ملتان پر حملے کے پیچھے واضح مادی و دنیاوی مفادات تھے 

 ملتان پر حملے کے پیچھے واضح مادی و دنیاوی مفادات تھے 
 ملتان پر حملے کے پیچھے واضح مادی و دنیاوی مفادات تھے 

  

 مصنف: پروفیسر عزیز الدین احمد

قسط (8)  

محمود کے دور میں خلیفہ بغداد کو سارے مسلمان حکمرانوں بلکہ پورے عالم اسلام کا سربراہ تصور کیا جاتا تھا۔ اس زمانے میں عباسی خاندان کا خلیفہ القادر باللہ سریر آرائے حکومت تھا۔ اور خراسان کا ایک حصہ، نیز سمرقند حکومت عباسی میں شامل تھے۔ محمود غزنوی نے نہ صرف خراسان پر قبضہ کر لیا بلکہ خلیفتہ المسلمین سے سمرقند کا بھی مطالبہ کیا۔ خلیفہ کے انکار پر محمود نے جو دھمکی آمیز لہجہ اختیار کیا وہ اس کی جعلی محبت کا پردہ چاک کرتا ہے اور پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے محمد قاسم فرشتہ لکھتا ہے: 

”اس زمانے کا واقعہ ہے کہ سلطان محمود نے بغداد کے خلیفہ القادر باللہ العباسی کے نام ایک خط بھیجا جس میں یہ درج تھا کہ خراسان کا بیشتر حصہ چونکہ مملکت غزنویہ کے ماتحت ہے اس لیے یہ بہتر ہو گا کہ خراسان کا بقیہ حصہ جو خلافت کا محکوم ہے وہ بھی حکومت غزنی کے حوالے کر دیا جائے۔ خلیفہ بغداد نے سلطان کی اس خواہش کو مجبوراً پورا کیا اور پورا خراسان سلطان محمود کے قبضے میں آ گیا۔ اس کے بعد محمود نے خلیفہ سے کہا کہ سمرقند بھی ایک فرمان کے ذریعے اس کے حوالے کر دیا جائے۔ خلیفہ نے بڑے زوردار الفاظ میں انکار کیا اور محمود کو لکھا کہ، اگر تو میری مرضی کے خلاف سمرقند کی طرف آنکھ اٹھائے گا تو میں تمام دنیا کو تیرے خلاف ابھار دوں گا۔ یہ جواب پاکر محمود کو بڑا غصہ آیا اور اس نے خلیفہ کے قاصد کو کہا۔ میں اب جان گیا ہوں کہ تم لوگ یہ چاہتے ہو کہ میں ہزارہا کوہ پیکر ہاتھیوں سے دارالخلافت کو روند ڈالوں اور بارگاہ خلافت کا ملبہ انہی ہاتھیوں پر لاد کر غزنی لے آﺅں۔“

ظاہر ہے کہ بارگاہ خلافت کا ملبہ ہاتھیوں پر لاد کر غزنی لانے کا عزم رکھنے والے حکمران نے ہندوستان پر جو 17حملے کیے ان کے پیچھے بھی کوئی روحانی اور اخلاقی مقصدکا محرک موجود نہیں ہو سکتا۔ کہا جاتا ہے محمود کا ملتان پر حملہ قرامطہ کے استیصال کے لیے تھا۔ تاہم ملتان پر حملے کے پیچھے واضح مادی و دنیاوی مفادات تھے جن کی نشاندہی مورخ واضح طور پر کرتا ہے۔ 

ملتان پر حملے کا بہانہ یہ بنایا گیا کہ قرامطی عقیدے کا حاکم برسراقتدار آ گیا ہے۔ جبکہ اصل اور اہم وجہ یہ تھی کہ اس حکمران نے سلطان کو وہ محاصل ادا کرنے بند کر دئیے تھے جو اس کے آباﺅ اجداد کے زمانے سے مروج تھے۔ اسی بات نے سلطان کو مجبور کیا وہ ملتان پر حملہ کرے۔ بقول فرشتہ :

”کچھ عرصہ تک ابوالفتح نے اپنے اسلاف کی پیروی کی اور محمود کے حلقہ بگوشوں میں شامل رہا لیکن بعدازاں حقوق خدمت سے بھی منہ پھیر بیٹھا۔“ 

چنانچہ سلطان نے ملتان پر چڑھائی کی۔ ابو الفتح مقابلے کی تاب نہ لا سکا اس نے سلطان محمود کی خدمت میں اپنے قصور کی معافی کی درخواست پیش کی اور اس بات کا وعدہ کیا کہ ہر سال10 ہزار اشرفیاں خدمت میں پیش کیا کرے گا۔ سلطان نے ابوالفتح کی درخواست کو قبول کر لیا اور محاصرہ کے8 روز بعد مندرجہ بالا شرط پر صلح کر کے واپسی کا ارادہ کیا۔ 

 سلطان کے جہاد کا مقصد واضح ہو گیا۔ یہ فقط دس ہزار اشرفی سالانہ کی رقم کا حصول تھا۔ یہ محاصل ادا کرنے کے بعد باطنی فرقہ آزاد تھا کہ وہ ملتان میں جو چاہے کرے۔ تاہم اگر وہ محمود کو ٹیکس ادا نہ کرتا تو وہ واجب القتل تھا۔ 

ہندوستان میں سلطان نے سومناتھ سمیت کئی مندروں کی اینٹ سے اینٹ بجائی۔ لیکن یہاں بھی یوں معلوم ہوتا ہے کہ بنیادی محرک زر و جواہر کا حصول تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سلطان نے جن مندروں پر یلغار کرنے کا فیصلہ کیا ان سب میں سونے کے بت نصب تھے۔ سلطان کو سارے ہندوستان میں کوئی ایسا مندر نظر نہیں آیا جہاں مٹی اور پتھر کے بت نصب ہوں اور اسے وہ بت شکنی کا فریضہ ادا کرنے کے لیے منتخب کرے۔یہی وجہ ہے کہ بامیان میں موجود مہا تما بدھ کے عظیم الشان مجسمے جنہیں طالبان نے اپنے دور حکومت میں مسمار کیا محمود غزنوی کے ہاتھ سے محفوظ رہے ۔( جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -