....... اور اب گیس کی لوڈ شیڈنگ

....... اور اب گیس کی لوڈ شیڈنگ
....... اور اب گیس کی لوڈ شیڈنگ

  

سوئی کے مقام سے دریافت ہونے والی قدرتی گیس کا نام ہی سوئی گیس رکھ دیا گیا۔وہ 1963ء میں پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی تھی ،جسے 1964ء میں پبلک لمیٹڈ کمپنی میں تبدیل کر دیا گیا۔ شروع شروع میں سوئی گیس کا کنکشن لینے سے لوگ کتراتے رہے، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ سوئی گیس کا استفادہ دیکھ کر لوگوں کا رجحان اس طرف ہو گیا۔ انڈسٹری نے اس کی طرف مائل ہو کر دن دگنی رات چوگنی ترقی کی۔اس طرح سوئی گیس کا نیٹ ورک پھیلتا گیا۔ساٹھ ، سترّ کی دہائی میں اخبار ہی انفرمیشن کا مین سورس تھا۔ اخبار کی ہیڈ لائن تھی : ’’سوئی کے مقام سے قدرتی گیس کا ذخیرہ نکلا ہے جو پچاس سال کی ضروریات پوری کرنے کے لئے کافی ہے‘‘۔پرویز مشرف دور میں ایک نئی انڈسٹری متعارف کرائی گئی، جس کا نام سی۔این۔جی تھا۔ اسے سستے فیول کے طور پر متعارف کرایا گیا، لیکن اُس وقت کی پنجاب حکومت نے لائسنس دینے میں بڑے پیمانے پر کرپشن کی۔ اس کی واضح مثال یہ ہے کہ ملک بھر میں 3100سی ۔ این۔ جی اسٹیشنوں میں سے 2300پنجاب میں ہیں۔اوگرا کا قانون تھا۔ دو کلومیٹر کے اندر دوسرا سی۔این۔جی اسٹیشن نہیں لگے گا، لیکن ہم قانون بناتے ہی اسی لئے ہیں کہ اسے توڑا جا سکے ۔ جیسے کرکٹ کے ریکارڈ ٹوٹنے ہی کے لئے بنتے ہیں۔ اس میں بیورو کریٹ ، سیاستدانوں ، ان کے رشتہ داروں ، ایم ۔ این ۔ ایز، ایم ۔پی ۔ ایز اور سرکاری افسران نے بڑھ چڑھ کر کرپشن کی اور سی ۔ این ۔جی سٹیشن کے لائسنس لئے۔

بڑی انڈسٹریوں، جس میں سیمنٹ فیکٹریاں، ٹیکسٹائل انڈسٹری ، سرامک انڈسٹری ،لوہا انڈسٹری اور نوری مخلوق ،جو اس ملک پر حکمران ہے۔ اِن سب نے مل کر گیس چوری کرنے کے مختلف طریقے ایجاد کئے اور ملک کے اس قدرتی ذریعے کو تباہ کر دیا۔ 2010ء سے پہلے گیس چوری روکنے کا خاطر خواہ قانون ہی نہیں تھا۔ پیپلز پارٹی کی حکومت نے گیس چوری روکنے کے لئے قانون سازی کی اور اس پر سزا اور بڑے پیمانے پر جرمانے رکھے۔پھر چوری پکڑنے والوں کی باری آئی۔ چوری پکڑنے والوں اور اس کی تفتیش کرنے میں لوگوں نے خوب مال بنایا۔ چھوٹے چوروں کو پکڑ لیا جاتا ہے اور بڑے چوروں کو کھلی چھٹی دے دی جاتی ہے۔چوری کی ایک اور تکنیک پچھلے 5سالوں میں سی۔این۔جی اسٹیشنوں پر دیکھی گئی۔ 10فیصد سے لے کر 40فیصد تک کیش بیک کی آفرز کا لگے ہوناتھا۔ کمپنی کے 1فیصد کا مطلب تقریباً ایک ارب روپیہ اور شہروں میں 1فیصد کا مطلب تقریباً ایک کروڑ روپیہ ہے۔

گوجرانوالہ ریجن میں 2010ء میں UFG 25%تھی یہ اب تک چوری یا لیکیج ہونے والی سب سے زیادہ UFGہے، لیکن اگست 2014ء میں یہ UFG کم ہو کر 12.05پر آگئی۔ جس میں محکمہ کے چند ایماندار افسران نے گوجرانوالہ ریجن میں گیس چوری کے خلاف زبردست مہم چلائی، لیکن ان محنتی افسران کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑا۔پھرسوئی گیس محکمہ کے ایم۔ڈی عارف حمید نے ان افسران کی حوصلہ افزائی کی اور چوروں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جس سے محکمہ سوئی گیس کو چار سالوں میں تقریباً 6000کروڑ کا فائدہ ہوا۔گوجرانوالہ ریجن میں سوئی گیس کے کم پریشر کی وجہ سے صارفین کی مشکلات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ گیس کے بدترین بحران اور ایل۔پی۔جی کی قیمتوں میں اضافے نے صارفین کا جینا دوبھر کر دیا۔ سردی کی وجہ سے شاٹ فال میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ملک کا ٹوٹل شاٹ فال تقریباً 1ارب مکعب فٹ سے بھی زیادہ ہے۔گوجرانوالہ ریجن کا یومیہ شاٹ فال تقریباً 31ملین مکعب فٹ تک پہنچ گیا ہے اور خواتین کو امورِ خانہ داری کی انجام دہی کے لئے سخت دُشواری کا سامنا ہے۔

