غیر ملکی این جی اوز بلوچستان میں سرگرم

غیر ملکی این جی اوز بلوچستان میں سرگرم
غیر ملکی این جی اوز بلوچستان میں سرگرم

  

آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے خطے میں پائیدار امن، انتہاپسندی اور غیر ریاستی عناصر کی طرف سے لاحق خطرات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ غیر ملکی این جی اوز اور ملٹی نیشنل کمپنیاں ملکی سلامتی کو خطرے میں ڈالتی ہیں۔ غیر ریاستی عناصر ریاستوں کے لئے براہ راست خطرہ ہیں، ان پر قابو نہ پایاگیا تو صورت حال گھمبیر ہوسکتی ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ بعض این جی او، غیر سرکاری تنظیمیں جو غیر ملکی فنڈز کے زور پر چلتی ہیں بظاہر انسانی بہتری کے لئے کام کرتی ہیں لیکن ان میں سے بیشتر مختلف ملکوں میں اپنے سپانسرز کے مخصوص خفیہ ایجنڈے کی آلہ کار بنتی ہیں اس لئے ان سے چوکس رہنے کی ضرورت ہے۔پاکستان مخالف ممالک کے انٹیلی جنس اداروں نے براہ راست ایجنٹ بھیجنے یا بھرتی کرنے کی بجائے کنٹریکٹرز، این جی اوز اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ذریعے معلومات حاصل کرنے کا طریقہ اختیار کر رکھا ہے۔ بھارت نے اسلام آباد میں ایک بہت بڑا مرکز قائم کر رکھا ہے جس میں اعلیٰ عہدوں پر فائز لوگوں کے بچے آزادانہ ماحول میں ملتے ہیں۔یہ را کا اڈا بنا ہوا ہے لیکن چونکہ یہ این جی اوز کی آڑ میں کام کر رہا ہے لہذا اس کے خلاف کارروائی نہیں ہو پا رہی۔ غیر ملکی فنڈز سے چلنے والی کچھ این جی اوز سرحدی علاقوں ، فوجی چھاؤنیوں کے ارد گرد علاقوں ، شورش زدہ علاقوں میں ترقیاتی کاموں کی آڑ میں ڈیٹا اور دیگر معلومات روزانہ کی بنیاد پر ملنے والی خبریں اکٹھی کر کے اپنے ڈونر ملک کو بھیجتی ہیں۔ ان کا بنیادی مقصد صرف مخبری ہے۔ ایسی این جی اوز بلوچستان میں بڑی تعداد میں کام کر رہی ہیں ۔ یہ این جی اوز دہشت گردی میں معاونت بھی کرتی ہیں۔

آرمی چیف کی جانب سے این جی اوز اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کو ملکی سلامتی کے لئے خطرہ قرار دیئے جانے کے بعد ملکی سلامتی کے اداروں نے مشکوک کردار کی حامل این جی اوز اور غیر ملکی کمپنیوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے ساتھ ساتھ ان کا ریکارڈ بھی جمع کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس قسم کی خطرناک این جی اوز اور غیر ملکی کمپنیوں کے خلاف قانون سازی بھی جلد متوقع ہے۔ غیر ممالک یہاں (بلوچستان میں) پیسے دے رہے ہیں،این جی اوز کے ذریعے پیسہ آرہا ہے،جس کے باعث ریمنڈ ڈیوس جیسے ہزاروں کرائے کے قاتل یہاں موجود ہیں،وہ یہاں کیا کرتے ہیں حکومت کچھ پوچھ نہیں سکتی۔دہشت گردی کی کارروائیوں کے پیچھے غیر ملکی ہاتھ موجود ہے جو عالمی ایجنڈے کو پاکستان میں آگے بڑھا رہا ہے۔ ظاہر ہے یہ غیر ملکی ہاتھ بھارت اور اس کے سرپرست امریکہ کا ہے جو بلوچستان کی بدامنی کے ذریعے گوادر پورٹ کی چین کو منتقلی،گوادر سے چین تک نقل و حمل کے لئے وسیع شاہراہ کی تعمیر،ایران پاکستان گیس پائپ لائن جیسے منصوبوں کو مکمل ہوتا نہیں دیکھنا چاہتا۔ یہی نہیں اس کی خواہش یہ بھی ہے کہ خیبرپختون خوا اور کراچی میں بھی مستقل بدامنی رہے ،تاکہ پاکستان معاشی طور پر آئی ایم ایف کا دستِ نگر بن کر رہے اور عوام کے لئے دو وقت کی روٹی کا حصول اس قدر دوبھر کردیا جائے کہ وہ کسی اور جانب دیکھنے کے بھی قابل نہ رہیں۔

