8دسمبر کا سانحہ اور میڈیا سے توقعات

8دسمبر کا سانحہ اور میڈیا سے توقعات
8دسمبر کا سانحہ اور میڈیا سے توقعات

  

8دسمبر 2014ء کو فیصل آباد میں جو کچھ ہوا، اس پر کسی تبصرے یا تجزیئے کا مزید ایک لفظ بھی کہنا یا لکھنا، طبعِ سلیم پر گراں گزرے گا، اس لئے مَیں قارئین کی دل گرفتگی اور افسردگی کا اعادہ نہیں کرنا چاہوں گا۔

اس کالم کے قارئین جانتے ہیں کہ مَیں ایک طویل عرصے سے ایسے موضوعات پر بہت کم لکھتا ہوں جن کا موضوع ملکی سیاسیات ہو یا ایسے موضوعات ہوں، جن کی تاریخی جگالی نہ کالم نگار کا صحافتی قد کاٹھ قارئین کی نظر میں اونچا کرتی ہو اور نہ ان کی ایجوکیشن اور انفارمیشن میں کوئی اضافہ کرتی ہو۔(ایجوکیشن سے میری مراد، آف کورس، اکیڈیمک ایجوکیشن نہیں)۔ مَیں کوشش میں رہتا ہوں کہ ایسا موضوع منتخب کروں جو عام روش سے ہٹ کرہو اور جس کو پڑھ کر قاری کی فکر کو انگیخت ہو۔

مقامی اور ملکی سیاسیات پر اس لئے نہیں لکھتا کہ ایک تو میری ذاتی تشفی نہیں ہوتی کہ مَیں نے کوئی نیا/ انوکھا کام کیا ہے اور دوسرے یہ کہ میرے نام کے ساتھ ایک فوجی رینک لگا ہوا ہے جو نام سے بھی پہلے آتا ہے۔ نام سے پہلے فوجی رینک لکھنے کی روائت انگریز کی وراثت نہیں، بلکہ عہد قدیم اور پھر اسلامی دور میں بھی نام بعد میں لکھا جاتا تھا اور رینک پہلے۔۔۔۔ ایک زمانہ تھا پاکستانی قوم اس رینک پر جان نچھاور کرتی تھی۔ میرے کئی دوست یہ سمجھتے ہیں کہ جب سے پاک فوج نے سیاست میں حصہ لینا شروع کیا ہے، اس کی عزت و تکریم میں کمی آنی شروع ہو گئی ہے۔میرے خیال میں ایسا نہیں ہے۔ ملک میں پہلا مارشل لاء اکتوبر1957ء میں لگا۔ اس کے8سال بعد1965ء کی پاک بھارت جنگ ہوئی۔ فوج کا امیج اس جنگ میں جس بلندی پر تھا، وہ مقام اس کو دوبارہ نصیب نہ ہو سکا۔اگر کسی فوجی ڈکٹیٹر کا سیاست میں قدم رکھنا، اس کی فوج کے لئے باعث ِ ننگ ہوتا تو1957ء سے 1965ء تک کے آٹھ برسوں میں فوج کا تشخص گہنا جانا چاہئے تھا، مگر ایسا نہیں ہوا۔وہ تو جب فوج نے اپنے مشرقی پاکستانی بھائیوں کی1965ء کی جنگ میں بیش قیمت عسکری کارکردگی کے باوجود ان کو وہ حقوق نہ دیئے جن کے وہ حق دار تھے تو بات بگڑنی شروع ہوئی اور1971ء کی شکست پر ختم ہوئی۔ ۔۔۔ تو ثابت ہوا کہ فوج کی توقیر میں کمی کا اصل سبب فوجی آمریت نہیں، عدل و انصاف کی عدم فراہمی ہے۔

