عمران فاروق قتل کیس ، ملزم محسن علی کی اپیل پر سماعت 23اگست تک ملتوی 

عمران فاروق قتل کیس ، ملزم محسن علی کی اپیل پر سماعت 23اگست تک ملتوی 
عمران فاروق قتل کیس ، ملزم محسن علی کی اپیل پر سماعت 23اگست تک ملتوی 

  

اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) اسلام آباد ہائیکورٹ میں عمران فاروق قتل کیس میں سز ایافتہ مجرموں کی اپیلوںپر سماعت ہوئی ، چیف جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس عامر فاروق پر مشتمل بینچ نے کیس کی سماعت کی ۔

ملزم محسن علی کے وکیل نے دلائل دیے کہ ہمیں ٹرائل کے دوران جرح کا موقع ہی نہیں دیا گیا جس پر عدالت نے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ بتائیں قتل کہاں اور کیسے ہوا؟، محسن علی برطانیہ کب گیا اور واقعہ کب کا ہے ،محسن علی برطانیہ طالب علم کی حیثیت سے گیا ، وہاں کس جگہ پڑھتا تھا؟۔ملزم کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ جی ملزم پڑھنے گیا تھا اور وہاں کالج میں انرولڈ تھا۔

عدالت نے استفسار کیا کہ پراسیکیوشن کے مطابق آپ پر الزام ہے اور آپ نے چھری سے قتل کیا،قتل میں استعمال چھری ، سی سی ٹی وی فوٹیج یا کوئی عینی شاہد ہے ۔ وکیل نے عدالت کو بتایا کہ واقعے میں استعمال چھری برآمد ہوئی مگر عینی شاہد یا سی سی ٹی وی فوٹیج نہیں ہے ،جس شخص نے چھری برآمد کی اس کا بھی کوئی بیان اور شواہد موجود نہیں ۔

عدالت نے استفسارکیا کہ اس کیس میں محسن علی پر مقدمہ کیسے درج ہوا، برطانیہ یا پاکستانی تفتیشی اداروں کو الہام تو نہیں ہوا وہگا کہ محسن علی نے قتل کیا ہے۔

وکیل نے بتایاکہ محسن علی کو 19ستمبر 2010کو کراچی ائیرپورٹ سے گرفتارکرلیا گیا اور پانچ سال بعد ایف آئی آر درج کی گئی۔

عدالت نے استفسار کیا کہ کیا محسن علی کے لندن کے ہمسائے نے پولیس کو کوئی بیان دیا۔ وکیل نے جواب دیا کہ گورے پڑوسی کی ڈسکرپشن پر محسن علی کو گرفتار کیا گیا۔ عدالت نے استفسار کیا کہ 19ستمبر کو محسن علی کو کس جرم میں گرفتار کیا گیا۔ وکیل نے بتایا کہ ریکارڈ پر گرفتاری کی تاریخ پانچ دسمبر 2015 ہے ۔

عدالت نے استفسار کیا کہ ملزم پانچ سال تک جیل میں رہا پر کوئی درخواست دائر نہیں کی گئی ۔ عدالت نے کیس کی سماعت 23اگست تک ملتوی کر دی ، آئندہ سماعت پر بھی ملزم محسن علی کے وکیل دلائل جاری رکھیں گے ۔

مزید :

قومی -جرم و انصاف -