اگر متحدہ ہندوستان ہوتا تو مسلمان کیا ہوتے....؟

 اگر متحدہ ہندوستان ہوتا تو مسلمان کیا ہوتے....؟
 اگر متحدہ ہندوستان ہوتا تو مسلمان کیا ہوتے....؟

  

 تحریر : پروفیسر ڈاکٹر ایم اے صوفی

قسط (10) 

ڈاکٹر رفیق زکریا نے اپنے ایک تحقیقی مقالہ میں ہندوستان کے مسلمانوں کی اقتصادی بدحالی کے بارے میں تحریر کیا ۔آپ نے اس بات کی نشاندہی کی کہ آئندہ سالوں میں ہندوستان کے مسلمان اقتصادی مسائل سے بہت زیادہ دوچار ہو جائیں گے۔ ڈاکٹرزکریا محقق اور بے شمار کتابوں کے مصنف ہیں وہ مہاراشٹرریاست کے قانون دان بھی رہے اور مہاراشٹر گورنمنٹ میں 15سال تک وزیر بھی رہے ۔لوک سبھا کے رکن بھی منتخب ہوئے۔اندرا گاندھی کے زمانے میں کانگریس کے ڈپٹی لیڈر بھی تھے۔ اُس وقت وہ اردو یونیورسٹی علی گڑھ میں چانسلر تھے۔ محترم اعلیٰ سطح کے محقق تھے۔ ڈاکٹر رفیق زکریا کے علاوہ ڈاکٹر ذاکرحسن،مولانا ابوالکلام آزاد،حسین احمد مدنی، خان عبدالغفار خان اور دیگر ایسے قومی سطح کے کانگریس اکابرین نے ہندوﺅں کی تہذیب و ثقافت کو قریب سے دیکھا لیکن اپنی یعنی اسلام کی انفرادیت کو سمجھنے سے قاصر رہے۔ یہی وہ لوگ تھے جنہوں نے قرار داد لاہور23مارچ 1940ءکو پاس ہوتے ہی ہندو لیڈروں کے ساتھ کانگریس کے پلیٹ فارم پر اس قرار داد اور مسلم لیگ کے رہنماﺅں پر اعتراضات کیے تھے اور کہا تھا کہ اگر ہندوستان تقسیم ہوا تو مسلمانوں کی اقتصادی ،اخلاقی، سماجی حالت بہتر ہو جائے گی۔

 یہی وہ لوگ تھے جو تقسیم برصغیر کے وقت بہت سرپٹائے اور قائداعظم ؒ کی بات کو یہ اہمیت نہیں دے سکے۔ قائداعظمؒ نے ہندوستان کی تقسیم کو ضروری قرار دیا۔اس لیے کہ اگر ہندوستان رہتا ہے۔ایک اسمبلی ہوگی،بالغ رائے دہی پر انتخا ب ہوں گے۔ایک سنٹرل اسمبلی اور صوبائی سطح پر لوگوں کی رہنمائی کے لیے جس میںمسلمان بھی ہوں گے۔قائداعظمؒ نے پیشگوئی کی تھی کہ مرکز میں ہندﺅوں کی70فیصد ووٹوں کے حساب سے طاقت ہوگی اور مسلمان30فیصد ہوںگے۔ہو سکتاہے کہ کچھ کانگریس کے اثر میں آجائیں۔مسلمان اور ہندو کے ووٹ کا اسمبلیوں میں تناسب 3:1ہوگا۔اس کے علاوہ ملازمت کے اعتبار سے نیوی، آرمی،ائیر فورس اور دوسری اہم جگہوں پر ہندو اسی حساب سے چنے جائیں گے۔عملی طور پر ہندو مسلمانوں پر سبقت لے جائیں گے۔ کانگریس کے رائے دہندوں کی موجودگی زیادہ ہوگی اور مسلمانوں کی کم ہوگی۔ مرکزی انتظامیہ میں بھی ہندﺅوں کی اکثریت ہوگی ۔مسلمان سکھ اور دوسرے لوگ خسارے میں رہیں گے۔فوج میں جو لوگ شامل ہیں یا مرکز میں ہیں وہ عملی طور پر کم ہو جائیں گے۔ اس وقت ہندوستان میں50فیصد سے زیادہ برطانوی فوج میں مسلمان آفیسر تھے۔ جن کا تعلق جہلم، چکوال،ہزارہ ، اٹک اور فرنٹیئر اضلاع سے تھا ۔ پھر کانگریس ان تمام جگہوں سے ڈیفنس فور س میں لوگ بھرتی کرے گی۔ جہاں سے انہیں اکثریت حاصل ہوئی ہوگی۔ اسی طرح کانگریس کی اکثریت کی موجودگی میںمرکزی اور صوبائی وزراءزیادہ ہوں گے۔ مالیات،آبپاشی، زراعت، ذرائع آمدورفت ،اطلاعات اور بیرونی معاملات سب کے سب پر ہندوﺅں کا قبضہ ہوگا۔ رائے شماری یعنی ووٹ کے ذریعے وزیراعلیٰ چنے جائے گے۔ ضروری بات ہے کہ اگر مرکز میں کانگریس کی اکثریت ہے اور مسلم اقلیت میں ہوں گے۔ لہٰذا ہندوستان کے سارے محکمے جس میں دفاع، منصوبہ بندی، قانون اوراقتصادیات وغیرہ میں کانگریس کے لیڈرزیادہ ہوں گے اور وہ ہندوﺅں کی اقتصادی پوزیشن کو مضبوط کریں گے اور مسلمان ہندوﺅں کے رحم و کرم پر ہوں گے۔ مزید برآں مسلمان ہندوﺅںکے تعصب کا شکار ہو جائیں گے۔

