سعید اجمل کے بعد محمد حفیظ!

سعید اجمل کے بعد محمد حفیظ!

پاکستان کرکٹ ٹیم کو جس روز نیوزی لینڈ کے خلاف ہوم سیریز کا پہلا ایک روزہ بین الاقوامی میچ کھیلنا تھا، اس سے صرف ایک روز قبل آل راؤنڈر محمد حفیظ کے باؤلنگ ایکشن کے نتیجے کا اعلان کر دیا گیا اور اسے غیر قانونی قرار دے دیا گیا سعید اجمل کے بعد یہ پاکستان کے دوسرے آف سپنر ہیں جو پابندی کی زد میں آئے ہیں۔یوں اب وہ ٹیم میں آل راؤنڈر کی بجائے ایک بلے باز کی حیثیت سے شرکت کر سکیں گے۔ اگرچہ محمد حفیظ کہتے ہیں کہ ان کے باؤلنگ ایکشن پر اعتراض کی نوعیت معمولی ہے وہ جلد ہی اسے ٹھیک کر لیں گے اور ورلڈکپ سے پہلے پہلے ٹیسٹ پاس کریں گے۔جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو یہ ایک کے بعد ایک المیے سے دوچار ہوتا ہے۔ ہاکی ہمارا قومی کھیل مانا جاتا ہے اور ماضی اتنا سنہرا ہے کہ اس پر فخر کیا جاتا ہے لیکن اب ٹیم کا یہ حال ہے کہ چیمپئن ٹرافی میں ٹیم اپنا پہلا میچ بلجیم جیسی کمزور ٹیم سے ہاری اور دوسرے میچ میں انگلینڈ نے اسے بکری بنا کر رکھ دیا، یوں ٹیم انتظامیہ اور ہاکی فیڈریشن کے تمام تر دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے۔ کرکٹ میں ہمارا یہ حال ہے کہ ٹیم کے بارے میں ہر وقت غیر یقینی رہتی ہے۔ دنیا کہتی ہے پاکستان ٹیم کچھ بھی کر سکتی ہے جیتا ہوا میچ ہار اور ہارا ہوا جیت سکتی ہے۔ حال ہی میں نیوزی لینڈ کے خلاف ٹیسٹ میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کے بعد ٹیم نے وہی کیا جو اس کا شیوہ ہے اور بری پرفارمنس کا تمغہ بھی حاصل کرلیا۔

کرکٹ اور ہاکی ہر دو کھیلوں میں سیاست گھسی ہوئی ہے اور یہ سیاست سینئر اور سابق کھلاڑیوں کی مہربانی سے پلئینگ الیون میں آتی ہے اور ٹیموں کے ڈریسنگ روم بھی اس سے مبرا نہیں ہیں۔ ہاکی فیڈریشن پر قبضہ کی کوشش نے تماشا بنایا تو کرکٹ میں بھی تاحال کوئی اچھا منتظم نہیں لگایا جا سکا، اسی وجہ سے کھلاڑیوں کی کارکردگی متاثر ہوئی کہ کپتان کے لئے رسہ کشی ہوتی رہی۔ میرٹ کو نظر انداز کرکے پسند ناپسند کی بنیاد پر کھلاڑی چنے جاتے ہیں جبکہ بورڈ اتنا کمزور ہے کہ بگ تھری کے معاملے میں شکست تسیلم کرنا پڑی۔ ایسا بورڈ اپنے کھلاڑیوں کا تحفظ کیسے کر سکتا ہے کہ آئی سی سی نے ایک کے بعد دوسرا کھلاڑی پابندی کی زد میں لیا ہم کچھ نہیں کر سکے اور پہلے سعید اجمل پر لاکھوں روپے کی محنت کروائی گئی اور اب محمد حفیظ کے حوالے سے بھی یہی ہوگا، بورڈ کو اب دونوں کھلاڑیوں کے باؤلنگ ایکشن کی درستی ہی پر محنت نہیں کرنا ہوگی بلکہ آئی سی سی کے سامنے ڈٹ کر موقف بھی پیش کرنا ہوگا، قوم ورلڈکپ میں بہترین کارکردگی چاہتی ہے، دعا ہے کہ جلد ہی ہر دو حضرات کا باؤلنگ ایکشن درست ہو اور یہ قوم و ملک کی خدمت کر سکیں۔ایک بات یہ بھی پیش نظر رہے کہ کھیلوں کے شعبے کے حوالے سے حکومت کا رویہ بھی حوصلہ افزاء نہیں ہے، ورنہ کھیلوں کی وزارت کو بہت زیادہ توجہ دینا چاہیے کہ کھیل بھی عزت کا باعث بنیں۔

مزید : اداریہ