک طارق اعوان، سینیٹر حاجی ہدایت اللہ، اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔

مزید :

صفحہ اول -