خاتون پر تشدد کے الزام میں گرفتار بی جے پی کے مبینہ ورکر کی اہلیہ بھی بول پڑی، پارٹی کو ہی رگڑ دیا

خاتون پر تشدد کے الزام میں گرفتار بی جے پی کے مبینہ ورکر کی اہلیہ بھی بول پڑی، ...
خاتون پر تشدد کے الزام میں گرفتار بی جے پی کے مبینہ ورکر کی اہلیہ بھی بول پڑی، پارٹی کو ہی رگڑ دیا
سورس: Screengrab

  

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) خاتون پر تشدد کے الزام میں گرفتار بھارتیہ جنتا پارٹی کے مبینہ ورکر کی اہلیہ بھی اس کی حمایت میں بول پڑیں اور اس معاملے میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے موقف کو جھوٹ قرار دے دیا۔انڈیا ٹوڈے کے مطابق وزیراعظم نریندر مودی کی سیاسی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایک مبینہ ورکر شری کانت تیاگی کو گزشتہ روز نوائیڈا میں ایک خاتون کو تشدد کا نشانہ بنانے کے الزا میں گرفتار کیا گیا تھا۔

شری کانت خود کو بھارتیہ جنتا پارٹی کا ورکر بتاتا ہے تاہم اس کی گرفتاری کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی کی طرف سے ردعمل سامنے آیا جس میں انہوں نے اسے اپنا ورکر ماننے سے انکار کر دیا۔ پارٹی کے اس موقف کے بعد تیاگی کی اہلیہ انو تیاگی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ تیاگی بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر تھے۔یہ سارا ڈرامہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن اسمبلی مہیش شرما کے ایماءپررچایا جا رہا ہے۔ مہیش شرما ہی کے ایما ءپر مجھے اور میری فیملی کے دیگر افراد کو بھی ہراساں کیا جا رہا ہے۔ 

 رپورٹ کے مطابق شری کانت تیاگی کو گرفتاری کے بعد جب پولیس عدالت لیجا رہی تھی، اس وقت میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اس نے کہا کہ ”میں اس واقعے پر ندامت کا اظہار کرتا ہوں۔ وہ خاتون میری بہنوں جیسی ہے۔ یہ واقعہ سیاسی بنیادوں پر اچھالا جا رہا ہے، جس کا مقصد میری سیاست کو ختم کرنا ہے۔ “

واضح رہے کہ تیاگی نے اس خاتون کو نوائیڈا کی ایک رہائشی عمارت میں تشدد کا نشانہ بنایا اور غلیظ گالیاں دیں۔تیاگی اس عمارت میں کچھ درخت لگا رہا تھا، جس کی خاتون نے مخالفت کی، کیونکہ وہاں شجرکاری کی اجازت نہیں تھی۔ اس پر تیاگی بھڑک اٹھا اور خاتون کو تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد وہاں سے فرار ہو گیا۔ اسے گزشتہ روز اترپردیش کے ضلع میرٹھ سے تین ساتھیوں سمیت گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا گیا تھا جہاں سے عدالت نے انہیں 14روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر بھیج دیا ہے۔ 

مزید :

بین الاقوامی -