سرینگر میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی تقریر مایوس کن تھی : انجینئر رشید

سرینگر میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی تقریر مایوس کن تھی : انجینئر رشید

 

سرینگر(کے پی آئی)عوامی اتحاد پارٹی کے سربراہ انجینئر رشید نے وزیر اعظم نرندر مودی کی سرینگر میں کی گئی تقریرکو مایوس کن قرار دیا ہی۔ اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا۔ نرندر مودی نے جہاں کشمیر میں آکر تعمیر و ترقی کی بات کی لیکن انہیں یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ صرف تعمیر ترقی سے کشمیریوں کا دل نہیں بہلایا جا سکتا۔جہاں گذشتہ تیس بر سوں میں کم از کم ایک لاکھ لوگ قبرستانوں کی نیند سو گئے ہوں وہاں تعمیر ترقی کو ئی معنی نہیں رکھتی ۔اگر مودی واقعی کشمیریوں کے دکھ درد کو بھانٹناچاہتے ہیں تو انہیں کشمیر کی سرزمین پر اعتراف کرلینا چاہئے کہ کشمیر تنازعہ ایک زندہ حقیقت ہے اور اس کا حل کئے بغیر نہ ہی خطے میں امن آسکتا ہے اور نہ ہی ہندوستان چین کی نیند سو سکتا ہے ۔

انجینئر رشید نے کہا کہ مودی جی کویہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ کشمیر ایک بین الاقوامی تنازعہ ہے اور اس سے فرار ممکن نہیں۔ کشمیری صرف تعمیر ترقی کے لئے نہ ووٹ دیتے ہیں اور نہ ہی ایک لاکھ لوگوں کی قربانی اس لئے دی ہے کہ انہیں تعمیر ترقی چاہئے ۔ انہوں نے کہا ۔ صرف ایک عدد فرن لگا کر نرندر مودی کشمیری نہیں بن سکتے بلکہ گجرات کے مسلمانوں کے قتل عام سے لیکر بابری مسجد کی شہادت تک کا BJPکا ہر ایک کار نامہ پوری دنیا کے سامنے موجود ہے اور ساتھ ہی اتر پردیس میں کچھ وقت پہلے جس طرح مودی جی نے مسلمان علما کی طرف سے پیش کی گئی ٹوپی پہنے سے انکار کر دیا تھا۔ فرن لگا کر وہ کشمیری ہونے کا دعوی نہیں کر سکتے ۔ مودی کی طرف سے یہ اعتراف کہ چھتر گام بڈگام میں فوج کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے نوجوان بے گناہ تھے پھر مودی جی کا یہ کہنا کہ تیس برسوں میں پہلی بار ایسے واقعے کے خلاف FIRدرج کی گئی ہے اس بات کا اعتراف ہے کہ کشمیر میں جو ہزاروں لوگ مارے گئے ان میں قاتلوں کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی گئی ۔ سانبہ میں نرندر مودی نے مغربی پاکستان سے آئے ریفوجیوں کو جس طرح شہریت دینے کا وعدہ کیا وہ کشمیریوں کے خلاف ایک گہری سازش ہے اور اس سے ہر حال میں ناکام بنایا جائے گا۔

مزید : عالمی منظر