1971ء کی جنگ43سال پہلے دسمبر کے انہی ایام میں لڑی گئی تھی اور آج تقریباً نصف صدی بعد ہم اسی طرح کے عارضے سے دوچار ہیں۔ فرق یہ ہے کہ 1971ء میں مشرقی پاکستان کی خانہ جنگی میں پاک فوج ایک فریق تھی اور اب2014ء میں الحمد للہ، فوج فریق نہیں،بلکہ سیاست دان ایک دوسرے کے در پے ہیں۔ ان میں کون راہِ راست پر ہے اور کون گمراہ ہے،اس پر لکھنا، ایک فوجی کے لئے اور بھی مشکل ہے۔ لوگوں کی زبانیں پکڑی نہیں جا سکتیں۔ لوگ سب سے پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ فلاں بات یا فلاں رائے کس شخص نے دی ہے اور جب معاملہ کسی لکھاری کے ساتھ فوجی رینک کا بھی ہو تو فوراً وہی کہا جاتا کہ اس کی بات چھوڑو کہ یہ فوجی یا تو عقل ہے پیدل ہوتے ہیں یا اپنے پیٹی بھائیوں کی طرف داری کرتے ہیں۔یعنی وہی بات کہ ’’کون کہہ رہا ہے‘‘، آ موختہ بنا لی جاتی ہے اور’’کیا کہہ رہا ہے‘‘ کو پسِ پشت ڈال دیا جاتا ہے۔ مقامی یا ملکی سیاست پر نہ لکھنے کی میری پہلی وجہ یہی ہے۔

اور دوسری وجہ یہ ہے کہ وہ طبقہ کہ جس کو درخواست کرنے، نصیحت کرنے اور سمجھانے کے لئے اگر کوئی کالم لکھا جائے اور اس کے پاس اسے دیکھنے کا وقت ہی نہ ہو (پڑھنے کی بات چھوڑ دیجئے) تو آپ کیوں لکھیں؟ اور کس کے لئے لکھیں؟۔۔۔ کوئی محترم لیکن غیر مقتدر قاری اگر آپ کی تحریر پڑھ بھی لے،اس کو رجسٹر بھی کر لے اور اس کی مداحی بھی کرے تو جنگل میں مور ناچا کس نے دیکھا والا معاملہ ہو جاتا ہے۔۔۔۔ اگر آپ کسی محبوبہ کے حسن کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملا دیں یا اس کے عشوہ و ناز و ادا میں بہتری لانے کے لئے اس کو کوئی تجویز دیں اور وہ خدا کی بندی اس سے بے خبر محض رہے تو آپ کو اس سع�ئ لاء حاصل کا کیا فائدہ ہو گا۔ اخبار کا کالم بالعموم صاحبانِ اقتدار کو آئنہ دکھانے کے لئے لکھا جاتا ہے لیکن اگر وہ لوگ اپنے آئنہ خانے میں بیٹھے آرائشِ جمال سے ہنوز فارغ نہ ہوں تو قلم فرسودگی کا فائدہ؟

اِن موضوعات پر کالم نگاری کی طرف ملطفت نہ ہونے کی تیسری وجہ سب سے زیادہ ہولناک ہے۔۔۔ اور وہ یہ ہے کہ ہم پاکستانی من حیث القوم بے حس ہو چکے ہیں۔ سات عشرے کسی بھی قوم کی تاریخ میں کوئی کم عرصہ نہیں ہوتا۔۔۔۔ اسلامی تاریخ ہی کو لے لیں۔۔۔ آنحضور ؐ کا وصال 632ء میں ہوا۔ اس میں67سال کا اضافہ کر لیں کہ جو پاکستان کی طبعی عمر ہے تو یہ697ء کا سال بنتا ہے۔ اپنی تاریخ اٹھا کر دیکھیں تو مسلمانوں نے ساتویں صدی عیسوی کے اختتام سے پہلے پہلے جزیرہ نمائے عرب سے نکل کر کون کون سے ممالک فتح کر لئے تھے اور کون کون سی اقوام تھیں، جو مسلمانوں کی زیر نگیں ہو گئی تھیں۔ ایران، شام، روم،مصر، عراق، اردن اور یمن سب پر اسلامی پرچم لہرا دیئے گئے تھے اور پھر جب آٹھویں صدی عیسوی کا آغاز ہوا تھا تو 711ء میں ایک طرف طارق بن زیاد، دوسری طرف محمد بن قاسم اور تیسری طرف قتیبہ بن مسلم نے اندلس، ہندوستان اور ترکستان پر اِسی ایک سال میں(711ء میں) قبضہ کر لیا تھا۔

