وزیراعظم دوروں کی بجائے کراچی کی عوام کے ساتھ کیے ہوئے وعدوں کو پورا کریں، چیئرمین کراچی تاجر الائنس پھٹ پڑے

 وزیراعظم دوروں کی بجائے کراچی کی عوام کے ساتھ کیے ہوئے وعدوں کو پورا کریں، ...
 وزیراعظم دوروں کی بجائے کراچی کی عوام کے ساتھ کیے ہوئے وعدوں کو پورا کریں، چیئرمین کراچی تاجر الائنس پھٹ پڑے

  

کراچی(ڈیلی پاکستان آن ائن)کراچی تاجرالائنس کےچیئر مین ایازمیمن موتی والا نے کہاہےکہ وزیراعظم عمران خان کراچی کے دوروں کی بجائے کراچی کی عوام کے ساتھ کیے ہوئے وعدوں کو پورا کریں، تحریک انصاف کی حکومت کو تین سال مکمل ہو چکے لیکن کراچی کا کوئی ایک مسئلہ ایسا نہیں جو حل ہوا ہو، اقتدار میں آنے سے قبل تو  تحریک انصاف(پی ٹی آئی) والوں نے ووٹ حاصل کرنے کے لیئے بلند و بانگ دعوے کر دیئے لیکن اب جب ان دعووں اور وعدوں کو پورا کرنے کاوقت ہے تو یہ لوگ ٹال مٹول سے کام لے رہے ہیں ۔

 تفصیلات کے مطابق ایاز میمن موتی والا نے کہا کہ کراچی ٹرانسفارمیشن پلان پر بھی کوئی عملی اقدام نظر نہیں آیا، زبانی کلامی بیان بازیوں سے کب تک کام چلائیں گے؟ آج کراچی کے تاجر پریشان ہیں، مزدور مشکلات سے دوچار ہیں، پورے پاکستان کو سب سے زیادہ ٹیکس دینے والا شہر آج مسائل کا گڑھ بن چکا ہے، جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر پڑے ہیں ،کراچی کی عوام بجلی ، پانی ، گیس سمیت بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، صوبہ سندھ کے پی ٹی آئی کے نمائندے کراچی کے مسائل کو وزیراعظم تک پہنچائیں ، کراچی کی بہتری کے لیئے صوبائی اور وفاقی حکومت کو ملکر کام کرنا ہوگا ۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومتوں کی جنگ میں نقصان کراچی کا ہورہا ہے، وزیراعظم بڑے پن کا مظاہر ہ کرتے ہوئے پورے ملک کے وزیراعظم بنیں اور ملکی ترقی کے بارے میں سوچیں ،سیاسی جماعتیں بھی کراچی پر حکومت کرنے کی بجائے کراچی کی عوام کے مسائل کو حل کرنے پر توجہ دیں تا کہ اس شہر میں امن ہو ، بجلی کا بحران ختم ہوسکے ، صنعتیں چلیں اور کاروباری سرگرمیوں میں بہتری و تیزی آئے۔

ایاز موتی والا کا کہنا تھا کہ کراچی کا دل بہت بڑا ہے، اس نے اپنے اندر ملک کے ہرکونے کے شہری کو جگہ دی ہوئی ہے، پورے ملک سے لو گ یہاں روزگار کے حصول کے لیئے آئے ہوئے ہیں مگر حکومتوں کی عدم توجہ سے کراچی میں روزگار کے مواقع ختم اور شہر کا حسن بھی تباہ و برباد ہوتا جارہا ہے، انہوں نے کہا کہ میں اپیل کرتا ہوں وزیراعظم سے کہ وہ کراچی کے مسائل کو حل کریں تا کہ ملک ترقی کر سکے کیونکہ پاکستان کی ترقی کراچی کے ساتھ منسلک ہے۔

مزید :

بزنس -