 قائداعظم نے اس بات کی نشاندہی بھی کی تھی کہ مسلمانوں کی مذہبی اقدار کی حفاطت ایک ہندوستان میں رہ کرنہیں ہوسکتی۔ مسلمانوں کی ایک ثقافت ہے اور زبان اردو ہے۔ مسلمانوں کا ایک جُداگانہ نظریہ توحید ہے۔ ایک ہندوستان میںمسلمان کسی طرح بھی ترقی نہیں کرسکیں گے۔انہوں نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ مسلمان سیاسی اور معاشی طور پر ہندوﺅں کے دست نگر ہو جائیں گے اور ہندو ذات پات کے ذریعے مسلمانوں کو اور بھی دوسرے شعبوں میں پیچھے رکھیں گے جس صورت حال کا ذکر ڈاکٹر زکریا نے اب پیش کیا وہ قائداعظمؒ ہی کی پیش گوئی ہے۔

 ڈاکٹر زکریا اپنے تحقیقی مقالہ میں بیان کرتے ہیں کہ اس وقت تمام ہندوستان میں لولیول (Low level) یعنی چھوٹی سطح پر مسلمانوں کی آسامیاں 6فیصدہیں جبکہ مسلمان آبادی کے حساب سے12فیصد ہیں۔ کسی بڑی پوسٹ پر مسلمان زیادہ نہیں ہیں۔ اقتصادی لحاظ سے کوٹہ،گرانٹیں،لائسنس کے حوالے سے بھی مسلمانوں کو بھارت میں پیچھے رکھا گیا ہے۔ حکومت ہندوستان نے سرکاری ملازمین کے لیے جو مکان بنائے اس سہولت میں بھی مسلمانوں کو محروم رکھا۔مسلمانوںکا اس میں حصہ2.86فیصدہے۔یہی حال انڈسٹریل اسٹیبلشمنٹ کا ہے۔دکانیں،ٹیکسٹائل اور شوگر فیکٹریوں میں مسلمانوں کو سہولتیں کم دی گئی ہیں۔ڈاکٹر زکریا صاحب افسوس کرتے ہیں کہ مایوس مسلم نوجوان اینٹی سوشل عوامل میں شامل ہو رہے ہیں۔ ( جاری ہے ) 

کتاب ”مسلم لیگ اورتحریکِ پاکستان“ سے اقتباس (نوٹ : یہ کتاب بک ہوم نے شائع کی ہے، ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔ )

مزید :

بلاگ -