اب20ویں صدی کو لے لیں۔۔۔۔ اس میں بھی67سال جمع کر دیں۔ آپ دیکھیں گے کہ1901ء سے1967ء تک جرمنی نے دو بار عظیم فتوحات حاصل کیں۔ پھر دونوں بار اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی اور پھر دونوں بار اس نے سمندر کی طرح اپنی راکھ سے اپنی ایک نئی دنیا پیدا کی۔ یہی حال جاپان کا تھا۔ اس نے 1903-04 ء میں روس کو شکست دی اور پھر دوسری عالمی جنگ میں امریکہ کے دو جوہری بموں نے اس کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا لیکن اس نے چند برسوں بعد اپنے اس بگڑے ہوئے حلئے کو جس طرح سنوارا اور دنیا کا مقابل�ۂ حسن جیتا، وہ ابھی کل کی بات ہے۔۔۔ اور کل کی بات چین کی بھی ہے، جس نے گزشتہ66برسوں میں ایسی ترقی کی کہ دنیا موجودہ واحد سپرپاو کے مقابل خم ٹھونک کر کھڑا ہے۔مجھے معلوم نہیں کہ ہمارے پاکستان کو کیا عارضہ لاحق ہے کہ اپنے رفیع الشان اسلاف کی تاریخ بھی اس کو بیدار نہیں کر سکی۔ نجانے ہم پاکستانی۔ اصحابِ کہف کی طرح کب اور کس صدی میں جا کر جاگیں گے۔

اقبال کی یاد آ رہی ہے۔۔۔۔ وہ شاعرِ امید تھے۔ انہوں نے اپنے اصحابِ کہف کو جگانے کا بیڑا اٹھایا۔ جب قائداعظم ؒ ناامید ہو کر واپس انگلستان چلے گئے تو ان کو درخواست کی کہ واپس آ کر ان کی رہنمائی کریں، کوئی دوسرا اس بوجھ کو نہیں اٹھا سکتا۔ پھر جو کچھ ہوا وہ آپ سے پوشیدہ نہیں۔ اللہ کریم نے ہماری مدد کی اور ایک آزاد ملک عطا کر دیا اور پھر جو کچھ ہم نے اس آزاد ملک کے ساتھ کیا، وہ بھی آپ سے پوشیدہ نہیں۔ اقبال ؒ اور جناح اگر کہیں یورپ میں پیدا ہوئے ہوتے تو ان کا ملک نجانے آج کن رفعتوں کو چھو رہا ہوتا۔مجھے معلوم نہیں کہ مجھے یہ بات کہنے کی جسارت کرنی چاہئے یا نہیں کہ ہمارے ان دونوں عظیم رہنماؤں کی ساری کوشش اور کاوش رائیگاں گئی۔ جو لوگ اقبالؒ کی سوانح پر نظر رکھتے ہیں، ان کو معلوم ہو گا کہ اقبال ؒ اپنی زندگی کے آخری برسوں میں اصحابِ کہف سے کوئی ایسے پُرامید نہ تھے جو وہ اپنی جوانی یا ادھیڑ عمری میں تھے۔ ایم ڈی تاثیر جو شاعر مشرق سے ملاقاتیں کرتے رہتے تھے، انہوں نے اپنے مضامین میں اقبالؒ کی اس قلبی کیفیت کا اظہار کیا ہے۔’’مقالات ِ تاثیر‘‘ نامی کتاب میں تاثیر کے وہ مضامین دیکھے جا سکتے ہیں۔ اقبال ؒ کی تمام تر شاعری جہاں آرزوئے شوق اور امید پیہم سے لبریز ہے، وہاں ایسے اشعار بھی ملتے ہیں:

