صوبائی وزیر زراعت تقریب سے غیر حاضر، کسان کارڈز لئے بغیر واپس

صوبائی وزیر زراعت تقریب سے غیر حاضر، کسان کارڈز لئے بغیر واپس

  

لودھراں (بیوررپورٹ، نمائندہ پاکستان) صوبائی وزیر زراعت پنجاب کی تقریب برائے تقسیم کسان کارڈ تعطل کا شکار ہو گئی  متعدد کسان پانچ گھنٹے انتظار کرنے کے  کارڈ وصول کیے بغیر  گھروں کو چلے گئے  محکمہ زراعت کے ملازمین نے  ضلع بھر سے کسانوں کو کورونا ایس او پیز فالو کیے  بغیر ایک ہال میں ماسک اور سماجی فاصلے کے بغیر  اکٹھے بیٹھا  دیا شوگر لو ہونے اور بھوک پیاس لگنے کی وجہ سے متعدد کسان تقریب چھوڑ کر گھروں کو روانہ ہو گئے  تفصیل کے مطابق(بقیہ نمبر1صفحہ10پر)

  محکمہ زراعت کے زیر اہتمام تحصیل کونسل لودھراں میں وزیراعظم پاکستان کے ویژن اور وزیر اعلی پنجاب کی ہدایت پر  ضلع کے کسانوں میں کسان کارڈز تقسیم کرنے کی  تقریب کا انعقاد کیا گیا تقریب میں کسانوں کو گیارہ بجے کانجو ہال میں بلایا گیا لیکن چار بجے تک تقریب شروع نہ ہو سکی مہمان خصوصی صوبائی وزیر زراعت سید حسین جہانیاں گردیزی تقریب میں تشریف نہ لائیں جس کی وجہ سے وہاں پر گیارہ بجے سے آئے ہوئے متعدد کسان کاشتکاروں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا افسوس ناک بات یہ ہے کہ سینکڑوں کسانوں کو بغیر کرونا ایس او پیز فالو کیے کئی گھنٹے سے ایک ہی ہال میں اکٹھے بیٹھا دیا گیا جہاں پر ان کے پینے کے لیے پانی  کا کوئی انتظام نہ کیا گیا اور نہ ہی ماسک لگائے گئے اور نہ ہی سماجی فاصلوں کو مد نظر رکھا گیا  مقامی کسانوں محمد بخش، چوہدری شبیر، ذولقرنین، محمد صادق، ربنواز، منظور احمد، غلام مصطفی، نذیرحسین کھور  و دیگر کاشتکاروں  نے  محکمہ زراعت کے اس رویے کی بھرپور انداز میں مذمت کی  انہوں نے کہا کہ گزشتہ پانچ گھنٹوں سے سے ہمیں یہاں پر بٹھایا گیا ہے یہاں پر کھانا تو درکنار پینے کے لئے پانی تک کا انتظام نہیں کیا گیا   احتجاج کے بعد متعدد کاشتکار پروگرام چھوڑ کر چلے  گئے کسانوں کا مزید کہنا تھا کہ حکومت پاکستان حکومت پنجاب  کسانوں کی بہتری کے لیے اقدامات کر رہی ہے لیکن نا اہل  انتظامیہ اور زراعت آفیسر اور ملازمین نے بہتر انتظامات نہ کرکے  سارے پروگرام کو خراب کر دیا دوسری طرف کسانوں کا مزید کہنا تھا اگر صوبائی وزیر نے نہیں آنا تھا تو کارڈ ہمیں پوسٹ کر دیے جاتے مزید کہا کہ محکمہ زراعت دو نمبر زرعی ادویات والوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر رہا ہے بارہا نشاندھی کی گئی لیکن رزلٹ صفر  ملازمین اپنے دفتر میں بیٹھے رہتے ہیں کسانوں کا مزید کہنا تھا کہ 52 سو روپے مقرر کی جانے والی ڈی اے پی کھاد ہمیں سات ہزار روپے میں  مل رہی  ہے اس پر بھی محکمہ زراعت اور لودھراں کے افسران کسانوں کو کوئی سپورٹ نہیں کر رہے ہے اگر کسانوں کو سپورٹ نہ کیا گیا تو کسان اچھی فصلیں  کیسے پیدا کریں گے اور پاکستان کو مضبوط کرنے میں اپنا کردار کیسے ادا کریں گے کہ انہوں نے اس ساری صورتحال میں وزیراعظم پاکستان عمران خان اور وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار سے ذاتی طور پر پر نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

غیر حاضر

مزید :

ملتان صفحہ آخر -