اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کی شامی حزب اختلاف کے رہنماؤں سے ملاقات

اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کی شامی حزب اختلاف کے رہنماؤں سے ملاقات

 نیویارک(آن لائن)اقوام متحدہ کے شام کے لیے خصوصی ایلچی اسٹافن ڈی مستورا نے شامی حزب اختلاف کے بعض رہنماؤں سے ملاقات کی ہے اور ان سے حلب میں لڑائی \'\'منجمد\'\' کرنے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا ہے۔غیرملکی خبررساں ا دارے کے مطابق عالمی ایلچی کی ترجمان جولیٹ ٹوما نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ ترکی کے جنوبی شہر غازیان تیپ میں شام کے مسلح اور غیر مسلح گروپوں کے نمائندوں کے ساتھ حلب میں جنگ بندی کے لیے بات چیت شروع کی گئی ہے۔غازیان تیپ سخت سکیورٹی میں اقوام متحدہ کے ایلچی اور شامی حزب اختلاف کے نمائندوں کے درمیان بات چیت ہورہی ہے۔باغیوں کی نمائندگی انقلابی کمان کونسل کے سربراہ قیس شیخ کررہے ہیں۔ان پر حلب سے تعلق رکھنے والے تمام گروپوں نے اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ انقلابی کمان کونسل میں شام کے مختلف باغی دھڑے اور اعتدال پسند اسلامی گروپ شامل ہیں۔کونسل کے ایگزیکٹو بیورو کے سربراہ صبحی الرفاعی نے کہا ہے کہ \'\'ہم یہاں تبادلہ خیال اور مشاورت کررہے ہیں لیکن ہم یہاں فیصلے نہیں کریں گے بلکہ کونسل کے تمام ارکان سے مشاورت کے بعد کوئی فیصلہ کریں گے اور دیکھیں گے کہ انقلاب کے مفاد میں کیا ہے۔ مستورا نے قبل ازیں اکتوبر میں حلب میں جنگ بندی کے لیے اپنا مجوزہ منصوبہ پیش کیا تھا تاکہ خانہ جنگی کا شکار اس شہر میں متاثرین کو امدادی سامان پہنچایا جاسکے۔شامی حکومت اس تجویز کے ردعمل میں یہ کَہ چکی ہے کہ وہ اس کا جائزہ لے گی۔شامی صدر بشارالاسد کے حامی ایک روزنامے الوطن نے اپنی ایک اشاعت میں لکھا ہے کہ حکومت صرف حلب کی حد تک جنگ بندی چاہتی ہے جبکہ باغی اس کی ترکی کے ساتھ واقع سرحدی گذرگاہ باب الحوا تک توسیع چاہتے ہیں۔جولیٹ ٹوما نے اس رپورٹ پر کوئی تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اس منصوبے پر ابھی بات چیت جاری ہے اور ہم فی الوقت یہ نہیں جانتے ہیں کہ اس کی سرحدیں کیا ہوں گی۔واضح رہے کہ حلب 2012ء4 میں شامی فوج اور باغیوں کے درمیان لڑائی چھڑنے کے بعد سے دو حصوں میں منقسم ہوچکا ہے۔شامی فوج کا شہر کے مغربی حصے پر کنٹرول ہے۔

مزید : عالمی منظر