کہاں اقبال تو نے آ بنایا آشیاں اپنا

نوا اس باغ میں بلبل کو ہے سامانِ رسوائی

ستارے وادئ ایمن کے تو بوتا تو ہے لیکن

نہیں ممکن کہ پھوٹے اس زمیں سے تخمِ سینائی

قیامت ہے کہ فطرت سو گئی اہل ِ گلستان کی

نہ ہے بیدار دل پیری، نہ ہمت خواہ برنائی

لیکن اقبال ؒ اس کے بعد بھی ’’نغمہۂ بیدارئ جمہور‘‘ سنانے سے باز نہ آئے۔ ذوقِ نغمہ اگر کم تھا تو وہ اپنی نوا کو تیز ترکرتے رہے۔ لیکن ان کی وفات کے بعد جب ان کی خوابوں کو تعبیر مل گئی تو اول اول تو پاکستانیوں نے بیداری کا ثبوت دیا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ پھر اِسی گہری نیند میں چلے گئے جس سے جاگے تھے۔اب خوش قسمتی سے اس خواب ِ گراں سے بیدار ہونے کا ایک اور نادر موقع اس قوم کی دیوار پر لکھا نظر آ رہا ہے۔مَیں سمجھتا ہوں کہ دورِ حاضر میں میڈیا پاکستان کی سوئی ہوئی قوم کا صورِ اسرافیل بن سکتا ہے۔ ایسا ہونے کے آثار ہویدا ہو رہے ہیں۔ مَیں یہاں تک جانا چاہتا ہوں کہ قوم کا مقدر اب سیاسی رہنماؤں کے ہاتھوں میں کم اور ایک بے باک اور جارح میڈیا کے ہاتھوں میں زیادہ ہو گا۔

گزشتہ چند برسوں سے میڈیا (خاص طور پر الیکٹرانک میڈیا) جس تیزی سے ہماری روزمرہ زندگی کا جزو بنتا جا رہا ہے، وہ حیران کن ہے۔ عمران خان کے دھرنوں کی مقبولیت کا راز جہاں دھرنوں کی جدید Setting میں ہے، وہاں ان کی ذاتی خوبیوں میں بھی ہے۔ ان خوبیوں میں نمایاں ترین خوبی ان کا اندازِ بیان ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے بعد عمران خان دوسری پاکستانی شخصیت ہیں جو سامعین کو اپنی تقریر کے جادو میں اس طرح گرفتار کر لیتی ہے کہ وہ سمجھتے ہیں عمران خان کی آواز میں گویا ان کی اپنی آواز بول رہی ہے۔۔۔ مجھے اندیشہ ہے کہ اس سے زیادہ کہوں گا تو بعض لوگ مجھ پر وہی الزام لگائیں گے جس کا ذکر مَیں نے کالم کے آغاز میں کیا تھا۔۔۔ چنانچہ ’’علموں بس کریں او یار‘‘۔

مَیں میڈیا کی تاثیر اور اس کی رسائی کی بات کرتے ہوئے میڈیا مالکان اور میڈیا منیجروں سے درخواست کروں گا کہ وہ پاکستان کی سوئی ہوئی اور بے بس قوم کو جگانے میں وہی کردار ادا کریں، جو ایک صدی بیشتر برصغیر کے سیاسی رہنماؤں نے ادا کیا تھا۔ سمعی و بصری ٹیکنالوجی کی جدت نے میڈیا کے ہاتھ میں جادو کی چھڑی تھما دی ہے۔ 8دسمبر2014ء کے سانحے اور اس سے پہلے کئی سانحات و واقعات نے جس طرح منٹوں سیکنڈوں میں پوری قوم کو ہر کہانی کے کرداروں کو سنوانے اور دکھانے میں مستعدی کا مظاہرہ کیا وہ عصرِ حاضر کا ایک معجزہ ہے۔ ویڈیو فوٹیج کی شوٹنگ، اس کی پلے بیک اور فاسٹ فارورڈ ایسی ایجادیں ہیں جو کسی بھی جھوٹ کا پول کھول دیتی ہیں۔ لیکن میڈیا سے میری درخواست یہ بھی ہے کہ اگر اس کو قوم کی تعمیر میں مثبت شراکت مقصود ہے تو پول کھولنے ہی پر ساری توجہ مرکوز نہ کریں، بلکہ ناظرین و سامعین کو بتائیں کہ کاٹھ کی ہنڈیا بار بار نہیں چڑھ سکتی۔

مزید : کالم