چھٹیاں، چیف جسٹس نیا لائحہ عمل تیار کریں، ریاض الحسن گیلانی

 چھٹیاں، چیف جسٹس نیا لائحہ عمل تیار کریں، ریاض الحسن گیلانی

  

ملتان (خصو صی رپورٹر)ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن ملتان کے صدر سید ریاض الحسن گیلانی نے کہا ہے کہ پاکستان کی عدلیہ میں لاکھوں کیسز زیر التوا ہیں۔ عوام کی تیسری نسل عدالتوں کے چکر لگانے پر مجبور ہے۔ رسول پاکؐ کا دور مثالی ہے اسلام میں قاضی کی چھٹی کا کوئی نظام نہیں، سائل حصول انصاف کے لیے رات گئے بھی قاضی کا دروزا کھٹکھٹا دیتے تھے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز جنرل سیکرٹری ملک سجاد حیدر میتلا، صدر ڈسٹرکٹ بار سید یوسف اکبر نقوی (بقیہ نمبر32صفحہ10پر)

اور دیگر وکلا کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ وکلا یقین دہانی کراتے ہیں کہ اگر عدلیہ کی چھٹیوں میں کمی کی گئی تو وکلا بھی غیر ضروری التوا نہیں کریں گے۔ چیف جسٹس آف پاکستان اور متعلقہ ادارے اس بارے لائحہ عمل تیار کریں۔ انڈین سپریم کورٹ کے کیلنڈر کے مطابق موسم گرما کی چھٹیاں 14 مئی سے یکم جولائی تک ہوتی ہیں۔یورپ میں چھٹیوں کا کوئی اصول نہیں ججز اور وکلا آگے آئیں گے، سخت معاشی حالات، انتظامی معاملات بدانتظامی میں بدل چکے ہیں عدلیہ واحد ادارا ہے جہاں سے لوگ امید رکھتے ہیں۔ ہمیں اپنے آرام میں کمی کرکے لوگوں کے لیے کام کرنا چاہیے، وکلا سمجھتے ہیں کہ سال میں دو ہفتے کی تعطیلات کافی ہیں۔ فراہمی انصاف اللہ تعالی کی صفت ہے۔ ہر لمحہ عدالتوں میں گزارنا ایک نیکی ہے، ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے چھٹیاں کم کرنے کی آواز بلند کی تو لاہور ہائی کورٹ کے سینئر جج نے اپنی چھٹیاں ختم کردیں جو بارش کا پہلا قطرہ ہے، مقدمات کا لیفٹ اوور ہونا بھی عدلیہ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے، عدالت میں وہی مقدمات فکس کیے جائیں جن کی سماعت ہوسکے، عدالت کا وقت بھی بڑھانا چاہیے، وکلا نے حصول انصاف کے لیے اٹھنے والے ہر قدم کا خیر مقدم کیا۔ شام کی عدالتوں کے قیام کے حق میں ہیں وکلا ہمیشہ حصول انصاف کے لیے آگے نظر آئیں گے۔

ریاض الحسن گیلانی

مزید :

ملتان صفحہ آخر -