مراعاتی پیکیج نہیں ‘کشمیری عوام کو حق دیا جائے حریت رہنماوں کا مطالبہ

مراعاتی پیکیج نہیں ‘کشمیری عوام کو حق دیا جائے حریت رہنماوں کا مطالبہ

سرینگر(کے پی آئی)سرینگر کی شیر کشمیر اسٹیڈیم میں بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کی تقریر پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے حریت رہنماوں اور تنظیموں نے کہاہے کہ مسئلہ کشمیر کو حل کئے بغیر کوئی اور چارہ نہیں ہے کیونکہ یہ مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہی حل کیا جاسکتا ہے ۔سید علی گیلانی ،میر واعظ عمر فاروق ،یاسین ملک، آسیہ اندرابی کے علاوہ دیگر مزاحمتی تنظیموں نے مودی کے بیان کو حقائق سے بعید قرار دیتے ہوئے انہیں ریاست جموں وکشمیر کے عوام کو اپنا سیاسی مستقبل طے کرنے کا موقع فراہم کرنے کی تلقین کی ۔حریت(گ) چئیرمین نے کہا 12لاکھ بندوقوں کے سائیے میں کشمیر کو یرغمال بناکر جموں سے کار سیوکوں اور چند مراعات یافتہ لوگوں کو چھاونی میں بند کرکے جلسہ کرنے سے جموں کشمیر کی متنازعہ حیثیت پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ گیلانی نے کہا جموں کشمیر کا مسئلہ تعمیر وترقی کا مسئلہ نہیں، مسئلہ کشمیر کو تعلیم وترقی، پشمینہ اور زعفران کے کاروبار کو فروغ دینے سے نہیں جوڑا جاسکتا ہی۔ مسئلہ کشمیر ایک کروڑ تیس لاکھ لوگوں کے مستقبل کا مسئلہ ہی۔ انہوں نے کہا بھارت کے وزیر اعظم کو مسئلہ کشمیر کو غلط تناظر میں پیش کرکے کچھ حاصل نہیں ہونے والا ہی۔ انہوں نے کہا جھیل ڈل اور ٹورازم کی شان رفتہ بحال کرنے سے جموں کشمیر کا مسئلہ ختم نہیں ہوگا۔ جھیل ڈل سے انسانی خون کے پھوارے پھوٹ رہے ہیں۔ بھارتی فوجوں نے لاتعداد کشمیریوں کی لاشوں کو پانی برد کرکے یہاں کا پانی بھی خون آلودہ بنادیا ہی۔ سیاحتی مقامات پر لاکھوں فوجوں کا قبضہ ہی۔ مسئلہ کشمیر کو تعمیر وترقی کے ساتھ جوڑنے سے آزادی کے مطالبے سے دستبردار نہیں ہواجائے گا۔

