میرا خاندان کاروبار اور تخلیقی فیصلے کرنے کے حوالے سے میرے اوپر زیادہ سے زیادہ انحصار کر رہا تھا

میرا خاندان کاروبار اور تخلیقی فیصلے کرنے کے حوالے سے میرے اوپر زیادہ سے ...
میرا خاندان کاروبار اور تخلیقی فیصلے کرنے کے حوالے سے میرے اوپر زیادہ سے زیادہ انحصار کر رہا تھا

  

مترجم:علی عباس

قسط: 41

باپ نے مجھے "Going Places" کے منظر نامے سے ہٹ جانے کے بعد ران الیگزنبرک کے ساتھ ملاقات کرنے کے لئے جانے کو کہا۔ ران نے ہمارے ساتھ سی بی ایس کے لئے معاہدہ کیا تھا اور اُسے اس کی کامیابی کا یقین تھا۔ ہم اُسے یہ باور کرانا چاہتے تھے کہ ہم اپنی موسیقی کو خود ترتیب دینے کے لئے تیار ہیں۔ ہم محسوس کر رہے تھے کہ سی بی ایس آگاہ ہے کہ ہم اپنے طور پر کیا کر سکتے ہیں چنانچہ ہم نے اپنا مو¿قف پیش کیا، وضاحت کی کہ درحقیقت ہماری خواہش ہے کہ بوبی ٹیلر ہمارے ساتھ کام کرے۔ اُن سب برسوں کے دوران بوبی ٹیلر ہمارے ساتھ وابستہ رہا تھا اور ہم اُسے اپنے لئے ایک بہتر پروڈیوسر خیال کرتے تھے۔ ایپک گیمبل اور ہف کو اُن کے بہتر کیریئر کی وجہ سے ہمارے ساتھ وابستہ کرنا چاہتا تھا لیکن ہو سکتا تھا کہ وہ غلط چابک سوار ہوں یا ہم اُن کےلئے غلط گھوڑے ثابت ہوتے کیونکہ ہم نے اُنہیں سیلز ڈیپارٹمنٹ میں نیچا دکھایا تھا اور اس میں ہماری کوئی غلطی نہیں تھی۔ ہمارے کام کا خاصا مستحکم ضابطہ موجود تھا جو ہمارے ہر کام میں یہ مددگار ثابت ہوتاتھا۔

الیگزنبرگ یقیناً فنکاروں کے ساتھ معاملات طے کرنے کا عادی تھا تاہم مجھے یقین تھا کہ وہ اپنے کاروباری دوستوں کے ہمراہ موسیقاروں کے بارے میں ایسے ہی گفتگو کر سکتا تھا جیسے ہم موسیقار آپس میں اپنی کہانیوں کا تبادلہ کر سکتے تھے لیکن جب گفتگو کا رُخ موسیقی کے کاروباری پہلو کی جانب ہوا تو باپ اور میں ایک ہی خطوط پر سوچ رہے تھے۔ وہ لوگ جو موسیقی بناتے ہیں اور لوگ جو گیت فروخت کرتے ہیں، ایک دوسرے کے فطری دشمن نہیں ہوتے۔مجھے اس کی بہت زیادہ فکر تھی جو کچھ میں ایک کلاسیکی موسیقار کی حیثیت سے کر رہا تھا اور جو کچھ میں کرتا ہوں، وہ میری زیادہ سے زیادہ لوگوں تک رسائی حاصل کرنے کی ایک کاوش ہے۔ ریکارڈ کمپنیوں سے وابستہ لوگ اپنے فنکاروں کا خیال رکھتے ہیں اور وہ ایک بڑی مارکیٹ پر غلبہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ہم سی بی ایس کے میٹنگ روم میں بیٹھے ہوئے مہذب انداز میں پرویا گیا کھانا کھا رہے تھے، اس دوران ہم نے الیگزنبرگ کو بتایا تھا کہ ایپک اپنی بہترین صلاحیتوں کو بروئے کار لا رہا ہے اور یہ بہت زیادہ بہتر نہیں ہیں۔ ہم محسوس کرتے ہیں کہ ہم اس سے بہتر طور پر کام کر سکتے ہیں اور ہم اپنی ساکھ کے باعث اس مقابلے کا حصہ بن سکتے ہیں۔

ہم جب ’ بلیک راک‘ کہلانے والی اُس بلند و بالا عمارت سے باہر نکلے، باپ اور میں نے ایک دوسرے سے زیادہ بات نہیں کی، ہوٹل تک واپسی کے سفر کے دوران خاموشی رہی، ہم دونوں اپنی سوچوں میں مگن رہے۔ ہم جو کچھ پہلے کہہ چکے تھے، اُس میں شامل کرنے کےلئے ہمارے پاس زیادہ مواد نہیں تھا۔ ہماری پوری زندگیاں واحد اور اہم تنازعے کی جانب بڑھ رہی تھی، اگرچہ یہ تنازعہ سنجیدہ اور جھوٹ سے پاک تھا۔ ہوسکتا ہے کہ ران الیگزنبرگ کے پاس مسکرانے کی وجہ موجود ہو جب وہ اس دن کو یاد کرے۔

سی بی ایس کے نیویارک میں واقع مرکزی دفتر میں جب یہ ملاقات ہوئی تھی تو اُس وقت میں صرف 19برس کا تھا۔میں نے اپنی عمر سے زیادہ بوجھ اُٹھایا ہوا تھا۔ میرا خاندان کاروبار اور تخلیقی فیصلے کرنے کے حوالے سے میرے اوپر زیادہ سے زیادہ انحصار کر رہا تھا۔ اور میں اُن کے بارے میں درست فیصلے کرنے کے بارے میں پریشان تھا لیکن مجھے اپنی شدید ترین خواہش کو عملی جامہ پہنانے کا موقع ملا تھا۔۔۔میں فلم میں اداکاری کرنا چاہتا تھا۔۔۔موٹون کے ساتھ پرانی وابستگی دیر سے منافع دے رہی تھی۔

موٹون نے ” دی وِز“ کے نام سے معروف براڈوے شو کرنے کے حقوق خریدے تھے، اگرچہ ہم کمپنی چھوڑ رہے تھے۔’ ’ دی وز“ سیاہ فام آبادی سے متعلق عظیم فلم” دی وزرڈ آف اوز“ کا ترمیم شدہ ورژن تھا جو مجھے ہمیشہ پسند رہی ہے۔ مجھے یاد ہے کہ میرے بچپن میں فلم ” دی وزرڈ آف اوز“ سال میں ایک مرتبہ ٹیلی ویژن پر دکھائی جاتی تھی اور ہمیشہ وہ اتوار کی رات ہوتی۔ عصرِ حاضر کے بچے تصور نہیں کر سکتے کہ وہ موقع ہمارے لئے کس قدر اہم ہوتا تھا کیونکہ موجودہ نسل ویڈیو کیسٹس اور کیبل کی نشریات دیکھ کر بڑی ہو رہی ہے۔)جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -