"تحریک انصاف اور فوج کے درمیان خلیج پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے" اسد عمر کا دعویٰ

"تحریک انصاف اور فوج کے درمیان خلیج پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے" اسد عمر کا ...

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)  پاکستان تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل اسد عمر نے کہا کہ 17 جولائی کو ہونے والے پنجاب کے ضمنی انتخاب نے ثابت کر دیا کہ عمران خان کسی کے قابو نہیں آرہا ، پاکستان کی سب سے بڑی  سیاسی جماعت اور فوج کے درمیان  خلیج پیدا کی جا رہی ہے۔

لاہور میں  تحریک انصاف کے رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسد عمر نے کہا کہ   50 فالوورز والے  ایک لڑکے کے اکاؤنٹ کی ٹویٹ کو وجہ بنا کر نفرت پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ،  ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت اور فوج کے مابین خلیج پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ،  اس لڑکے کی ٹویٹ  غلط تھی جس کی مذمت کرتے ہیں ،  10 سال کے  فضل الرحمان ، نواز شریف اور آصف زرداری کے بیانات اٹھا کر دیکھ لیں  علم ہو جائے گا کہ فوج کے خلاف کون  بیان دیتا تھا ، آج سوشل میڈیا ان کے بیانات سے بھرا پڑا ہے ۔ 

 اسد عمر نے کہا کہ بند کمرے میں سازشیں ہوتی رہیں مگر اس بار قوم کا ایک خود دار لیڈر اس سازش کے  خلاف اٹھ کھڑا ہوا اور اس کے ساتھ ہی پوری قوم بھی کھڑی ہو گئی ،  پورا ملک باہر نکل آیا ، عمران خان کی کال پر بار بار قوم نکلتی رہی ،  17 جولائی کو پنجاب کے ضمنی الیکشن نے  ان کے لئے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے ،  پنجاب کے ضمنی الیکشن میں عوام نے  اقتدار ان سے چھین کر  واپس پی ٹی آئی کو دیا جس پر ان میں کھلبلی مچ گئی ہے ، انہیں  علم ہو چکا ہے کہ عمران خان قابو میں نہیں  آرہا  یہ تو پرانے سیاسی نظام کیلئے خطرہ ہے ۔

سیکرٹری جنرل پی ٹی آئی نے کہا کہ پہلے تو فرمائشی پریس کانفرنسیں ہوتی رہیں اس کے بعد  الیکشن کمیشن کی رپورٹ سامنے آگئی ، پھر طوفان کھڑا کر دیا گیا کہ فارن فنڈنگ ہوئی ہے حالانکہ خود الیکشن کمیشن کہہ چکا ہے کہ فارن فنڈنگ  کا لفظ استعمال نہ کیا جائے ، ملک میں مہنگائی  38.7 فیصد تک پہنچ گئی مگر اس حکومت کیلئے وہ مسئلہ نہ تھا ، صبح شام صرف فارن فنڈنگ پر پریس کانفرنسز ہی ہوتی رہیں ۔

اسد عمر نے کہا کہ  شہباز گل کو سادہ لباس کپڑوں میں ملبوس افراد نے اٹھایا ،  بٹ مار کر گاڑی کے شیشے توڑے گئے ، اے آر وائی نیوز  کی نشریات معطل کر دی گئیں ، رات کو ایف آئی آر کاٹی گئی اور  ادارے کے سینئر وائس پریزیڈنٹ  کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ، صحافی حضرات جانتے ہیں کہ یہ معاملہ یہاں رکنے والا نہیں ، اب جو بھی حقائق اجاگر کرے گا ، امپورٹڈ حکومت کو سپورٹ نہیں کرے گا باری باری سب کا نمبر آنے والا ہے ، شہباز شریف کی بات سے اختلاف ہوسکتا ہے ، ایف آئی آر مجسٹریٹ کے سامنے پیش کریں ، شہباز گل کو بلا کر وضاحت طلب کریں ، ایسے ہتھکنڈے  بتاتے ہیں کہ یہ حکومت اپنے آپ کو اندر سے کھوکھلا محسوس کر رہی ہے ، یہ آخری بھبھکے ہیں ،  چیئرمین عمران خان نے میٹنگ کال دی ہے ، اجلاس کے بعد  آئندہ کے  لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔

