ایف آئی اے کے نوٹس کا علم ٹی وی کے ذریعہ ہوا،سعید غنی

ایف آئی اے کے نوٹس کا علم ٹی وی کے ذریعہ ہوا،سعید غنی

  

 کراچی(اسٹاف رپورٹر)سندھ کے وزیر اطلاعات سعید غنی نے کہا ہے کہ ایف آئی اے کی جانب سے کچھ لوگوں کو نوٹس جاری کرنے کی خبر کا علم انہیں ٹی وی کے ذریعے ہوا ہے۔میں نے سوچا جب مجھے ذاتی طور پر موصول ہوگا تو پھر سوچوں گا کہ کیا کیا جائے تاہم نفیسہ شاہ صاحبہ نے بتایا کہ واٹس ایپ پر نوٹس ملا ہے اور حاضر ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔پیر کو سندھ اسمبلی کی کارروائی کے دوران ذاتی نکتہ وضاحت پر انہوں نے اظہار خیا ل کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کوئی ایک سہیل ساجد صاحب ہیں،مجھے نہیں معلوم کہ وہ کون ہے۔اس نے اسلام آباد میں کوئی ایف آئی آر درج کرائی ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ مسعود رحمان نے چیف جسٹس کے خلاف تقریر کی تھی جس کی سب نے مذمت کی تھی۔مجھے 17 جون کو وہ کلپ ملا تھا،وہ تقریر سنی تو وہ بہت غلط تھی۔میں نے اس کو شو کاز جاری کیا تھا۔مسعود رحمان عباسی نے اس کا جواب بھی دیا۔انہوں نے کہا کہ 22تاریخ کو میں نے عہدے سے بھی ہٹایا۔ان کی پارٹی رکنیت بھی ختم کی۔یہ سب ٹی وی پر بھی چلا ہے۔وزیر اطلاعات نے بتایا کہ سپریم کورٹ نے توہین عدالت کے قانون کے تحت کارروائی کی۔آئی جی کو حکم دیا کہ اس کو پیش کریں۔وہ شخص سپریم کورٹ میں پیش ہوا۔اس نے وہاں مانا بھی کہ یہ تقریر کی ہے۔سعید غنے نے کہا کہ بطور سیاسی جماعت ہم نے اس کا نوٹس لیا۔اس پر پابندی بھی عائد کی۔انہوں نے کہا کہ ایف آئی اے کے نوٹس کا توہین عدالت کی کارروائی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ایک شخص نے ایف آئی آر کٹوائی ہے۔اس پر نوٹس جاری کیے گئے۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے کارکنان کو بھی بلایا گیا۔کچھ کارکنان کو اسلام آباد بھی بلوایا گیا۔میں نے ڈی جی ایف آئی اے کو فون کیا۔یہ کوئی طریقہ نہیں ہے جس پرڈی جی نے کہا کہ اسلام آباد آنے کی ضرورت نہیں ہے۔سعید غنے نے کہا کہ ایک شخص کی وجہ سے پوری پیپلز پارٹی کو نوٹس جاری کئے گئے۔میں نے اس کو واٹس ایپ پر کوئی جواب نہیں دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے کئی ممبران نے اس کا میسج بھی نہیں پڑھا۔سعید غنی کا کہنا ہے کہ اگر ایک ایف آئی آر کو بنیاد بنا کر پوری پیپلز پارٹی کو ہراساں کریں۔انہوں نے کہا کہ میں 13 تاریخ کو نہیں جاو ں گا۔مجھے اگر بلانا ہے تو گھر پر نوٹس بھیجیں۔انہوں نے کہا کہ اداروں کو سیاسی انتقام کے لئے ستعمال کیا جارہا ہے۔وزیر اعظم خود یہ کہہ چکے ہیں کہ ہم وفاقی اداروں کو سندھ میں استعمال کریں گے۔وزیر اطلاعات نے کہا کہ یہ طریقہ کار مناسب نہیں ہے۔سپریم کورٹ کے پاس اختیار ہے وہ جو بھی کاروائی کرے۔پیپلز پارٹی رگڑے میں آنے والی نہیں ہے۔یہ بہت زیادتی ہورہی ہے۔

مزید :

صفحہ اول -