ادائیگیاں نہ ہونے سے پی ایس اوکی مشکلات میں مزید اضافہ

ادائیگیاں نہ ہونے سے پی ایس اوکی مشکلات میں مزید اضافہ

کراچی(اکنامک)قومی فضائی کمپنی(پی آئی اے)سمیت دیگر اداروں کی جانب سے ادائیگیاں نہ ہونے اور ڈیزل کی کھپت کم ہونے سے پاکستان سٹیٹ آئل(پی ایس او)کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو رہا ہے،جبکہ ملک میں لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ مزید بڑھنے کا خدشہ بڑھا گیا ہے۔ ترجمان پی ایس او مریم شاہ کے مطابق تیل کمپنی کو فرنس آئل کی درآمد کے لئے کمپنی کو ایل سی کھولنے میں مشکلات درپیش ہیں،جن پر قابو پانے کے لیے پی ایس او نے حکومت سے ایک سو ارب روپے فوری طلب کر لئے ہیں۔ ادائیگیاں نہ ہونے کے سبب پہلے ہی کمپنی بینکوں سے قرض گیری کی حد کو استعمال کرچکا ہے جبکہ ڈیزل کی کھپت کم ہونے کی وجہ سے کمپنی کا کیش کاروبار بھی اثر انداز ہوا ہے جس کی وجہ سے مالی مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں۔۱ پی ایس او کی وصولیوں کا حجم دو سو بیس ارب کے لگ بھگ ہے جس کا ستر فیصد بجلی پیدا کرنے والے اداروں کے ذمہ ہے۔ ترجمان پی ایس او نے کہا کہ کمپنی کو ادائیگی نہ کی گئی تو فرنس آئل کی سپلائی متاثر ہوسکتی ہے۔ مریم شاہ نے کہا کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہونے کے پیش نظر پی ایس او نے اپنا سٹاک بھی کم رکھا ہوا ہے۔ واضح رہے کہ گیس کی قلت کے سبب ملک میں بجلی کی پیداوار کا بڑا انحصار فرنس آئل پر ہے ۔

مزید : کامرس