اسد عمر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے سے اختلاف ہے ، الیکشن کمیشن یہ بات اچھے سے جانتا ہے انہیں بتانے کی ضرورت نہیں ،  پی ٹی آئی کے خلاف ایک مقدمہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ یہ جماعت ملک کیلئے بہت بڑا خطرہ ہے ، اس پر دو طرح سے حملہ کرنے کی کوشش ہو رہی ہے ، فارن فنڈنگ کا لفظ تو خود الیکشن کمیشن نے استعمال کرنا چھوڑ دیا ہے  مگر  سیاسی حریف جھوٹا بیانیہ بنا کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔

اسد عمر نے کہا کہ   تحریک انصاف نے فنڈ ریزنگ کے دو ایونٹ کرائے  جس میں  سے ایک متحدہ عرب امارات میں ہوا ، وہاں کے  ڈونرز حضرات کی پوری لسٹ موجود ہے مگر الیکشن کمیشن کہتا ہے کہ اس کے ذرائع نہیں ہیں ۔ دوسری فہرست میں 21 غیر ملکی افراد اور کمپنیوں  کے نام بتائے گئے ، اب ان تمام افراد کے  بیان حلفی اور آڈیو پیغامات سامنے آرہے ہیں ،  اسی طرح امریکی کمپنی کے صاحب نے  خود کہا کہ میں نے پیسہ دیا ہے ، ایک بھارتی خاتون رویتا سیٹھی جو کہ امریکی  قومیت رکھتی ہیں ان سے ملنی والی رقم پر خاصا شور مچا ، بعد میں پتہ چلا کہ اس خاتون نے ایک پاکستانی سے شادی کر رکھی ہے ، دونوں میاں بیوی کا جوائنٹ اکاؤنٹ ہے جہاں سے رقم  خاوند صاحب نے ارسال کی ، خاوند صاحب کا بیان بھی آگیاہے  کہ میں پاکستانی ہوں اور پیسہ میں نے دیا ہے ۔ 

سیکرٹری جنرل پی ٹی آئی نے کہا کہ عمران خان نے بیان حلفی نہیں دیا  بلکہ سرٹیفکیٹ دیا ہے ، بیان حلفی وہ ہوتا ہے جو کوئی شخص اپنی ذاتی اور اپنے اثاثوں سے متعلق دیتا ہے  جبکہ سرٹیفکیٹ  وہ ہوتا ہے جو کسی تنظیم سے متعلق ہو ،  سرٹیفکیٹ پر خصوصی لکھا جاتا ہے کہ جو حقائق میرے سامنے رکھے گئے ہیں میں ان کو مد نظر  رکھتے ہوئے ان کی تصدیق کرتا ہوں ۔ ممنوعہ فنڈنگ  کیا ہے اس پر  2002 کا قانون واضح ہے کہ آپ کسی غیر ملکی حکومت سے پیسے نہیں لے سکتے ، ملک کے اندر موجود کسی رجسٹرڈ کمپنی سے پیسہ نہیں لے سکتے مگر یہ نہیں لکھا کہ آپ باہر کی رجسٹرڈ کمپنی سے پیسہ نہیں لے سکتے ۔  2017 کے الیکشن ایکٹ میں ترمیم کی گئی اور مختلف الفاظ استعمال کئے مگر پی ٹی آئی کا کیس سال  2008 سے  2013 کے دوران کا تھا ، وہاں یہ  لاگو نہیں ہوتے ۔  الیکشن کمیشن کو سالانہ  اپنے فنڈز سے متعلق تفصیلات فراہم کیں،  الیکشن کمیشن نے کسی بھی اکاؤنٹ کو چیلنج نہیں کیا ۔

اسد عمر نے مزید کہا کہ  حنیف عباسی کیس میں سپریم کورٹ کا فیصلہ موجود ہے کہ کیا کوئی سیاسی جماعت بیرونی حکومت کی ایماء پر کام کر رہی ہے اس کا تعین   صرف حکومت وقت کرے گی ، الیکشن کمیشن کے پاس ایسا کوئی اختیار نہیں  ، یہاں الیکشن کمیشن نے  قانون کی تشریح بھی کر دی جو صرف سپریم کورٹ کا اختیار ہے ۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -