وزیراعظم یوتھ لون پروگرام: زرخیزی آسان نہیں

وزیراعظم یوتھ لون پروگرام: زرخیزی آسان نہیں
وزیراعظم یوتھ لون پروگرام: زرخیزی آسان نہیں

  

90کی دہائی میں نصف درجن کے لگ بھگ ایشیائی ممالک کی معجزاتی معاشی ترقی کا بہت شہرہ تھا۔جنوبی کوریا، ہانگ کانگ، سنگاپور،تائیوان، انہیں معاشی ٹائیگر کے نام سے جانا گیا۔ان کی پے درپے معاشی اور صنعتی ترقی کو معاشی معجزہ مانا گیا۔ان ممالک کے نقش قدم پر ملائیشیا، تھائی لینڈ، انڈونیشیا اور چین نے بھی تیزی سے قدم بڑھائے۔میڈیا، رسائل اور کتب میں ان ایشیائی ملکوں کی ہوش ربا ترقی کی داستانیں غالب تھیں، جو سرمایہ کار، صنعت کار ترقی کی ان منزلوں کے سرخیل تھے، ان کی شخصیات دیومالائی حیثیت اختیار کر گئیں۔ان کی ذات کے گوشے گوشے کو فلم نگری کے ہیرو کی طرح پڑھا اور دیکھا جانا کروڑوں لوگوں کے لئے ہمت اور ولولے کا باعث تھا۔

معجزوں کے اس سفر کو 1997ءکے کرنسی بحران نے شدید ٹھوکر لگائی۔چند ہفتے قبل تک اکیسویں صدی کو ایشیاکی صدی قرار دینے والے اور مغرب کے پیچھے رہ جانے پر آنسو بہانے والے دانشوروں نے دل کھول کر معاشی اور صنعتی ترقی کے اس بلبلے کے پھٹنے میں مغرب کی دیرپا آسودگی اور دانش کی بجھتی شمع دوبارہ روشن ہونے کی پیشن گوئیاں شروع کردیں، لیکن پھر ایک معجزہ ہوگیا۔آئی ایم ایف کی تاریخ کا سب سے بڑا 57ارب ڈالر کا قرض پیکیج لینے پر مجبور جنوبی کوریا نے ایک سال کے اندر اپنے بیرونی تجارتی خسارے کو فاضل تجارتی بیلنس میں تبدیل کرلیا۔تین سال مکمل ہونے سے قبل جنوبی کوریا نے آئی ایم ایف پروگرام کو کامیابی سے خداحافظ کہہ دیا۔جنوبی کوریا کی صنعتی ترقی پھر سے اپنے سفر پر گامزن تھی۔برآمدات میں دھڑا دھڑ اضافہ ہو رہا تھا اور زرمبادلہ کے ذخائر ایک بار پھر ”دن دگنی اور رات چوگنی“ رفتار سے بڑھنے لگے۔انہی دنوں ہانگ کانگ کو تمام تر حیلے سازیوں کے باوجود برطانیہ کو دو سو سالہ معاہدہ ختم ہونے پر چین کے حوالے کرنا پڑا۔برطانوی میڈیا تو اپنی جگہ، دیگر مغربی میڈیا بھی اس غم میں دبلا ہو رہا تھا اور بات بے بات آنسو بہا رہا تھا کہ ہانگ کانگ میں طلسماتی معاشی ترقی صرف اور صرف گوری چمڑی کی ذہانت اور محنت کا کرشمہ تھی۔چین کے ہاتھ آتے ہی ہانگ کانگ برف کے گولے کی طرح پگھل جائے گا، لیکن آنے والے سالوں نے کچھ اور ہی ثابت کیا۔ ہانگ کانگ نہ صرف مسلسل پھلا پھولا،بلکہ چین کی صنعتی ترقی اور عالمی تجارت کا ”بہشتی دروازہ“ ثابت ہوا۔

ان تمام ایشائی ملکوں کی حیرت انگیز ترقی اور 1990ءکے بحران سے لڑکھڑا کر تازہ دم ہو کر سفر جاری رکھنے میں ان ممالک میں مختلف عوامل کارفرما رہے ہیں۔حکومتوں کی جانب سے حوصلہ افزائی، معاون پالیسیاں، انفراسٹرکچر، تعلیم اورٹیکنالوجی پر بھرپور توجہ اور اپنے صنعتی و تجارتی سرمایہ کاروں پر بھرپور اعتماد تھا۔ان ممالک کی ترقی میں ایک مشترک وصف کاروباری ادارہ سازی Enterpreneurship دیکھا گیا۔حکومتوں نے کاروبار کے لئے موافق ماحول فراہم کیا، نجی شعبے کی دامے درمے مدد کی، رہنمائی فراہم کی، لیکن معاشی و صنعتی ترقی کا کام نجی شعبے کے سرمایہ کاروں نے کیا۔ان سرمایہ کاروں میں سے بیشتر غربت کی صفیں چیر کر نکلے تھے۔اکثر سکول اور یونیورسٹی کی تعلیم بھی مکمل نہ کر پائے،لیکن انہوں نے اتنے بڑے بڑے کاروباری ادارے بنائے کہ اپنے اپنے ملکوں کی تقدیر بدل کر رکھ دی۔ان کی کامیابی کی کنجی کی پہچان کاروباری ادارہ سازی کا ہنر تھا،یعنیEnterpreneurship۔

