کسی کو کچی شراب کیلئے کوئی لائسنس نہیں دیا جاتا ہے،مکیش کمار چاولہ 

کسی کو کچی شراب کیلئے کوئی لائسنس نہیں دیا جاتا ہے،مکیش کمار چاولہ 

  

کراچی(اسٹاف رپورٹر)سندھ کے وزیر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن مکیش کمار چالہ نے کہا ہے کہ حکومت سندھ کی جانب سے کسی کو کچی شراب کیلیے کوئی لائسنس نہیں دیا جاتا ہے،رجسٹرڈ کمپنیاں جو شراب بناتی ہیں وہ زہریلی نہیں ہوتی ہے۔انہوں نے یہ بات پیر کو سندھ اسمبلی میں محکمہ ایکسائز اینڈ ٹکیسیشن سے متعلق وقفہ سولات کے دوران ارکان کے مختلف تحریری اور ضمنی سوالوں کا جواب دیتے ہوئے بتائی۔ مکیش کمار چالہ نے کہا کہ زہریلی شراب کی فروخت کا جب بھی علم ہوتا ہے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے اوران پر چھاپے مارے جاتے ہیں۔کسی بھی کچی شراب والے کے پاس لائسنس نہیں ہوتا ہے۔ایسے افراد کے خلاف کارروائی کی صورت میں باقاعدہ کیس رجسٹرڈ کرتے ہیں۔ جی ڈی اے کی رکن نصرت سحر عباسی نے کہا کہ قانون کے تحت تو کوئی مسلمان شراب نہیں پی سکتا پھرغیر مسلموں کے علاوہ کیوں دوسروں کو شراب فروخت ہورہی ہے جس پرمکیش کمار چاولہ بولے اگر کوئی وائن شاپ انڈر ایج کو شراب فروخت کرتے ہیں۔نشاندھی کریں ہم ان کے خلاف کارروائی کریں گے۔انہوں نے کہا کہ قانون کے تحت اسکول کے قریب وائن شاپ نہیں ہوسکتی ہے۔لائسنس کے لیے صرف غیر مسلم درخواست کرسکتے ہیں۔ایم ایم اے کے سید عبد الرشید نے کہا کہ کراچی کے عام شہری کو معلوم ہے کچی شراب کہاں ملتی ہے۔مکیش کمار نے کہا کہ ہمارے محکمے کے پاس کل آٹھ ہزار اہلکار ہیں جہاں جہاں نشاندھی کی گئی ہے ان کے خلاف فوری ایکشن کی ہدایت کرتا ہوں۔۔نصر ت سحر عباسی کے ایک سوال پر وزیر ایکسائز نے کہا کہ اگر میری وزارت کی بات کرتی ہیں تو یہ چلتی رہے گی اور ممکن ہے کہ مزید 22 سال میرے پاس یہ وزارت رہے اور میری وزارت جانے کا آپ کا خواب کبھی پورا نہیں ہوگا۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ کراچی میں کراچی میں کچی شراب کے صرف 28 کیسز ہوئے ہیں میں نے اموات کا ذکر نہیں کیا ہے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -