ٹوئٹر کے خلاف جاری قانونی جنگ کے دوران ہی ایلون مسک نے ٹیسلا کے اربوں ڈالر مالیت کے حصص فروخت کردئیے

ٹوئٹر کے خلاف جاری قانونی جنگ کے دوران ہی ایلون مسک نے ٹیسلا کے اربوں ڈالر ...
ٹوئٹر کے خلاف جاری قانونی جنگ کے دوران ہی ایلون مسک نے ٹیسلا کے اربوں ڈالر مالیت کے حصص فروخت کردئیے
سورس: Wikimedia Commons

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک)دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک نے اپنی الیکٹرک کار ساز کمپنی ٹیسلا کے 6ارب 90کروڑ ڈالر مالیت کے حصص فروخت کر دیئے۔ انڈیا ٹوڈے کے مطابق یہ حصص ایلون مسک کو ٹوئٹر کے معاہدے سے انحراف کے بعد ٹوئٹر انتظامیہ کے ساتھ جاری قانونی جنگ کی وجہ سے فروخت کرنے پڑے ہیں۔ 

ایک ٹویٹ میں ایلون مسک نے بتایا ہے کہ ”ٹوئٹر کے ساتھ قانونی جنگ کے دوران ایمرجنسی سیل سے بچنے کے لیے ٹیسلا سٹاک فروخت کرنا ضروری تھا۔“ رواں سال اپریل میں ایلون مسک نے ٹیسلا کے ساڑھے 8ارب ڈالر مالیت کے حصص فروخت کیے تھے اور اس وقت کہا تھا کہ اس کے بعد ان کا ٹیسلا کے مزید حصص فروخت کرنے کا کوئی پلان نہیں ہے۔

تاہم اب چار ماہ بعد ہی انہیں الیکٹرک کار ساز کمپنی کے مزید حصص فروخت کرنے پڑ گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ایلان مسک کو ان کے قانونی مشیروں کی طرف سے تجویز دی گئی ہے کہ وہ ٹیسلا کے مزید حصص فروخت کر دیں کیونکہ اگر وہ ٹوئٹر کے ساتھ جاری قانونی جنگ ہار جاتے ہیں اور عدالت انہیں ٹوئٹر خریدنے پر مجبور کرتی ہے اور انکار کی صورت میں جرمانہ ہوتا ہے تو انہیں اس وقت ہنگامی طور پر ٹیسلا کے حصص فروخت کرنے پڑیں گے۔ لہٰذا وہ احتیاطاً پہلے ہی حصص فروخت کرکے رقم محفوظ کر لیں۔

واضح رہے کہ ایلون مسک نے ٹوئٹر انتظامیہ کے ساتھ 44ارب ڈالر میں ٹوئٹر کو خریدنے کا معاہدہ کیا تھا تاہم بعد ازاں ایلان مسک نے ٹوئٹر انتظامیہ پر فیک اکاﺅنٹس کی تفصیلات مہیا نہ کرنے سمیت دیگر الزامات عائد کرتے ہوئے یہ معاہدہ توڑ ڈالا اور کہا کہ وہ اب ٹوئٹر نہیں خریدیں گے۔ اس پر ٹوئٹر انتظامیہ نے ان کے خلاف عدالت سے رجوع کر لیا تھا۔

مزید :

بین الاقوامی -