1928ءمیں ایک سکول ٹیچر کے ہاں آنکھ کھولنے والا لی کاشنگ بارہ سال کی عمر میں اپنے خاندان کے ہمراہ چین میں کمیونزم کے لئے جاری کشمکش سے جان چھڑا کر ہانگ کانگ وارد ہوا۔تیرہ سال کی عمر میں والد کے انتقال کے بعد سکول چھوڑ کر ملازمت شروع کرنا پڑی۔سوچ، محنت اور مقدر کا امتزاج قبولیت کی گھڑیوں کو پسند آتا گیا۔ایک پلاسٹک پھول بنانے والی کمپنی میں ملازمت کرنے والا نوجوان بالآخر ایسی ہی ایک فیکٹری کا مالک بنا۔کچھ عرصے بعد رئیل اسٹیٹ میں حادثاً قدم رکھا تو خوش قسمتی نے قدم چومنا نہ چھوڑا۔ہانگ کانگ میں سب سے بڑا رئیل اسٹیٹ کا مالک ہوا۔ ہانگ کانگ کی ایک بندرگاہ کا مالک بنا رہا، ہانگ کانگ الیکٹرک کمپنی کا مالک ہوا۔فون کمپنی کا مالک ہوا۔ایشیا کا پہلا میڈیا سیٹلائٹ خریدا۔ چین میں اپنی آبائی ریاست میں بندرگاہیں اور سڑکیں بنانے کی ذمہ داری اٹھائی۔دو رئیل نیٹ ورک بنائے، چند سال قبل حالت یہ تھی کہ مشہور تھا کہ ہانگ کانگ میں خرچ ہونے والے ہر ڈالر میں سے دس فیصد سے زائد لی کاشنگ کے کاروبار کے ذریعے ہی گردش میں رہتا ہے۔ایک شخص نے ملک کی تقدیر بدلنے میں کلیدی کردار ادا کیا، جس کا وصف کاروباری ادارہ سازی کا ہنر تھا۔

کاروباری ادارہ سازی کا ہنر بہت کمیاب ہے۔ گو یونیورسٹیوں میں یہ مضمون خوب پڑھایا جاتا ہے۔میڈیا، رسائل، کتابوں اور ٹریننگ پر ایک عالم ہے جوEnterpreneurshipکے لئے مخصوص ہے، لیکن اس کے باوجود یہ کمیاب صنف آج بھی کمیاب ہے۔سٹیو جابس، رچرڈ برنین، دھیروبھائی امبانی، حاجی بشیر احمد (ستارہ گروپ) اور پاکستان کے سب سے بڑے میڈیا گروپ کے بانی میر خلیل الرحمن۔ یہ اور ان جیسے سینکڑوں لوگ جنہوں نے کاروباری ادارے کھڑے کئے، بیشتر نے نامساعدحالات میں تنکا تنکا جمع کرکے کاروبار چلائے۔آج بھی یونیورسٹیوں میں لاکھوں طلباءیہ ہنر سیکھنے کے طالب ہیں، لیکن یہ جنس نایاب تھی اور آج بھی ہے۔

پاکستان کی صنعتی اور معاشی ترقی میں ”قومی سلامتی“ کی دیواریں اس تواتر سے پھیلیں کہ دھیرے دھیرے صنعتی ترقی اور تجارتی سرگرمیاں کونوں کھدروں میں سمٹتی چلی گئیں۔حکومتی پالیسیوں میں معیشت اور صنعت کو ترجیح خیرات کے طور پر ہی ملی۔مالی وسائل پہلے سرکاری بنکوں کی شکل میں ”پیا“ کے چاہنے پر منحصر تھے اور بعدازاں نجی شعبے کے کایاں بینک کاروں کے ہاتھ میں جو پیسہ صرف وہیں سے کمانے میں یکتا ہیں، جہاں رسک نہ ہو۔نئے سرمایہ کاروں کے لئے اسپیڈ بریکرز کی کمی ان بنک کاروں کے ہاں کم تھی نہ حکومتی سطح پر۔نتیجہ یہ ہے کہ عالمی سطح کے پاکستانی کاروباری سرمایہ کاروں کی گنتی کریں تو شرمندگی سنگل Digitختم ہونے سے پہلے ہی غالب آ جاتی ہے۔