روس جیسا کمیونسٹ ملک ایک مسودہ قانون کے ذریعے بیرون ممالک سے فنڈنگ حاصل کرنے والی ایسی تنظیموں کو ’’غیر ملکی ایجنٹ‘،قرار دے چکا ہے ،جبکہ ماضی میں بھارت بھی روس سے ایٹمی تعاون کے خلاف احتجاج اور مظاہروں کے پیچھے متحرک چار غیر ملکی این جی اوز سمیت جن ستر سے زائد غیر سرکاری تنظیموں کو مشکوک قرار دے کر اپنی واچ لسٹ میں شامل کر چکا ہے اْن میں سے بیشتر کا تعلق امریکا اور یورپ سے ہے۔ اتفاق کی بات ہے کہ روس نے جب ایسی تنظیموں کو ایجنٹ قرار دیا تو اس پر سب سے زیادہ احتجاج بھی واشنگٹن اور یورپی یونین نے کیا۔

پاکستان میں رونما ہونے والی قدرتی آفات کے دوران مختلف ناموں اور طریقوں سے ملکی اور غیر ملکی این جی اوز تعلیمی اور امدادی کاموں کے نام پر ہر طرف پھیل چکی ہیں۔ بہت سی این جی اوز واقعتا مثالی کارکردگی دکھا رہی ہیں ،جبکہ بعض کی امدادی سرگرمیاں بظاہر درست ،مگر درپردہ عزائم اور کردار مشکوک ہے۔ یہ بات بھی پوشیدہ نہیں کہ زلزلہ اور سیلاب کے دوران منفی کردار کی حامل این جی اوز نہ صرف لوگوں کو عیسائی اور یہودی بنانے کے لئے امدادی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی رہیں ،بلکہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اسلام کے خلاف گھناؤنی سازش میں بھی مصروف رہیں۔ امریکی مصنفین ڈی بی گریڈی اور مارک ایمبنڈ بھی اپنی کتاب ’’دی کمانڈ، ڈیب انسائیڈ دی پریسیڈنٹس سیکرٹ آرمی‘‘میں اس راز سے پردہ اْٹھا چکے ہیں کہ امریکا نے آٹھ اکتوبر دو ہزار پانچ کے زلزلہ کے بعد افراتفری سے فائدہ اْٹھاتے ہوئے سی آئی اے کے درجنوں خفیہ ایجنٹ پاکستان بھیجے جنہوں نے بعد میں ایبٹ آباد آپریشن میں بھی حصہ لیا۔

ڈیموکریسی کے پھیلاؤ اور انسانی مقاصد کے حصول کے دعوے کی بنیاد پر تشکیل پانے والی این جی اوز اصل میں خارجہ پالیسیوں کے اجراء میں امریکی حکومت کا ایک ہتھکنڈہ ہیں۔ امریکا اس وقت دنیا میں اپنے سیاسی اہداف کے حصول کے لئے فوجی طاقت کے استعمال کے علاوہ این جی اوز کو بھی وسیع پیمانے پر استعمال کر رہا ہے۔ پاکستان کے قبائلی علاقوں، خیبرپختونخواہ، گلگت بلتستان اور بلوچستان میں بہت سی ایسی این جی اوز متحرک ہیں جو امریکی جاسوس ادارے سی آئی اے کی فرنٹ لائن تصور کی جاتی ہیں۔ ایسی این جی اوز کا کام بظاہر انسانی ترقی ہے، مگر پس پردہ یہ بیرون ممالک کی ایجنٹ ہوتی ہیں۔ ایبٹ آباد آپریشن کے فوری بعد بین الاقوامی این جی اوز سیو دی چلڈرن اور آئی میپ (انفارمیشن مینجمنٹ اینڈ مائن ایکشن پروگرام) کی پاکستان میں حساس سرگرمیوں اور موجودگی کو ملک کے لئے خطرناک قرار دیتے ہوئے پابندی عائد کر دی گئی تھی ،جبکہ سنجیدہ حلقے پاکستان میں یو ایس ایڈ کی سرگرمیوں کو بھی مشکوک گردانتے ہیں۔ ان حلقوں کے مطابق یہ بین الاقوامی ادارہ اخبارات اور ٹی وی چینلوں کی پالیسی اپنے حق میں تبدیل کرنے کے لئے اشتہارات کی مد میں خطیر رقم فراہم کر رہا ہے۔پاکستان کی بقاء کے لئے بھی یہ ضروری ہو گیا ہے کہ روس کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے ایسی تمام این جی اوز پر پابندی لگا دی جائے جو فلاحی کاموں کی آڑ میں جاسوس سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔

مزید : کالم