فیصل آباد گیس کی لوڈ شیڈنگ سے تنگ آئے مشتعل ہجوم نے مسلم لیگ (ن) کے ایم ۔این۔ اے اکرم انصاری کے گھر پر پتھراؤ کرنے کے ساتھ ساتھ انڈوں ، بوٹوں اور ڈنڈوں سے ہلہ بول دیا اور حکومت کے خلاف نعرے بازی بھی کی اور مؤقف اختیار کیا کہ ان کے گھروں میں گیس نہیں آتی۔ گیس نہ آنے کی شکایات کئی بار محکمہ سوئی گیس کے افسروں کو کی۔ لیکن ان کی سنی نہ گئی۔ گیس کے بحران میں بہت بڑا ہاتھ سیاستدانوں کا بھی ہے۔ ہمارے گاؤں، قصبوں اور شہروں میں گیس کنکشن پر سیاست ہوتی۔ ایم۔این۔ایز اور ایم ۔پی ۔ایز نے محکمے کو سنے بغیر بے شمار کنکشن ووٹ حاصل کرنے کے لئے جاری کرواتے ہیں اور کرپشن ٹاؤنوں اور کالونیوں میں گیس کنکشن دے کر لی۔ جس میں کروڑوں اور اربوں کمائے گئے۔وفاقی وزیر پٹرولیم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ بحران کی وجہ سے گھریلو صارفین کی طلب بھی پوری نہیں کی جاسکتی ۔ رواں موسم میں صنعتوں کو بھی چار ماہ کے لئے گیس فراہم نہیں کر سکتے،جس سے لاکھوں مزدوروں کو بے روزگاری اور فاقوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اس بحران پر قابو پانے کے لئے حکومت کی جانب سے کوئی ٹھوس اقدام ہوتا نظر نہیں آرہا۔ توقع تھی کہ ایران گیس پائپ لائن منصوبے کی تکمیل سے نہ صرف ایندھن کے طور پر استعمال کے لئے وافر گیس دستیاب ہو گی، بلکہ اس سے بجلی کی پیدا وار بڑھانے میں بھی خاصی مدد ملے گی، لیکن ایران پر امریکی اور مغربی ممالک کی طرف سے پابندیوں کی وجہ سے پاکستان اور ایران کے درمیان مجوزہ گیس پائپ لائن کے منصوبے پر عملدرآمد نہیں کیا جا سکتا۔ حکومت کی جانب سے اس منصوبے پر عمل درآمد کے حوالے سے بے بسی کا اظہار حیرت انگیز اور افسوسناک ہے۔ یہ ایسے وقت کیا گیا ہے ، جب ملک توانائی کے سنگین ترین بحران کا شکار ہے۔ گرمیوں میں بجلی نہیں ملتی، جبکہ سردیوں میں گیس کی قلت پیدا ہو جاتی ہے۔ جس کے باعث عوام احتجاج کناں رہتے ہیں۔ ضرور ت کے مطابق بجلی اور گیس نہ ہونے سے معیشت پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کے کھٹائی میں پڑ جانے سے اُمید مایوسی میں بدل گئی ہے۔اس فیصلے کے بعد یہ توقع رکھنا عبث ہے کہ اگلے ایک دو برسوں میں توانائی کے بحران کی شدت کچھ کم کی جا سکے گی۔ حکومت کا یہ فیصلہ گزشتہ دور حکومت میں کالا باغ ڈیم کے منصوبے کو ناقابل عمل قرار دینے کے فیصلے جیسا ہی ہے۔

پاک ایران گیس پائب لائن منصوبے کے ابتدائی خدوخال 1950ء کے عشرے میں سامنے آئے۔ 1989ء میں اس منصوبے کو عملی شکل دینے کا آغاز ہوا۔ 1994ء میں اس منصوبے پر دونوں حکومتوں کے مابین بات چیت کا آغاز ہوا۔ 1995ء میں ابتدائی معاہدے پر دستخط کئے گئے۔ 4دسمبر 2012ء کو اعلان کیا گیا کہ اگلے ماہ اس پروجیکٹ پر کام کا آغاز ہو جائے گا۔ جب کہ یہ 2014ء کے آخر تک مکمل ہو جائے گا۔اب صورت حال یہ ہے کہ ایران اس منصوبے پر اپنے حصے کا کام مکمل کر چکا ہے، لیکن پاکستان تاحال آغاز ہی نہیں کر سکا ۔ اب وزارتِ پٹرولیم کے اعلان سے ظاہر ہوتا ہے کہ منصوبہ مکمل نہیں ہو سکے گا۔ اس طرح پاکستانی عوام اقتصادی اہمیت و افادیت کے حامل منصوبے سے محروم ہو جائیں گے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اس فیصلے پر نظر ثانی کرے، کیونکہ توانائی کے بحران پر فوری طور پر قابو پانے کا اگر کوئی آسان ترین راستہ ہے تو وہ یہی منصوبہ ہے۔

مزید : کالم