وزیراعظم نے گزشتہ ہفتے نوجوانوں کے لئے قرض سکیم شروع کی ہے۔شان و شوکت اور گھن گرج سے شروع کی جانے والی یہ سکیم ان کے دل کے کس قدر قریب ہے،اس کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ اس سکیم کی سربراہ ان کی صاحب زادی مریم نواز ہیں اور تعارفی تقریب میں ان کے داہنے جانب اسحاق ڈار کرسی نشیں تھے۔ابتداً ایک سو ارب روپے رواں مالی سال میں قرضوں کے لئے مختص کئے گئے۔کاروبار کے لئے نوجوانوں کو صرف دس فیصد کا حصہ ڈالنا ہے۔قرض کی واپسی آٹھ سال میں ہو سکتی ہے۔تقریباً نصف مارک اپ حکومت نے اپنے ذمے لیا۔نوجوانوں کی رہنمائی کے لئے سمیڈا نے 55کے لگ بھگ کاروباری منصوبوں کا خاکہ تیار کیا ہے۔سکیم میں 50فیصد قرضے خواتین کے لئے مختص ہیں۔امسال ایک لاکھ سے بھی زائد قرضوں کا ہدف ہے۔اللہ کرے یہ منصوبہ کامیابی سے ہمکنار ہو۔گزشتہ پانچ چھ سال سے سکڑتی ہوئی سرمایہ کاری نے ملکی معیشت پر جمود طاری کردیا ہے۔آبادی کے اضافے کے لگ بھگ معیشت کی شرح نمو ہے، یعنی تقریباً نہ ہونے کے برابر۔ہم گزشتہ کالم میں یہ ذکرکر چکے کہ سرمایہ کاری میں حائل رکاوٹیں دور ہوں گی تو سرمایہ کاری کو پھر سے فروغ حاصل ہوگا، ورنہ یہ سفر رائیگانی کی دھول سے جان نہ چھڑا پائے گا۔

چھوٹے اور درمیانے کاروبار کا حصہ معیشت میں 30فیصد ہے،جبکہ صنعتی و تجارتی افرادی قوت میں اس شعبے کا حصہ 70فیصد ہے۔بنکوں کے قرضوں میں اس شعبے کا حصہ 2007ءمیں صرف 16فیصد تھا، جو گزشتہ سال گھٹ کر فقط 8فیصد رہ گیا ہے۔سٹیٹ بینک کے اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ چار سال سے مسلسل SMEقرضوں کی مانگ میں کمی ہو رہی ہے۔سٹیٹ بینک نے بنکوں کے ساتھ مل کر بہتیرا سر مارا ہے، لیکن یہ رجحان جوں کا توں ہے۔گزشتہ چند سالوں میں مائیکرو فنانس اداروں کا ایک جال بچھ گیا ہے۔نتیجہ یہ ہے کہ SME شعبے کے لئے مالی وسائل کے لئے بہتیرے ادارے موجود ہیں، لیکن SMEسیکٹر میں حسب خواہش نمو نہیں ہو پا رہی۔ کراچی سٹاک ایکسچینج میں سہولت کے باوجود سمال کمپنی کاﺅنٹر خالی پڑا ہے۔

وزیراعظم کا یوتھ لون پروگرام اپنی جگہ درست قدم ہے۔خدا کرے کامیاب ہو۔ایک ہی دن میں 11ہزار افراد نے فارم ڈاﺅن لوڈ بھی کر لئے ہیں، لیکن ہمارا ماضی اور حال شاہدہیں کہ ایسی بہت سی صبحوں کا سویرا صبح صادق کی قبولیت کو نہ پہنچ سکا۔Enterpreneurshipکمیاب تھی ،ہے اور رہے گی۔معیشت میں خاطر خواہ مسلسل بڑھوتری، حکومتی پالیسیوں میں موافقانہ تسلسل ، مناسب انفراسٹرکچر اور برسوں کی ریاضت کی نمی سے یہی مٹی زرخیز ہو بھی سکتی ہے۔سو ضرورت نمی کے ان عوامل کی ہے۔ہو سکے تولگے ہاتھوں حکومت ان عوامل کا بھی کوئی ٹھوس بندوبست کردے۔شاید اسی طرح یہ پروگرام کامیابی کی منزل کا سراغ پانے میں کامیاب ہو سکے۔   ٭

مزید :

کالم -