بھارتی ریاستوں میں کشمیری طلبا غیر محفوظ ہو گئے ہیں حریت رہنماوں کی تشویش

بھارتی ریاستوں میں کشمیری طلبا غیر محفوظ ہو گئے ہیں حریت رہنماوں کی تشویش

 سرینگر(کے پی آئی)مختلف حریت پسند سیاسی و مذہبی تنظیموں نے ہریانہ میں کشمیری طلبا پر ہوئے حملے کی مذمت کرتے ہوئے بھارت سے ایسے غنڈوں کو قابو کرنے پر زور دیا ہے جو کشمیریوں کو بیرون ریاست حملوں کا شکار بنا رہے ہیں ۔ترجمان نے کشمیر سے باہر بھارت کی مختلف ریاستوں میں زیر تعلیم کشمیری طلبا اور تاجر پیشہ افراد کی زندگیوں کو شدت پسند عناصر کی طرف سے لاحق خطرات اور آئے روز ان عناصر کی طرف سے کشمیریوں پر جان لیو ا حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہریانہ کے ایک پیشہ ور کالج میں زیر تعلیم طلبا کو جس طرح بلا وجہ تشدد کا نشانہ بنا کر ان کی زندگیوں سے کھلواڑ کرنے کی کوشش کی گئی ہے وہ حد درجہ قابل تشویش ہے۔  ترجمان نے کہا کہ کشمیریوں پر اس سے پہلے بھی مختلف مقامات پر جان لیوا حملہ کئے گئے اور ان حملوں میں گزشتہ کئی برسوں کے دوران کئی افراد کو ہلاک بھی کیا گیا ہے اوراس ضمن میں ان ریاستوں کی حکومتیں اور حکومت ہندوستان کلی طور کشمیریوں کو تحافظ فراہم کرنے میں ناکام رہی ہی۔ ترجمان نے کشمیری طلبا اور تجارت پیشہ سے وابستہ افراد کے تحفظ کی ذمہ داری ان ریاستوں کی حکومتوں اور خود حکومت ہندوستان پر عائد ہوتی ہے اور ان انسانیت سو ز واقعات کے حوالے سے کشمیری قوم کسی بھی طور لاتعلق یا خاموش نہیں رہ سکتی۔ادھرحریت( جے کے) نے بیرون وادی دیگر ریاستوں میں زیر تعلیم نوجوانوں کے خلاف فرقہ پرست جنونیوں کی جانب سے انہیں مارپیٹ کرنے اور دھمکانے کی کاروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسی طرح کے ایک اور واقعہ میں یمنا نگر ہریانہ کے ایک انجنئیرنگ کالج میں طلبا کو مقامی غنڈوں اور اسی دانش گاہ کے چندزیر تعلیم غنڈوں نے شدید مار پیٹ کی اور مقامی سطح کی پولیس نے کوئی کاروائی نہ کرکے جنونی کے ساجھے دار ہونے کا ثبوت پیش کیا۔ترجمان نے اپنے بیان میں اس بات پر دلی رنج و غم کا اظہار کیا کہ ریاستی انتظامیہ بیرون ریاست زیر تعلیم طلبا کے جان و مال کو محفوظ رکھنے میں بری طرح ناکام رہی ہے اورانھوں نے اس واقع کے خلاف ریاست کے طلبا کو اپنا احتجاج بلند کرنے کی اپیل دہرائی۔ لبریشن فرنٹ(آر) چیئرمین فاروق احمد ڈار( بٹہ کراٹی) نے جیل سے جاری کردہ ایک بیان میں ہریانہ میں کشمیری طلبہ کو تشدد کا شکار بنانے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوے کہا ہے کہ یہ اس نویت کا پہلا واقع نہیں ہے بلکہ اس سے پہلے بھی ایسے واقعات رونما ہوئے ہیں اور ہر بارکسی کے خلاف کوی کاروای نہیں کی جاتی۔ اس سے یہ بات بھی عیاں ہوجاتی ہے کہ کشمیریوں کے خلاف بھارت کے عوام کے دلوں میں کتنی نفرت رچی بسی ہی۔ یہ بات بھی ایک حقیقت ہے کہ بھارت کی ریاستوں سے لاکھوں لوگ کشمیر میں کام کرنے کے مقصد سے آتے ہیں اور آج تک کبھی ایسا دیکھنے کو نہیں ملا جہاں کسی غیر ریاستی مذدور کا طلبہ کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہو۔اس دوران جماعت اسلامی جموں و کشمیر نے ہریانہ کے ایک کالج میں کشمیری طلبہ پر ہندو فرقہ پرستوں کی جانب سے کیے گئے جان لیوا حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعات ثابت کرتے ہیں کہ ہندوستانی سماج میں فرقہ پرستی کا جنون اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ وہاں اب کشمیری طالب علم بھی محفوظ نہیں رہے ہیں۔ جماعت اسلامی جموں و کشمیر آئے روز گرفتاریوں اور بیرون ریاست کشمیری طلبہ کو ہراساں وپریشاں کرنے کے واقعات کی کڑی الفاظ میں مذمت کرتی ہے اور ایسے تمام واقعات پر فوری طور پر قدغن لگانے کی مانگ کرتی ہی۔جماعت عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں سے بھی اپیل کرتی ہے کہ وہ ریاست جموں وکشمیر میں ہورہی زیادتیوں اور ریاستی لوگوں کو بیرون ریاست ہراساں کرنے کے واقعات کا سنجیدہ نوٹس لیں۔اس دوران جموں وکشمیرکے مفتی اعظم و چیرمین مسلم پرسنل لا بورڈ جموں وکشمیر،مولنا مفتی محمد بشیرالدین احمد فاروقی نے زیر تعلیم کشمیری طالبعلموں پر ہریانہ کے ایک انجینئرنگ کالج کے چند جرائم پیشہ گنڈوں کا حملہ قابل مذمت ہی۔ مفتی اعظم نے اس حملہ کو ایک بزدلانہ حملہ قرار دیتے ہوئے ہندوستان کی.M کو ذاتی طور مداخلت کرنے کے لئے کہا ہی۔ مفتی اعظم نے کہا ہے کہ اس قسم کے واقعات کا پیش آنا روز مرہ مکروہ مناظر کا ایک عکس ہی۔ جو آئے دن کشمیری طلبا کی زندگی کے ساتھ رواں رکھا جارہا ہی۔ مفتی اعظم نے کہا کہ گذشتہ واقعات کے زخم ابھی مندمل نہیں ہوئے تھے کہ نت نئے زخم اتنے گہرے ہوتے جارہے ہیں کہ آخر کار یہ حالات کب پیچیدہ ہوجائینگے یہ سوالیہ نشان اٹھ کھڑا ہوتا ہے کہ بھارت جیسے عظیم جمہوریہ میں کیسے جرائم پیشہ لوگوں اور گنڈوں کو برداشت کیا جارہا ہی۔ اس وقت ہزاروں کی تعداد میں کشمیری طالبعلم بھارت کے مختلف شہروں کی مختلف تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ اور کئی تاجر طبقہ بھی اپنی تجارتی سرگرمیوں میں مصروف ہی۔ وہ کبھی کبھی تشدد کا شکار ہوتے ہی۔ اس کے خلا ف آواز اٹھی ہے ۔پھر دب جاتی ہی۔ مگر کوئی مثر کاروائی خومت کی طرف سے سامنے نہیں آئی ہی۔ مفتی اعظم نے کہا کہ اگر یہ تشدد آمیز سرگرمیاں بند نہیں کی گئی یا ان

مزید : عالمی منظر