گیلانی نے کہا بھارتی وزیر اعظم کے جمہوریت کے دعوں کو گمراہ کن پروگینڈہ قرار دے کر کہا بھارت ہی نے جمہوریت کا گلا گھونٹ لیا ہی۔ بھارت جمہوریت کے بجائے فوجی طاقت پر انحصار کررہا ہی۔ اگر بھارت کو جمہوریت پر یقین ہوتا تو وہ جموں کشمیر کے ایک کروڑ تیس لاکھ لوگوں کا حقِ جمہوریت کو طاقت کی بنیاد پر سلب نہیں کرتا۔ انہوں نے کہا یہاں کے وسائل آبی ذخائر، جنگلات، سیاحت اور بجلی کے لوٹ کھسوٹ کے باوجود جموں کشمیر ہندوستان کی باقی ریاستوں کے مقابلے میں خود کفیل ہی۔ بھارت کی ریاستوں میں لوگ پٹریوں پر سوتے ہیں۔ کوڑے دانوں سے کھانے کی چیزیں تلاش کرتے ہیں، مگر جموں کشمیر کے لوگ بھارت کی اقتصادی ناکہ بندی کے باوجود خوشحال ہیں۔ ہمارا مسئلہ کوئی اقتصادی پیکیج کا مسئلہ نہیں ہی، بلکہ ایک انسانی مسئلہ ہی۔ گیلانی نے کہا بھارتی وزیر اعظم کا یہ کہنا کہ واجپائی کے سپنے کو آگے بڑھایا جائے گا۔ واجپائی کے انسانی دائرے میں مسئلہ کو حل کی طرف بڑھایا جائے گا۔انہوں نے کہا واجپائی کے سپنے کیا تھے اور اگر انسانی دائرے میں مسئلہ کشمیر کو حل کرنا واجپائی کا سپنا تھا تو بھارت کے موجودہ وزیر اعظم کو پشمینہ، زعفران، تعلیم، جھیل ڈل اور ٹورازم کی ترقی کے بجائے مسئلہ کشمیر کو متنازعہ قرار دے کر اس کے پرامن حل کے راہیں تلاش کرنے کا اعلان کرنا چاہیے۔ جموں کشمیر کے ایک کروڑ تیس لاکھ لوگوں کا مستقبل بندوقوں کے سہارے طے نہیں ہوسکتا ہی، بلکہ جموں کشمیر کے متنازعہ مسئلے کو اس کے تایخی پسِ منظر میں دیکھ کر حل کرنے کی ضرورت ہی۔ گیلانی صاحب نے کہا ہم جنگ کے خلاف ہیں، کیونکہ جنگ اور طاقت کا استعمال کرنے سے کروڑوں انسان آن کی آن میں راکھ کے ڈھیر بن جائیں گی۔ بھارت اور پاکستان اگر اب جنگ کے میدان میں آگئے تو یہ جنگ روائتی ہتھیاروں سے بڑھ کر ایٹمی جنگ ہوگی جس سے نہ انسانیت کا کوئی بھلا ہوگا نہ بھارت اور پاکستان کا بھلا ہوگا۔ انہوں نے کہا جموں کشمیر کے عوام فطرتا امن پسند ہیں۔ ہمیں بھارت کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں ہی۔ ہم بھارت کی ترقی اور خوشحالی کے خلاف نہیں ہیں۔ ہم بھارت سے صرف اپنا چھینا ہوا حق( آزادی) مانگتے ہیں اور بھارت کو ہماری آزادی چھیننے کا کوئی اخلاقی یا آئینی حق نہیں ہے اور بھارت جموں کشمیر کے عوام کو اگر سونے کے گھر بھی تعمیر کرکے دے گا تو یہ آزادی کا نعم البدل نہیں ہوگا۔ حریت(ع) چئیرمین میرواعظ نے کہا کہ بھارت کے وزیر اعظم کا یہ بیان کہ کشمیر تعمیر و ترقی، معاشی خوشحالی اور انتظامی مسئلہ ہے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اس بیان کو مسئلہ کشمیر سے جڑے سیاسی ،تاریخی حقائق سے چشم پوشی کے متردادف قرار دیا ہی۔ترجمان نے کہا کہ کل جماعتی حریت کانفرنس بارہا اس موقف کو واضح کرچکی ہے کہ مسئلہ کشمیر کوئی معاشی یا اقتصادی مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ سوا کروڑ کشمیریوں کے سیاسی مستقبل کے تعین کا مسئلہ ہے اور اس مسئلہ کو مفادات یا مراعات کی عینک سے دیکھنے کے بجائے صرف اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل آوری یا مسئلہ سے جڑے تینوں فریقوں کے درمیان بامعنی مذاکراتی عمل سے حل کیا جاسکتا ہی۔میرواعظ نے کشمیر میں انتخابی عمل کے تیسرے مرحلے پر دسمبر014 کو ان تمام اضلاع میں مکمل ہڑتال کی اپیل کی ہے جن میں اس دن انتخابی عمل کا ڈرامہ رچایا جارہا ہے ۔ دریں اثنا لبریشن فرنٹ چیئرمیننے کہا کہ دہلی،پنجاب اور جموں سے گاڑیاں بھر بھر کے لوگون کو لاکر سرینگر میں جمع کرنا ،انہیں فرن پہنا کر کشمیری گرداننا اور خود فرن لگاکر کشمیریت کا ڈھنڈورا پیٹنا کوئی معنی نہیں رکھتا ہی۔ ا نہوں نے کہا کہ ایک ایسی قوم جس کے لاکھوں انسانوں کو بھارت کی فوج کے جبر اور ظلم کی وجہ سے جانوں سے ہاتھ دھونا پڑا ہے کو فرن لگاکر اور تعمیر و ترقی کے وعدے دے کر بے وقوف بنانا ناممکن ہی۔ جموں کشمیر ایک دیرینہ متنازعہ مسئلہ ہے جسے حل کئے بنا امن و استحکام ،تعمیر و ترقی اور نشونما کے خواب دیکھنا فضول مشق ہی۔انہو ں نے کہا کہ بھارت اور پاکستان کو کشمیر کے حوالے سے کشمیریوں کے مالکانہ حق اور بنیادی فریقانہ حیثیت قبول کرتے ہوئی کشمیریوں کی عملی شرکت کے ذریعے اس مسئلے کا حل تلاش کرنا ہی پڑے گا جو کشمیریوں کی مرضی،خواہشات و احساسات کے عین مطابق ہو کیونکہ اس کے بغیر برصغیر خاص طور پر بھارت، پاکستان اور جموں کشمیر میں امن و استحکام،تعمیر و ترقی اور نشونما کے خواب دیکھنا ہی فضول اور عبث ہی۔دختران ملت کی سربراہ آسیہ اندرابی نے کہاہے کہ مودی کے فرن پہننے سے اس کا ماضی چھپ نہیں سکتا۔ اورہر کشمیری اس کی اصل سے بخوبی واقف ہی۔ انہوں نے کشمیر کے ہند نواز سیاست دانوں کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے ضمیر میں جھانکیں ۔اگر گیلانی صاحب کسی جگہ اچانک رک جاتے ہیں وہاں اس سے زیادہ لوگ جمع ہوجاتے ہیں اور ان افراد کو نہ تو نوکری کی لالچ ہوتی ہے اور نہ ہی پیسوں کی۔انہوں نے پلوامہ بڈگام اور بارہمولہ کے عوام سے الیکشن کے مکمل بائیکاٹ کی اپیل کرتے ہوئے فقیدالمثال ہڑتال کرنے کی اپیل کی۔

مزید : عالمی منظر